سابق وزیرداخلہ رحمان ملک نے زبردست مشورہ دے دیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک)سابق وزیرِداخلہ اور چئیرمین انسٹیٹیوٹ آف ریسرچ اینڈ ریفارمز (آئی آر آر) سینیٹر رحمان ملک نے وزیراعظم عمران خان کی طرف سےکالعدم تحریک تالبان پاکستان کے کچھ گروپس کو بات چیت اور عام معافی کی پیشکش پر ردعمل کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک تالبان پاکستان اور دیگر شرپسند د تنظیموں

سے بات چیت کرتے ہوئے پاکستان کی سالمیت، خودمختاری، آئین اور قانون پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہئے، پاکستانی تالبان نے کبھی بھی معاہدوں کی پاسداری نہیں کی بلکہ بات چیت کے دوران وقت کا فائدہ لیتے ہوئے خود کو مضبوط کرتےاور مذموم کارروائیاں جاری رکھتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق رحمان ملک کا کہنا تھا کہ کالعدم تحریک تالبان اور دیگر شرپسند تنظیموں کے وہ عناصر جو منفی نظریات سے منحرف ہو کر پاکستان کے آئین و قانون کے مطابق چلنا چاہتے ہیں اِن کو مرکزی دھارے میں لانا خوش آئند تو ہے لیکن جو عناصر بدامنی میں ملوث رہے ہیں انکو عام معافی آئین اور قانون پاکستان کے منافی ہے۔سینیٹر رحمان ملک نے مطالبہ کیا کہ ٹی ٹی پی پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے دوران افغان تالبان کے سامنے نورستان میں اپنے ہتھیار ڈال دے اور آئسز سے علیحدگی کا اعلان بھی کرے،کالعدم تحریک تالبان سے آرمی پبلک سکول پشاور میں ہونے والے سانحہ کا حساب لیا جائے اور واقعے کی تحقیقات کیجائے کہ اس واردات کے پیچھے کونسے عناصر کارفرما تھے کیونکہ بچوں کے والدین آج بھی انصاف کے منتظر ہیں اور تفصیلات جاننا چاہتے ہیں، محترمہ بینظیر بھٹو پر ہونیوالے اٹیک میں زندہ بچنے والا شرپسند اکرام اللہ اسوقت تحریک تالبان پاکستان کی اعلٰی قیادت کا حصہ ہے، حکومت تحریک تالبان پاکستان اور افغانستان سے اسکے حوالگی کا مطالبہ کرے۔ رحمان ملک نے کہا کہ قوم ملالہ یوسفزئی پر اٹیک کی حقائق جاننا چاہتی ہے، تالبان سےمذاکرات کے دوران ان سے اس واقعہ کی تفصیلات معلوم کی جائیں، رحمان ملک نے کہا کہ کہیں کالعدم تحریک تالبان پاکستان بذریعہ افغان تالبان پاکستان کو بات چیت میں مصروف رکھ کر مذموم واقعات جاری رکھنے کا منصوبہ نہ رکھتے ہوں کیونکہ ماضی میں تجربہ رہا ہے کہ تالبان کبھی بھی امن کی طرف بڑھنے میں مخلص نہیں پائے گئے ہیں۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی قدم قانون اور آئین پاکستان کے منافی نہ اٹھایا جائے ۔

Comments are closed.