رمیز راجہ نے چیئرمین بنتے ہی کونسی بڑی غلطیاں کی ہیں ؟

لاہور(ویب ڈیسک) سابق کپتان وسیم اکرم نے کہا ہے کہ چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ کو بڑے فیصلوں میں عجلت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔وسیم اکرم کا کہنا ہے کہ کسی بھی ادارے کا کوئی نیا سربراہ آئے تو ابتدائی طور پر 2 یا 3ماہ تک صورتحال کا جائزہ لیتا ہے

، اس کے بعد تبدیلیوں کا عمل شروع ہوتا ہے لیکن رمیز راجہ نے خلاف معمول جلد ہی بڑے فیصلے کردیے۔انھوں نے کہا کہ یہ بات ماضی کی ہوچکی مگر کوچز مصباح الحق اور وقار یونس نے سخت محنت کی تھی اور ان کی کرکٹ کے لئے خدمات قابل تعریف ہیں رمیز راجہ کو اب سوچ سمجھ کر فیصلے کرنے کی ضرورت ہے بلاشبہ وہ بہت باصلاحیت ہیں۔دوسری جانب سابق ہیڈ کوچ مصباح الحق نے کہا ہے کہ پاکستان میں صرف نتیجے پر ہی توجہ دینا بڑا مسئلہ ہے، ہم اس سے آگے جاتے ہی نہیں اور نہ ہی کھلاریوں اور اسکلز میں بہتری پر توجہ دی جاتی ہے، جیسے ہی کسی ایک میچ یا سیریز میں شکست ہو تو خود کو بچانے کیلیے قربانی کے بکرے ڈھونڈنا شروع کردیتے ہیں، اگر ہم نے اسی طرح کاسمیٹک سرجری کا سلسلہ جاری رکھا تو کسی بھی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں آئے گی، آپ کوچز اور پلیئرز کو تبدیل کرسکتے ہیں مگر اصل مسائل بدستور موجود رہیں گے۔۔مصباح الحق نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کیلیے پی سی بی کی سلیکشن کمیٹی کی جانب سے تبدیلیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، جس کے تحت سینئر آل راونڈر شعیب ملک اور وکٹ کیپر بیٹسمین سرفراز احمد کی واپسی ہوئی تھی۔انھوں نے کہا کہ پہلے آپ نے ٹیم کیلیے تبدیلیاں کیں اور پھر چند روز بعد یوٹرن لے کر نکالے ہوئے کرکٹرز کو واپس لے آئے۔جبکہ پاکستان کرکٹ ٹیم کی وار م اپ میچ میں جنوبی افریقہ سے شکست پر سابق کرکٹرز نے کہا کہ قومی ٹیم کو غلطیوں سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے جنوبی افریقہ سے میچ میں باؤلرز نے آخری اوورز میں غیر معیاری باؤلنگ کامظاہرہ کیا جس کے باعث شکست کا سامنا کرنا پڑا راشد لطیف، باسط علی، معین خان، عمر گل،سلمان بٹ،عمران نذیر اور محمد یوسف نے کہا کہ پاکستان کی ٹیم نے وارم اپ میچ میں بڑا سکور کیا لگ رہا تھا کہ جیت پاکستان کی ہوگی کیونکہ پاکستانی باؤلنگ بھی مضبوط ہے آغازمیں باؤلرز نے اچھی باؤلنگ کی مگر آخری اوورز میں باؤلرز دباؤ میں نظر آئے ابھی وقت ہے کھلاڑی غلطیوں سے سبق سیکھیں اور آئندہ ایسی غلطیاں نہ دہرائیں جس کے باعث ٹیم کو شکست کا سامنا کرنا پڑے۔

Comments are closed.