سابق جج رانا شمیم نے ثاقب نثار کے خلاف بیان دباؤ میں آکر دیا یا نہیں ؟

لندن (ویب ڈیسک) لندن میں گلگت بلتستان کے سابق چیف جسٹس رانا شمیم کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار، نواز شریف اور مریم نواز کے متعلق حلف نامے کی تصدیق اور اس پر دستخط کرنے والے نوٹری پبلک نے کہا ہے کہ ریٹائرڈ پاکستانی جج نے لندن میں 10؍ نومبر 2021ء کو میرے روبرو حلف نامہ ریکارڈ کرایا تھا۔

دی نیوز اور جیو نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے لندن کے نوٹری پبلک چارلس گُتھری نے تصدیق کی کہ جسٹس (ر) رانا شمیم نے میرے سامنے حلف نامہ ریکارڈ کرایا اور میں نے ہی حلف نامے پر دستخط کیے تھے۔ چارلس گتھری نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ انہوں نے پاکستانی ہائی کمیشن کیلئے اُس وقت کام کیا تھا جب پاناما کیس میں جے آئی ٹی تشکیل دی گئی تھی اور نیب کو عدالتوں میں پیش کرنے کیلئے لندن سے مصدقہ دستاویزات کی ضرورت تھی۔ ریٹائرڈ جج کے بیان کے حوالے سے چارلس نے کہا کہ میں تصدیق کرتا ہوں کہ یہ دستاویز درست اور اصل ہے۔ رانا شمیم نے بیان دیا تھا کہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے سپریم کورٹ کے رجسٹرار اور ساتھ ہی اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک جج کو حکم دیا تھا کہ مریم نواز اور نواز شریف کو 2018ء کے عام انتخابات کا انعقاد ہونے تک ضمانت پر رہا نہ کیا جائے۔ سابق جج کے اس بیان پر پاکستان میں طوفان برپا ہوگیا ہے۔ چارلس نے بتایا کہ اپنا حلفیہ بیان تصدیق کیلئے جمع کراتے وقت رانا شمیم تنہا تھے۔ لندن کے نوٹری پبلک کمشنر نے مزید کہا کہ ریٹائرڈ جج بیان ریکارڈ کراتے وقت کسی دبائو کا شکار نہیں تھے۔ انہوں نے رضاکارانہ طور پر حلفاً بیان دیا۔ چارلس گتھری نے تصدیق کی کہ انہوں نے ہی نواز شریف کی طبی دستاویزات کی تصدیق کی تھی جنہیں پاکستان کی عدالتوں میں پیش کیا گیا تھا۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ انہوں نے 2017ء میں ایوین فیلڈ کیس میں نوٹری پبلک اور نوٹری پبلک کمشنر فار اوتھ کی حیثیت سے انگلینڈ اینڈ ویلز کی حد میں حکومت پاکستان کیلئے پاکستانی ہائی کمیشن کی درخواست پر برطانوی دستاویزات کی تصدیق کی تھی۔