سابق آرمی چیف جنرل (ر) مرزا اسلم بیگ کی معلوماتی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) ایس ایس جی (اسپیشل سروسز گروپ) امریکا نے سوویت یونین کی وجہ سے بنایا تھا‘ امریکی کرنل ڈان نبٹے آیا‘ پورے پاکستان کا دورہ کیا اور افغانستان کے نزدیک چراٹ اور اٹک قلعہ کا انتخاب کیا‘ ایوب خان کے دور میں انٹیلی جینس کی رپورٹ آئی‘نواب آف دیر نے افغانستان کے ساتھ مل کر 25 ہزار جوانوں

کا لشکر تیار کیا ہے۔ہمیں ریاست دیر پر ایکشن کا حکم ہوا‘ فوج گئی تو پتا چلا تمام اطلاعات غلط تھیں‘ نواب آف دیر اپنی فیملی کے ساتھ اکیلا تھا اور اس نے مزاحمت کے بغیر گرفتاری دے دی‘نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ جنرل صاحب نے انکشاف کیا‘ پشتون روایات ہیں یہ لوگ جب ناراض ہوتے ہیں تو یہ ہتھیار لے کر پہاڑوں پر چلے جاتے ہیں‘ ہم اسے بغاوت سمجھتے ہیں اور ان کے خلاف فوجی ایکشن شروع کر دیتے ہیں‘ ہم نے یہ غلطی قبائلی علاقوں میں بھی کی اور بلوچستان میں بھی‘ امریکیوں نے 2005میں جنرل پرویز مشرف کو بتایا تھا تم پر اٹیک بیت اللہ محسود نے کیا اور وہ وزیرستان میں ہے۔یہ انفارمیشن دھوکا تھی‘ جنرل مشرف نے قبائلی علاقوں میں ایکشن شروع کر دیا‘ آخر میں جامعہ حفصہ کی بچیوں کو بھی نشانہ بنا دیا دیا اور یوں پورے ملک میں بدامنی شروع ہو گئی‘ جنرل اسلم بیگ نے لکھا‘ پاکستان کی کل آبادی کا 53 فیصد مشرقی پاکستان میں رہتا تھا‘ 1970 کے الیکشنز کے بعد حکومت شیخ مجیب الرحمن کا حق تھا لیکن ہم نے یہ حق نہ دے کر ملک توڑ دیا‘ ہم نے مشرقی پاکستان میں شروع سے نفرت کے جذبات پیدا کر دیے تھے‘ وہ تین اطراف سے بھارت میں گھرا ہوا تھا‘ ساڑھے چار ہزار کلومیٹر سرحد تھی لیکن پورے مشرقی پاکستان کی حفاظت کے لیے صرف ایک ڈویژن فوج تھی‘ 1964 کے الیکشنز میں بنگالیوں نے محترمہ فاطمہ جناح کا ساتھ دیا‘ وہ مشرقی پاکستان میں بہت مقبول تھیں‘ انھیں دھاندلی کے ذریعے ہرایا گیا جس سے مشرقی پاکستان میں بددلی پھیل گئی۔

Comments are closed.