سابق آئی جی پولیس ذوالفقار احمد چیمہ کا اعلیٰ عدلیہ کو اہم مشورہ

لاہور (ویب ڈیسک) میں جانتا ہوں کہ موجودہ حکومت اپنے تمام وسائل اور ساری توانائیاں صرف اپنی بقاء (survival) کے لیے صرف کررہی ہے، اسے عدلیہ یا پولیس میں کسی قسم کی اصلاحات میں کوئی دلچسپی نہیں مگر میں دردِ دل رکھنے والے پاکستانیوں، قانونی حلقوں اور پڑھے لکھے قارئین کو Sensitise کرنے کے لیے

اعلیٰ عدلیہ میں تقررّی کی تجاویز پیش کررہا ہوں۔نامور کالم نگار اور سابق پولیس افسر ذوالفقاراحمد چیمہ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری صاحب سمجھتے تھے کہ وکلاء نے تحریک چلا کر انھیں اپنے عہدے پر بحال کرایا تھا لہٰذا وہ وکلاء کو اپنا محسن سمجھتے تھے۔ اس لیے ان کے دور میں بار ایسوسی ایشنز اور بار کونسلوں کے عہدیداروں کو جج مقرر کرنے کا رجحان بڑھا تھا مگر اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ جو وکلاء الیکشن کے لیے دوسرے وکلاء سے ووٹ مانگتے ہیں اور ان کے زیرِ احسان ہوتے ہیں، ان کے لیے جج بن کر اپنے تعلقات اور دوستیوںکو فراموش کرنا اور غیر جانبدار بننا ممکن نہیں ہوتا۔اس لیے سیاست میں حصّہ لینے والے وکیل کبھی اعلیٰ پائے کے جج ثابت نہیں ہوئے، وہ جج صاحبان جو آمریّت کے سامنے دیوار بن کر کھڑے ہوئے، جنھوں نے عوام کے بنیادی حقوق کی پاسداری کی اور landmark فیصلے لکھے، جن میں جسٹس کارنیلیس، ایم آر کیانی، شفیع الرحمان اور جسٹس صمدانی جیسے قابل اور باضمیر جج قابلِ ذکر ہیں، وکلاء میں سے نہیںتھے بلکہ وہ ICSیا سول سروس آف پاکستان میں سیلیکٹ ہوئے اور بعد میں اُس وقت کے قانون کے مطابق عدلیہ میں شامل ہوگئے۔لہٰذا اِن حقائق اور شواہد کے پیشِ نظر میری دانست میں سول سروس اور پولیس سروس آف پاکستان کی طرز پر جوڈیشل سروس آف پاکستان قائم کی جائے، جس کے لیے قانون کی ڈگری رکھنے والے نوجوان مقابلے کا امتحان پاس کرنے کے بعد سینئر سول جج کے

طور پر منتخب کیے جائیں اور بیس بائیس سال کی نوکری کے بعد انھیں ہائیکورٹ کا جج مقرر کیاجائے۔ ہائیکورٹس میں پچاس فیصد اسامیاں جوڈیشل سروس آف پاکستان کے ذریعے پُر کی جائیں۔سول ججز کے لیے بھی امتحانات کا سلسلہ جاری رہے اور ان میں سے اُن سیشن ججز کو ہائیکورٹ کا جج مقرر کیا جائے جن کی دیانتداری مسلّمہ ہو۔ ان کا کوٹہ پچّیس فیصد رکھّا جائے اور پچّیس فیصد ججزاُن سینئر اور نیک نام وکلاء میں سے لیے جائیں جنھوں نے کبھی کسی الیکشن میں حصّہ نہ لیا ہو۔ منصبِ قضا پر تعیّناتی کے لیے برطانیہ کے لَیجنڈری جج لارڈ ڈیننگ کے بقول سب سے زیادہ اہمیّت بے داغ اور مضبوط کردار کو دی جانی چاہیے۔اگر قوم چاہتی ہے کہ ہماری عدالتوں سے انصاف کی کِرنیں پھوٹیں، اور اعلیٰ عدالتیں موثر انداز میں آئین کی پاسبانی اور شہریوں کے بنیادی حقوق کی نگہابی کریں تو پھروکلاء اور جج صاحبان کو کھلے دل کے ساتھ یہ تجاویز قبول کرنے میں کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ پرانی ڈگر سے ہٹنا ذرا مشکل تو ہوتا ہے کہ دانائے راز نے کہا ہےآئین نَو سے ڈرنا، طرزِ کہن پہ اَڑنا۔۔۔منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں

Comments are closed.