سابق امریکی صدر باراک اوباما کی کتاب میں ناقابل یقین انکشاف

لاہور(ویب ڈیسک)امریکا کے سابق صدر باراک اوباما نے اپنی نئی کتاب ’اے پرامسڈ لینڈ‘ میں لکھا ہے کہ بدامن جماعت کے سابق سربراہ اسامہ والے واقعہ (ایبٹ آباد اٹیک ) کے بعد سے مشکل فون کال کی توقع پاکستان سے کر رہا تھا لیکن ہوا بالکل اس کے برعکس۔پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں نیوی سیلز کے

واقعہ میں بدامن جماعت کے سابق سربراہ اسامہ کے واقعہ کے حوالے سے باراک اوباما نے اپنی نئی کتاب میں لکھا کہ میرا خیال تھا سب سے مشکل فون کال پاکستانی صدر آصف زرداری کو ہو گی کیونکہ اس واقعے کے بعد ان پر پورے ملک سے دباؤ ہو گا کہ پاکستان کی سالمیت کی تضحیک ہوئی ہے۔سابق امریکی صدر نے اپنی کتاب میں مزید لکھا کہ میں توقع کر رہا تھا کہ آصف زرداری کو کال کافی مشکل ہو گی لیکن جب میں نے ان سے رابطہ کیا تو ایسا بالکل نہیں تھا، آصف زرداری کا کہنا تھا کہ جو بھی رد عمل ہو، یہ بہت خوشی کی خبر ہے۔اوباما نے اپنی کتاب میں لکھا کہ صدر آصف زرداری اس فون کال پر واضح طور پر جذباتی تھے اور انھوں نے اپنی اہلیہ بینظیر بھٹو کا بھی ذکر کیا جنھیں زندگی سے محروم کر دیا گیا تھا۔اس کتاب کے دیباچے میں سابق امریکی صدر باراک اوباما نے لکھا کہ جب انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی دور صدارت کی داستان تحریر کریں گے تو ان کا خیال تھا کہ وہ 500 صفحات پر مبنی کتاب ہو گی جسے وہ سال بھر میں مکمل کر لیں گے لیکن مزید تین سال اور 200 مزید صفحات کے باوجود ان کی کہانی کا صرف پہلا حصہ ہی مکمل ہوا ہے۔یہ کتاب باراک اوباما کے بچپن سے لے کر ان کے پہلے دور صدارت کے سب سے اہم واقعے مئی 2011 میں اسامہ والے واقعہ تک کے واقعات تک محدود ہے۔باراک اوباما اپنی آپ بیتی کا دوسرا والیم لکھ رہے ہیں لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ اس کی اشاعت کب ہو گی۔سات جلدوں اور 27 ابواب پر مشتمل کتاب کا آخری باب اسامہ بن لادن پر پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں کیے گئے اٹیک اور اس کی منصوبہ بندی کے بارے میں ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *