رانا پھول خان مرحوم نے ایک بار غلام حیدر وائیں کو کیسے اوقات یاد دلا دی تھی ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ارشاد احمد عارف اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔رانا پھول خان ایک دن ایم اے پاس خاتون کو وزیر اعلیٰ کے پاس لے گئے کہ اسے کسی ادارے میں ملازمت دیدیں۔ وائیں صاحب میرٹ کے دلدادہ تھے اور میاں شہباز شریف کی مرضی و اجازت کے

بغیر ایک تنکا توڑنے کو گناہ سمجھتے تھے۔ جھٹ سے بولے رانا صاحب آپ کو علم ہے کہ ملازمت میرٹ پر ملتی ہے‘ سفارش پر نہیں‘ رانا صاحب یہ ٹکا سا جواب سن کر کہاں خاموش رہنے والے تھے‘ بولے وائیں صاحب کہاں کا میرٹ؟ میں پرائمری پاس ہوں اور آپ میٹرک‘ وہ بھی معلوم نہیں فیل یا پاس‘ آپ وزیر اعلیٰ ہیں اور مجھے آپ نے وزیر بنا رکھا ہے‘ ہم کون سے میرٹ پر ان عہدوں کے حق دار ہیں ‘یہ بے چاری تو پھر بھی ایم اے ہے‘ چھوڑیں میرٹ کی رٹ اور نوکری دیں‘ تحریک انصاف کی میرٹ لسٹ میں عثمان بزدار وزارت اعلیٰ کے لئے فٹ بیٹھتے ہیں اور جہانگیر ترین کو پانچ سال تک خیبر پختونخواہ میں کاروبار کرنے کے علاوہ حکومتی معاملات میں دخل اندازی کا حق تھا تو اب کون سی اڑچن پڑ گئی ہے ؎ ہیں آج کیوں ذلیل کہ کل تک نہ تھی پسند گستاخیٔ فرشتہ ہماری جناب میں! گزشتہ روز ایک ٹی وی چینل پر سینیٹر فیصل واوڈا کی گفتگو سن کر عمران خان کی سیاسی مشکلات کا سبب معلوم ہوا‘ موصوف نے ارشاد فرمایا کہ جہانگیر ترین کا گروپ ایک ایس ایچ او کی ۔۔۔۔۔۔۔ہے اور یہ بے چارے کہیں نہیں جا سکتے۔ یہ رعونت اور عامیانہ انداز گفتگو تحریک انصاف کی کشتی کا وہ بوجھ ہے جس نے پونے تین سال تک حکومت کو کولہو کا بیل بنائے رکھا‘حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ۔ سینٹ کے انتخابات سے سبق حاصل کرنے اور ارکان اسمبلی کو سینے سے لگانے کے بجائے انہیں عین اس وقت

زبان کے زخم لگائے جا رہے ہیں جب بجٹ سر پر ہے اور حکومت کا مستقبل چند ارکان اسمبلی کے ہاتھ میں‘ مرکز اور ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں دس بارہ ارکان کی بے اعتنائی وفاقی اور صوبائی حکومت کا دھڑن تختہ کر سکتی ہے مگر فیصل واوڈا جیسوں کی بلا سے‘بھگتنا تو عمران خان نے ہے ‘چند روز قبل وزیر اعظم کے ایک مشیر سے پوچھا کہ جہانگیر ترین گروپ کو راضی کرنے کے لئے کیا تگ و دو ہو رہی ہے تو موصوف کا جواب تھا کہ ’’ عمران خان کی یہی تو خوبی ہے کہ وہ کسی سے پریشرائز نہیں ہوتے‘ وہ حکومت کو گنوا دیں گے مگر پریشر میں نہیں آئیں گے‘‘سن کر حیرت ہوئی کہ ڈیڑھ پونے دو کروڑ ووٹروں کی تائید و حمایت اور پاکستانی نوجوانوں کی جدوجہد سے وجود میں آنے والی حکومت کو یہ لوگ گنوانا کتنا مفید‘ آسان اور قابل فخر سمجھتے ہیں‘ ذرا احساس نہیں کہ صرف پاکستان نہیں سپر پاورز کے حکمرانوں کو بھی وسیع تر قومی مفاد میں قدم قدم پر سمجھوتے کرنے پڑتے ہیں اور انا کی قربانی دینی ہوتی ہے۔ ویسے بھی قانون خداوندی یہ ہے کہ خلق خدا پر حکمرانی بطور انعام ملتی ہے یا بطور امتحان‘ جو اسے امتحان سمجھتے اور آزمائش پر پورا اترنے کی کوشش کرتے ہیں ان کے لئے حکومت انعام ثابت ہوتی ہے اور جو اسے انعام سمجھ کر کھیل تماشے میں مشغول ہو جاتے ہیں ان کے لئے امتحان بن جاتی ہے‘ فیصلہ حکمرانوں نے خود کرنا ہوتا ہے‘سامنے کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں حکمرانوں نے اقتدار کو انعام سمجھا اور وہ ان کے لئے ہی نہیں قوم کے لئے بھی امتحان ثابت ہوا۔

Comments are closed.