سابق جج شوکت صدیقی سپریم کورٹ میں پھٹ پڑے

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) برطرف جج شوکت عزیز صدیقی دوران سماعت روسٹرم پر آ کر جذباتی ہو گئے اور کہا میں توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتا تو کیا ہوتا، اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار میرے اوپر بیٹھے تھے۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں برطرف جج شوکت عزیز صدیقی کیس کی سماعت ہوئی

جس میں جسٹس مظہر عالم خیل نے استفسار کیا صرف شوکت عزیز صدیقی کو ہی کیوں ٹارگٹ کیاگیا؟ جس پر وکیل حامد خان نے بتایا شوکت صدیقی ایک ادارے کوتنگ کرتے تھے اس لیے ٹارگٹ کیا گیا۔جسٹس طارق مسعود نے کہا جب ملاقات کی کوشش ہوئی تو توہین عدالت نوٹس کیوں نہ کیا، جج پر اثر انداز ہونے کی کوشش پرتوہین عدالت نوٹس بنتاتھا۔جسٹس طارق مسعود کا کہنا تھا کہ آپ نے کسی چیف جسٹس کو اطلاع بھی نہیں دی، یہ بتا دیں کیا یہ آپ کا مس کنڈکٹ نہیں تھا، جس پر وکیل حامد خان کا کہنا تھا کہ نوٹس نہ کرنے پربرطرف نہیں کیاجاسکتا، اس وقت چیف جسٹس کو خط لکھا تھا، اس پر سپریم کورٹ کو توہین عدالت نوٹس دینا چاہیے تھا۔جسٹس سردار طارق نے استفسار کیا خط لکھنے کیلئے ایک ماہ تک انتظار کیوں کیا؟ سابق جج شوکت عزیز صدیقی روسٹرم پر آ کر جذباتی ہو گئے اور کہا میں توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتا تو کیا ہوتا، اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار میرے اوپر بیٹھے تھے۔شوکت عزیز صدیقی کا کہنا تھا کہ اس کے بعد آپ مجھے تختہ دار کی سزا دینا چاہیں تو دے دیں، 23سال بطوروکیل، 7 سال بطور جج،3سال بطورسائل ہوگئے، میں اس نظام کو بہت اچھے سے سمجھتا ہوں۔