روسی صدر پوٹن حیران کن بل منظور کر لیا

ماسکو (ویب ڈیسک )روس کے صدر ویلادیمیر پیوٹن نے سابق صدور کو تاحیات استثنیٰ دینے کے بل پر دستخط کر دیے۔ اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق آن لائن شائع ہونے والے بل کے متن میں کہا گیا ہے کہ بل کے تحت سابق صدور اور ان کے اہل خانہ کو ان کی زندگی میں

سرزد ہونے والے جرائم پر قانونی کارروائی سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔صدر کا دفتر چھوڑنے کے بعد تاحیات استثنیٰ کے ساتھ ساتھ وہ پولیس یا تفتیش کاروں کے سوالات، تلاشی اور گرفتاری سے بھی مستثنیٰ ہوں گے۔دوسری جانب ایوان زیریں میں ایک ایسا بل بھی منظور کیا گیا جس کے تحت میڈیا یا انٹرنیٹ پر نفرت انگیز کمنٹ یا الزامات لگانےپر گرفتاری ہوگی ،ادھر کسی کو بھی غیر ملکی ایجنٹ قرار دیا جاسکے گا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ قانون سازی اس آئینی ترمیم کا حصہ ہے جو رواں سال پیوٹن کو 2036 تک صدر رہنے کی اجازت کے لیے ملک بھر میں کی گئی ووٹنگ کے دوران منظور ہوئی تھی۔اس سے قبل سابق صدور کو صرف ان جرائم پر استثنیٰ حاصل تھا جو ان کی صدارت کے دوران سرزد ہوئے تھے۔اب نئی قانون سازی کے بعد اگر کسی سابق صدر کو غداری یا دیگر جرائم اور سپریم یا آئینی عدالت کی جانب کسی قسم کے جرم کی تصدیق کی گئی تو بھی انہیں استثنیٰ مل سکتا ہے۔پیوٹن کی جانب سے دستخط کیے گئے بل کے تحت سابق صدور کو اضافی طور پر فیڈریشن کونسل یا سینیٹ میں تاحیات رکنیت مل جائے گی، جو صدارت چھوڑنے کے بعد قانونی معاملات سے استثنیٰ کو یقینی بنانے کا عہدہ ہے۔گزشتہ ماہ مذکورہ بلوں کے حوالے سے میڈیا سے افواہیں گردش کرنے لگی تھیں کہ روسی صدر خرابی صحت کے باعث صدارت سے مستعفی ہو رہے ہیں تاہم کریملن نے ان کی خبروں کی تردید کردی تھی۔

Comments are closed.