سابق آرمی افسر نے پاکستانیوں کو خوشخبری سنا دی

لاہور (ویب ڈیسک) بھارت کا طویل المدتی منصوبہ تھیوریم سے بھاری پانی بنانے تک کی صلاحیت حاصل کرنا ہے۔ جس کا پہلا مرحلہ بھاری پانی کے ری ایکٹر لگانا ہے جن میں قدرتی یورینیم بطور ایندھن استعمال کی جا سکتی ہے تا کہ اس سے حاصل شدہ پلوٹونیم کو ابتدائی طور پر بجلی کی پیداوار کے لئے

نامور مضمون نگار بریگیڈئیر ریٹائرڈ سائمن سیمسن اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ استعمال کیا جا سکے۔ دوسرے مرحلے میں نیوٹران ری ایکٹر کا استعمال ہو گا جس میں تھیوریم کے ساتھ یورینیم بھی استعمال کی جا سکے۔ تاکہ اعلیٰ معیار کے پلوٹونیم حاصل ہو سکے۔ 2017ء میں بھارت نے حکومتی سرپرستی میں کام کرنے والی نیو کلیئر پاور کارپوریشن کو بھاری پانی کے 10 ری ایکٹر بھارت میں تیار کرنے کا گرین سگنل دیا تھا۔ بھارت کو نیو کلیئر سپلائی گروپ کی طرف سے نیم افزودہ یورینیم عالمی مارکیٹ سے حاصل کرنے کی سہولت بھی میسر ہے۔ بھارت روس سے تھرڈ جنریشن کے ہلکے پانی کا ری ایکٹر حاصل کر کے کندن کولام میں پاور پلانٹس میں لگا چکا ہے جن میں سے اکثر پرانی ٹیکنالوجی پر مشتمل ہیں اور ان کا پاکستان کے ہائو لانگ ٹیکنالوجی سے تقابل نہیں۔ تیسری دنیا کے ترقی پذیر ملک پاکستان کی کامیابیوں سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ سٹیٹ آف آرٹ ٹیکنالوجی اور اس میں جدت کے اہداف صرف اور صرف سرکاری سرپرستی میں چلنے والے ادارے ہی حاصل کر سکتے ہیں۔ پاکستان اٹامک انرجی اور اس کے زیر انتظام چلنے والے تمام ادارے پاکستان کی تینوں افواج کی زیر نگرانی میں کام کر رہے ہیں ۔ جنگی جہاز بنانے ،ٹینک بنانے والی فیکٹریاں اور سیٹ آف آرٹ کمیونی کیشن سہولیات اور میزائل پروگرام ایسے اہداف سب کچھ سرکاری اداروں نے نہایت ہی کم بجٹ میں حاصل کیے ہیں،ان پاکستانی اداروں نے پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنا دیا ہے۔ جبکہ پاکستان کی معیشت ان اداروں کے ہم قدم چلنے کی صلاحیت نہیں رکھتی ۔ پاکستان آٹو موبائل کارپوریشن‘ پاکستان سٹیل ملز، پاکستان ریلوے اور پی آئی اے ایسے اداروں سے قوم نے بہت سی توقعات وابستہ کر رکھی تھیں مگر یہ تمام ادارے بد انتظامی لالچ اور بدعنوانی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔

Comments are closed.