سابق آرمی افسر کی خصوصی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) چار پانچ ماہ سے ساری دنیا کے ساتھ پاکستان کی فضاؤں پر بھی کورونا کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ بعض حکومتی اہلکار یہ بیان دے کر ’سرخرو‘ ہو جاتے ہیں کہ دنیا کے کئی ممالک گھنگھور گھٹاؤں کی زد پر ہیں لیکن پاکستان ان چند خوش نصیب ملکوں میں شامل ہے

پاک فوج کے ایک سابق اعلیٰ افسر اور نامور کالم نگار لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔جہاں مطلع صرف ابر آلود ہے، بادل برستے تو ہیں لیکن موسلا دھار بارشیں فی الحال ہماری فضاؤں سے دور ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اپوزیشن بہت حیران ہے کہ حکومت کے خلاف ایسے بیانیے کہاں سے لائے جن سے پی ٹی آئی کی سبکی ہو سکے۔ لے دے کے گندم،چینی، آٹے اور دال چاول کا بحران ان کو سیاسی سٹیج پر زندہ رکھے ہوئے ہیں۔گزشتہ ایک سال گیارہ ماہ میں عمران کی حکومت نے جو میگا پراجیکٹ شروع کئے ہیں اور ماضی کی سیاسی میگا چوریوں کا جو پردہ چاک کیا ہے، اس کی طرف کم توجہ دی جاتی ہے۔الیکٹرانک میڈیا فی الحال اس امید پر زندہ ہے کہ موجودہ سیاسی سیٹ اپ زیادہ سے زیادہ تین سال اور چل سکے گا۔ یہی وجہ ہے کہ بلاول اور شہباز کی تان اسی مطالبے پر جا کر ٹوٹتی ہے کہ وزیراعظم اور حکومت کو مستعفی ہو جانا چاہیے۔ عمران،اپوزیشن کا مین (Main)ٹارگٹ ہے لیکن لوگ اب پاکستان اور پنجاب میں ”مائنس ون“ کی طرف کوئی کان نہیں دھرتے۔چند لوگ ہیں جو سابق حکومتوں کے ادوار میں ککھ پتی سے لکھ پتی بلکہ ارب پتی بن گئے۔ لیکن اب ان کے محلات مسمار ہونے جا رہے ہیں۔ میڈیا فی الحال کسی نہ کسی طرح آنے والے تین برسوں میں اپنی سابقہ روایات برقرار رکھنے کے پروگرام پر قائم ہے۔ لیکن اس کو بدلتی رُت کا ادراک نہیں ہو رہا۔ وابستہ مفادات طرحِ نو کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہیں۔ لیکن دنیا میں آج تک جتنے بھی انقلابات آئے ہیں ان کو اول اول سخت مخالفت کا سامنا ہوا ہے۔ مخالف نہ ہو تو موافقت کا طول و عرض محدود رہتا ہے اور اس کی تاثیر بھی دیرپا نہیں ہوتی۔ پاکستان جنوبی ایشیاء کا ’مردِ بیمار‘ بن کر رہ گیا تھا۔ اسے پھر سے توانا اور تندرست بنانے میں وقت تو لگے گا…… ہمیں اس وقت کا انتظار کرنا ہوگا اور حکومت کو مزید وقت دینا ہوگا۔ مولانا فضل الرحمن اگر ”مزید وقت“ دینے کے حق میں نہیں تو یہ پاکستان کے لئے ایک نیک فال ہے۔

Comments are closed.