سابق امریکی صدر کو بڑی خوشخبری سنا دی گئی

واشنگٹن (ویب ڈیسک) سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ چھ جنوری کو کیپٹل ہل پر ہنگامہ آرائی اور ہجوم کو اکسانے کے الزام پر مواخذے کے مقدمے سے بری ہو گئے ہیں۔ امریکی سینیٹ ان پر الزامات ثابت کرنے اور ان کے خلاف مواخذے کی کارروائی کرنے میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

امریکی ایوان نمائندگان میں سات ریبپلکن سینٹرز سمیت 57 سینیٹرز نے انھیں سزا دینے کے حق میں ووٹ دیا جبکہ 43 سینیٹرز نے اس کے خلاف ووٹ ڈالا۔ صدر ٹرمپ کو سزا دلوانے کے لیے کل 67 ووٹوں کی ضرورت تھی تاہم دس ووٹوں کی کمی سے انھیں الزامات سے بری کر دیا گیا ہے۔اپنی بریت کے بعد، سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے اس مقدمے کی مذمت کی اور کہا کہ ‘ یہ تاریخ کی سب سے بڑی الزام تراشی ہے۔’واضح رہے کہ یہ ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کا دوسرا مقدمہ تھا۔ اگر انھیں سزا مل جاتی تو امریکی سینیٹ انھیں دوبارہ صدارتی انتخاب لڑنے سے روکنے کے لیے ووٹ دے سکتی تھی۔ٹرمپ کے خلاف مواخذے کے مقدمے کی کارروائی میں ووٹنگ کے عمل کے بعد کانگریس میں ریپبلکن کے سنیئر رکن سینیٹر مچ میک کونل کا کہنا تھا کہ ‘مسٹر ٹرمپ کیپیٹل پر دھاوے کے لیے ‘ذمہ دار’ تھے۔’ انھوں نے اسے ایک’شرمناک اور رسوائی والی پامالی’ قرار دیا ۔ اس سے قبل انھوں نے ان کی سزا کے خلاف یہ کہتے ہوئے ووٹ دیا تھا کہ یہ غیر آئینی ہے اور ٹرمپ اب صدر نہیں رہے ہیں۔ میک کونل صدر ٹرمپ کے 20 جنوری کو عہدہ چھوڑنے کے تک ان کے مقدمے کی سماعت میں تاخیر کرنے میں معاون تھے۔ تاہم انھوں نے خبردار کیا تھا کہ ٹرمپ کو تاحال عدالت میں قصور وار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ وہ ابھی بھی کسی چیز سے بچے نہیں ہیں، ہمارے ملک میں انصاف و عدالت کا نظام موجود ہے۔ ہماری ملک میں دیوانی مقدمات کا نظام ہے اور سابقہ صدور اس میں سے کسی کے لیے جوابدہ ہونے سے مستثیٰ نہیں ہیں۔’اپنے اختتامی بیانات میں، ڈیموکریٹک ایوان نمائندگان کے سینیٹ کے ذریعہ اس عمل کی نگرانی کے لیے مقرر قانون سازوں نے متنبہ کیا ہے کہ مسٹر ٹرمپ کو بری کردینا خطرناک ہوگا۔ نمائندہ جو نیگوس کا کہنا تھا کہ ‘ اس سے زیادہ خراب صورتحال نہیں ہو سکتی کیونکہ سخت اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ چھ جنوری کو جو ہوا وہ دوبارہ بھی ہوسکتا ہے۔’نمائندے میڈیلین ڈین نے کہا ،’تاریخ نے ہمیں ڈھونڈ لیا ہے۔ میں پوچھتا ہوں کہ آپ دوسری طرح سے کیوں نہیں دیکھتے ہیں۔’ انھوں نے کہا کہ ‘یہ مواخذہ شروع سے آخر تک ایک فضول ڈرامہ رہا ہے۔یہ سارا تماشہ حزب اختلاف کی پارٹیکی طرف سے مسٹر ٹرمپ کے خلاف دیرینہ سیاسی انتقامی جدوجہد کے سوا کچھ نہیں رہا۔’ مسٹر ٹرمپ نے خود کہا کہ ‘کوئی بھی صدر اس سے پہلے کبھی اس سے نہیں گزرا’ اور یہ کہ ‘امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے کی تحریک ابھی شروع ہوئی ہے۔’

Comments are closed.