رہنما پرویز ملک کا ایک صاحبزادہ کس ٹی وی چینل پر اینکر کی جاب کرتا ہے اور اسکا نام کیا ہے ؟

لاہور (ویب ڈٰسک) نامور کالم نگار نجم ولی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔سچ پوچھیے تو پرویز ملک کا خاندان ایک شاندار اورا ٓئیڈیل خاندان ہے۔ آپا شائستہ پرویز ملک اپنے اخلاق اور کردار میں ایک مثالی خاتون ہیں۔ ان کے صاحبزادے احمد پرویز سٹی فارٹی ٹو پر ہی پروگرام کرتے تھے

تو ان سے اکثر ملاقات ہوجاتی تھی، بہت سافٹ اورسلجھا ہوا نوجوان ہے۔ علی پرویز ملک، لاہور سے رکن قومی اسمبلی ہیں اور بہت مقبول ایم این اے ہیں۔ میں یہ کہہ رہا تھا کہ ایک طرف جسٹس قیوم تھے اور دوسری طرف ان کی ہمشیرہ کا تعلق پیپلزپارٹی سے وابستہ بڑے گھرانے سے تھا مگر انہوں نے مشکل ترین وقت میں بھی وفا نبھائی۔ اب اطلاعات ہیں کہ ان کی وفات سے خالی ہونے والے حلقے میں شائستہ آپا کو ٹکٹ دی جا رہی ہے جو بہترین انتخاب ہوسکتا ہے کہ مقابلہ جمشید اقبال چیمہ سے ہے جو حکومتی پارٹی کے ایک پوٹینشل کینڈیڈیٹ ہیں۔ شائستہ آپا وہ اس وقت خواتین کی نشست پر رکن قومی اسمبلی ہیں۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ جیت کرمخصوص نشست خالی کر دیں گی اور لاہور کینٹ سے نوازلیگ کی کارکن شکیلہ لقمان ایم این اے بن جائیں گی۔ ا س ٹکٹ کے حقدار نصیر بھٹہ بھی قراردئیے جاتے ہیں اور ایک مضبوط امیدوار عطا تارڑ بھی ہیں۔ تادم تحریر نواز لیگ کی طرف سے امیدوار کی نامزدگی نہ ہونا حکومتی پارٹی کو واک اوور دے رہی ہے جو دھوم دھڑکے سے انتخابی مہم شروع کر چکی ہے۔یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم بھی پرویز ملک کے بھائی ہیں اور ان کا اخلاق اور رویہ بھی مثالی ہے، وہ لاہور کے ہیلتھ رپورٹروں کے جگر جان ہیں۔ وہ اس سے پہلے علامہ اقبال میڈیکل کالج کے علاوہ پمز اسلام آباد کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔ پرویز ملک کا ایک تعارف بطور کاروباری شخصیت بھی تھا اور لاہور چیمبر کے تعاون سے’لبارڈ‘ جیسی تنظیم کے سربراہ کے طورپر بھی۔

یہ تنظیم معذوروں افراد کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرتی ہے اور ہزاروں معذور لوگوں کے لئے وہیل چئیرز کی فراہمی سمیت دیگر امور میں امداد کا ذریعہ بن چکی ہے۔مسلم لیگ نون کو این اے 133 کے الیکشن علاوہ لاہور کی صدارت کا مسئلہ بھی درپیش ہو گا۔پرویز ملک نے مشکل ترین وقت میں لاہور کو نواز لیگ کا گڑھ بنائے رکھنے میں اہم ترین کردارادا کیا۔ اب شنید ہے کہ یہ ذمے داری سیف کھوکھر کے پاس جا سکتی ہے کہ مریم نواز کا ووٹ مبینہ طور پر ان کے حق میں ہے اور دوسری طرف مجتبی شجاع الرحمان کا نام بھی اہم ہے کہ نواز لیگ کو ایک بڑا خاندان بھی چاہئے جو پیسے والا بھی ہوکہ سیاست غریب کے بس کی بات ہی نہیں رہ گئی۔ ایک تجویز یہ بھی رہی کہ لاہور کی صدارت کوپنجاب کی صدارت کے برابر کر کے حمزہ شہباز کو یہ ذمے داری دے دی جائے مگر سننے میں آیا ہے کہ انہوں نے اس تجویز کو پسند نہیں کیا۔ اسی طرح نام رانا مشہود احمد خان کا بھی زیر غور ہے مگر ان کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ لاہور کے بہت سارے کارکن ان سے نالاں ہیں۔ کچھ پارٹی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت لاہور کی انتظامی تقسیم کرتے ہوئے اسے دو حصوں میں تقسیم کر رہی ہے لہذا اب لاہور کے دو صدر اور دو جنرل سیکرٹری ہوں گے سو تجویز یہ بھی ہے کہ اس وقت تک یونہی کام چلایا جائے، پارٹی کے پاس ایک محنتی اور کمٹڈ جنرل سیکرٹری موجود ہے اور باقی احکامات توجاتی امرا سے ہی آنے ہیں۔اس تذکرے کا مطلب یہ ہے کہ پرویز ملک کی اچانک وفات نے پارٹی کوواقعی مشکل میں ڈال دیا ہے، ان جیسا ہمہ جہت اور ہمہ صفت بندہ ڈھونڈنا مشکل ہو رہا ہے۔ ان کی نماز جنازہ ان کے اخلاق، کردار اور مقبولیت کی گواہی دے رہی تھی جس میں ہر شعبہ زندگی کی نمائندگی تھی۔ اللہ تعالیٰ ان کے حق میں دعائیں قبول فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے، آمین۔

Comments are closed.