سابق چیف جسٹس ثاقب نثار بھی بول پڑے

اسلام آباد (ویب ڈیسک) سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ انہیں چیئرمین نیب کے عہدے میں دلچسپی نہیں ہے جب کہ وزیراطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے چیئرمین نیب کے عہدے کے لیے کوئی نام تجویز نہیں کیا گیا۔اس حوالے سے میڈیا رپورٹس درست نہیں

جب کہ ن لیگ کے سینئر رہنما خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ پارٹی نے ناصر محمود، آفتاب سلطان اور ھشام بن صدیق کے نام تجویز کیے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق، چیئرمین نیب کے عہدے کے لیے موزوں شخص کی تلاش جاری ہے۔ میڈیا میں حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے مجوزہ امیدواروں کے نام گردش کررہے ہیں۔ تاہم، سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے واضح طور پر کہا ہے کہ انہیں چیئرمین نیب کے عہدے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نہ ہی ان سے کسی نے رابطہ کیا ہے اور نہ ہی انہیں کسی سرکاری عہدے میں دلچسپی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میں چیئرمین نیب کے عہدے کے لیے دستیاب نہیں ہوں۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ اگر کسی حکومتی عہدیدار نے ان سے رابطہ کیا یا انہیں چیئرمین نیب کے عہدے کی پیش کش کی تو کیا وہ اسے قبول کرلیں گے؟ تو ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی بھی حکومتی عہدے کے لیے دستیاب نہیں ہیں چاہے وہ چیئرمین نیب کا عہدہ ہو یا کوئی دوسرا عہدہ ہو۔ گزشتہ چند دنوں سے میڈیا پر متعدد نام اس حوالے سے گردش کررہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے مجوزہ ناموں میں سابق سیکرٹری یوسف نسیم کھوکھر، سابق سیکرٹری وزارت مذہبی امور کیپٹن (ر) سردار اعجاز احمد خان جعفر اور سابق ڈی جی، ایف آئی اے محمد آملش شامل ہیں۔ جب کہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مجوزہ چار ناموں میں سابق سیکرٹری خزانہ سلمان صدیق، سابق چیف سیکرٹری پنجاب ناصر محمود کھوسہ، جسٹس (ر) دوست محمد اور سابق سیکرٹری خارجہ امور جلیل عباس جیلانی کے نام شامل ہیں۔ جب کہ سوشل میڈیا پر گزشتہ چند روز سے یہ قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ حکومت، چیئرمین نیب کے عہدے کی پیش کش ، سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو کرنا چاہتی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ عمران خان موجودہ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کو ہی عہدے پر برقرار رکھنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

Comments are closed.