روز روز کی چپقلشوں سے نجات : عمران خان کب اور کس کو فارغ کرنے والے ہیں ؟ صابر شاکر کی بریکنگ نیوز

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار صابر شاکر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔دو اڑھائی سال ہونے کو ہیں‘ امور چلائے جا رہے ہیں‘ گھر کا بہت بُرا حال ہو چکا تھا‘ جسے بڑی محنت سے ان مشکلات سے نکالنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ”پِیا جی‘‘ تجربہ کار ہونے

کے ناتے پوری سپورٹ کر رہے ہیں‘ ہر مشکل گھڑی میں ساتھ کھڑے ہیں‘ کورونا کا مسئلہ ہو یا ہمسایوں کی طرف سے چیلنج‘ سب ایک ساتھ ہم آواز کھڑے ہو کر مقابلہ کر رہے ہیں۔ نا تجربہ کاری کی وجہ سے امور چلانے میں‘ فیصلہ سازی میں‘ گرفت کرنے میں مشکلات ضرور ہیں‘ لیکن ابھی تک ”پِیا جی‘‘ کو کسی مسئلے پر ڈِچ نہیں کیا‘ معمولی نوعیت کے اختلافات کو مل بیٹھ کر حل کرنے کی کوشش کی گئی‘ گھر کو برباد کرنے والے تمام مافیاز پر ہاتھ ڈالا جا رہا ہے‘ سب اپنی اپنی جگہ ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں‘ لیکن ان کو قابو کرنا بدستور مشکل کام ہے‘ لیکن ناممکن نہیں۔ کْچھ مسائل ایسے ہیں جن کو حل کرنا ضروری ہے‘ کچھ لوگ اب بھی ایسے ہیں جن کی موجودگی ”پِیا جی‘‘ سے تعلقات خراب کر سکتی ہے اور وہ بدستور اپنی حرکتوں کی وجہ سے ”پِیا جی‘‘ کو دل گرفتہ کر رہے ہیں۔ گھر سب کا ہے گھر کو سیدھا کرنا ہے۔ اگر سابقین کو گھر برباد کرنے کی سزا دی گئی ہے تو موجودہ کو بھی گھر خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ”پِیا جی‘‘ کو راضی رکھنا ہے تو پھر بْرے لوگوں اور لگائی بْجھائی کرنے والوں سے چھٹکارا حاصل کرنا ہو گا‘ورنہ معاملات پھر خراب ہو جائیں گے۔اب گھر میں بھی اختلافات کی باتیں شروع ہو چکی ہیں‘ پہلے ایک آواز بلوچستان سے پھر دوسری آواز بھی بلوچستان سے اُٹھ چکی ہے‘ ٹیم کے دیگر ارکان آپس میں الجھ رہے ہیں اور الزامات عائد کر رہے ہیں

اور کْچھ حساس ترین مسئلوں کو بھی بار بار چھیڑا جا رہا ہے۔ رعایا کو روٹی روزی کے وسائل چاہئیں‘ ان سب کو حل کرنا گھر کے بڑے کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ ”پِیا جی‘‘ کو منانے کی سابقین پوری کوشش کر رہے ہیں‘ لیکن سابقین کو سمجھ نہیں آ رہا کہ وہ اپنے ناراض ”پیا‘‘ کو کیسے منائیں‘ اس کا دل کیسے جیتیں؟ ”پیا‘‘ کے من کی مَیل اور بددلی کو وہ کیسے دور کریں‘ وہ کبھی اپنے ”پِیا جی‘‘ کے بہت قریب ہوا کرتے تھے‘ دوبارہ کھویا مقام حاصل کرنے کے لیے ”پِیا جی‘‘ کورام کرنے کے لیے بڑے جتن کیے جارہے ہیں‘ لیکن ”پِیا‘‘ ہیں کہ ابھی نہیں مان رہے۔ اس لیے کہ ابھی موجود نے تمام کوتاہیوں کے باوجود بے وفائی نہیں کی۔ بائی پاس نہیں کیا‘ کسی اور سے نہ کالے سے نہ گورے سے پینگیں بڑھانے کی کوشش نہیں کی‘ لیکن ”پِیا جی‘‘ چاہتے ہیں کہ معاملات شفاف انداز میں اچھی ٹیم کے ساتھ چلائے جائیں اور جو لوگ مسائل پیدا کر رہے ہیں ان کو فارغ کر دیا جائے۔ باہمی چپقلشوں کو ختم کیا جائے اور ایسا کوئی کام نہ کیا جائے کہ ”پِیا جی‘‘ کے لیے بار اٹھانا مشکل ہو جائے۔ جس کے بعد گھر کے بڑے نے ملاقاتیں شروع کر دی ہیں‘ لیکچر دیا ہے‘ لیکن ٹیم ممبرز باز نہیں آرہے اور اپنے کپڑے سرِ بازار دھو رہے ہیں۔ اطلاعات یہ ہیں کہ سالانہ حساب کتاب سے فارغ ہو کر وہ نا پسندیدہ اور مسائل پیدا کرنے والوں کو ٹھکانے لگانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ گھر کے بڑے نے اپوزیشن اور اپنوں سے خطاب بھی کیا ہے‘ ان کے لب و لہجے میں پہلی بار ایک ٹھہراؤ دیکھا گیا۔ دھیمے لہجے میں بات کی گئی سابقین کو درخواست کی گئی‘ سابقین نے بھی پہلی بار ان کی تقریر کے دوران کوئی ہلہ گلہ نہیں کیا‘ لیکن دو باتیں وہ ایسی کر گئے ہیں کہ ان کی پکڑ ہو گی اور سوشل میڈیا کا سہارا بھی لیا جائے گا‘ دونوں باتیں ہی سنجیدہ اور حساس ہیں‘ لیکن ایک مسئلہ بہت زیادہ حساس ہے جس کی وضاحت نہ کی گئی تو معاملہ آگے بڑھے گا اور مشکلات بھی بڑھیں گی‘ دیکھئے کیا ہوتا ہے!(ش س م)

Sharing is caring!

Comments are closed.