سابق چیف جسٹس ارشاد حسن کی کتاب سے کچھ انکشافات

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ارشاد بھٹی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔ایک کتاب (ارشاد نامہ ) پڑھ کر پتا چلا کہ ارشاد حسن سپریم کورٹ کے جج تھے مگر انہیں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ بنا دیا گیا، اسی کتاب سے پتا چلا کہ جسٹس ارشاد حسن کو لاہور ہائیکورٹ

کا چیف جسٹس بنانے کی بات کرتے ہوئے وزیراعظم بینظیر بھٹو نے بات یوں شروع کی’’ ارشاد صاحب آج کل لاہور ہائیکورٹ کے حالات اچھے نہیں، بعض وکلا بھری عدالت میں جج صاحبان کی بے عزتی کرتے ہیں، جب میرے والد پیش ہوئے تھے تب کسی وکیل کی جرأت نہیں تھی کہ چیف جسٹس مولوی مشتاق حسین کی عدالت میں اونچی آواز میں بولے بلکہ میرے والد کو بھی پوری طرح نہیں سناگیا‘‘اور اسی کتاب سے پتا چلا کہ بینظیر بھٹو کے جہانگیربدرکو جج بنانے کی بات دراصل مذاق تھی ،ہوا یوں کسی تقریب کے دوران بینظیر بھٹو نے پوچھا کہ جہانگیر بدر کہاں ہیں، انہیں بتایا گیا کہ وہ سپریم کورٹ گئے ہوئے ہیں ،اس پر بی بی نے مذاقاً کہا کیوں نہ انہیں سپریم کورٹ کا چیف جسٹس بنا دیا جائے ،یہ محض مذاق تھا سپریم کورٹ چھوڑیں وہ ہائیکورٹ کے جج بننے کی اہلیت پر پورا نہیں اترتے تھے، اسی کتاب میں جہاں وہ بتاتے ہیں کہ رفیق تارڑ نوٹوں کا بریف کیس لیکر ججز خریدنے کوئٹہ نہیں گئے تھے وہاں یہ بھی بتاتے ہیں کہ چیف جسٹس پاکستان کا حلف لینے سے پہلے صدر رفیق تارڑ کہنے لگے ’’ارشاد،اللہ کی شان دیکھو کہ مجھے آپ سے حلف لینا پڑ رہا ہے ‘‘۔آپ جسٹس ارشاد حسن خان کے پرویز مشرف کو 3سال دینے پر اعتراض کر سکتے ہیں ،جسٹس سعید الزمان صدیقی کے انکار کے بعدان کے پی سی اوکے تحت حلف اُٹھانے پر اعتراض کر سکتے ہیں ،ان کی اس منطق کو رد کر سکتے ہیں کہ میں نے پی سی اوکے تحت حلف آزاد عدلیہ،فوج کو بیرکوں میں بھجوانے اور جمہوریت بچانے کیلئے لیا مگر یہ کتاب پڑھتے ہوئے آپ قدم قدم پر فضلِ خدا اور ایک یتیم سائیکل سوار کی محنت ،قابلیت کے قائل ہوجائیں گے ۔

Comments are closed.