سابق کرکٹر جلال الدین نے یادگار واقعہ شیئر کر ڈالا

لاہور (ویب ڈیسک) نامور صحافی عبدالرشید شکور اپنے ایک آرٹیکل میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔20 ستمبر 1982 کو پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی کم ہیوز کی آسٹریلوی ٹیم حیدرآباد کے نیاز سٹیڈیم میں پہلا ون ڈے انٹرنیشنل کھیل رہی تھی۔ یہ 40 اوورز کا میچ تھا، پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے چھ

وکٹوں پر 229 رنز بنائے جس میں محسن خان کی سنچری قابل ذکر تھی۔آسٹریلیا نے 230 رنز کے ہدف کا تعاقب بڑے پُراعتماد انداز سے کیا۔ اوپنرز گریم ووڈ اور بروس لیئرڈ کی شراکت میں 104 رنز بن گئے۔ اس موقع پر آف سپنر توصیف احمد نے دونوں اوپنرز اور پھر کپتان کم ہیوز کو آؤٹ کر کے پاکستان کی میچ میں واپسی کی راہ ہموار کی۔157 کے مجموعی سکور پر ایلن بارڈر کی قیمتی وکٹ میڈیم فاسٹ بولر جلال الدین نے حاصل کی، مگر یہ صرف ابتدا تھی اصل ڈرامہ تو ابھی ہونا باقی تھا۔جلال الدین آسٹریلوی اننگز کا 37 واں اور اپنا ساتواں اوور کروانے آئے۔اس اوور کی چوتھی گیند پر وکٹ کیپر راڈنی مارش تیز ہٹ لگانے کی کوشش میں بولڈ ہو گئے۔ پانچویں گیند پر بروس یارڈلے نے وکٹ کیپر وسیم باری کو کیچ اپنا تھما دیا۔ اوور کی چھٹی گیند کا سامنا کرنے والے فاسٹ بولر جیف لاسن تھے، جنھیں جلال الدین نے بولڈ کر دیا۔یہ ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ کی پہلی ہیٹ ٹرک تھی جس کا اعزاز ایک پاکستانی بولر کے حصے میں آیا۔جلال الدین نے برسوں پرانی یادوں کو پھر سے تازہ کیا ہے۔وہ بتاتے ہیں کہ ’تیز ہوا کی وجہ سے گیند موو ہو رہی تھی، جس کا فائدہ مجھے ہوا۔ ہیٹ ٹرک بال پر مجھے کسی نے کچھ نہیں بتایا کہ کس طرح کی گیند کرنی ہے، نہ ہی کوئی خاص فیلڈ سیٹ کی گئی۔ میرے پرجوش ضرور تھا کیونکہ میں اس سے قبل فرسٹ کلاس کرکٹ میں بھی ہیٹ ٹرک کر چکا تھا ۔ جیف لاسن نے میری اندر آتی ہوئی گیند پر لائن مِس کی،

وہ بیک فٹ پر گئے اور بولڈ ہو گئے۔‘جلال الدین کہتے ہیں ’اگر آپ اس ہیٹ ٹرک کی ویڈیو دیکھیں تو آپ کو نظر آئے گا کہ اس ہیٹ ٹرک کے مکمل ہونے پر ساتھی کھلاڑیوں نے میری تعریف ضرور کی لیکن غیرمعمولی جوش و خروش کا اظہار نہیں کیا تھا، جیسا کہ آج کل جب بولر ہیٹ ٹرک کرتا ہے تو اس کے بعد نظر آتا ہے۔۔۔ لیکن ایسا اُس وقت نہیں ہوا تھا، سب کچھ نارمل تھا۔‘جلال الدین بتاتے ہیں کہ ’میں ہسٹری میکر (تاریخ رقم کرنے والا) تھا لیکن مجھے یہ بات بالکل معلوم نہیں تھی کہ میں ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میں ہیٹ ٹرک کرنے والا دنیا کا پہلا بولر ہوں۔ یہ بات مجھے اگلے دن ڈان اخبار کے کھیلوں کے صفحے میں شائع ہونے والی خبر سے پتہ چلی تھی۔‘جلال الدین بتاتے ہیں ’مجھے آسٹریلیا کے خلاف اُس میچ میں کھیلنے کا موقع صرف اس وجہ سے مل گیا تھا کیونکہ کپتان عمران خان نے یہ میچ کھیلنے سے منع کر دیا تھا۔ اگر وہ یہ میچ کھیل جاتے تو میں باہر ہوتا اور یہ تاریخ بھی رقم نہ ہوتی۔‘جلال الدین کہتے ہیں ’1982 میں عمران خان کی قیادت میں پاکستانی ٹیم نے انگلینڈ کا دورہ کیا تو مجھے سرفراز نواز اور طاہر نقاش کے ان فٹ ہونے کی وجہ سے ہیڈنگلے ٹیسٹ میں بلا لیا گیا تھا، لیکن عمران خان نے احتشام الدین کو مجھ پر ترجیح دی تھی جو میچ کے دوران بری طرح ان فٹ ہو گئے تھے۔ اس دورے کے بعد آسٹریلوی ٹیم پاکستان آئی تھی۔ میں نے اُس کے خلاف ملتان کے سہ روزہ میچ کی پہلی اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کی تھیں۔‘وہ بتاتے ہیں کہ ’آسٹریلیا کے خلاف سائیڈ میچ میں پانچ وکٹیں اور ون ڈے میں ہیٹ ٹرک کرنے کے بعد میں نے لاہور کے دوسرے ون ڈے میں بھی اچھی بولنگ کی اور دو وکٹیں حاصل کیں لیکن تیسرے ٹیسٹ کے لیے اعلان کردہ ٹیم میں میرا نام شامل نہیں تھا بلکہ مجھے کہا گیا کہ آپ گھر چلے جائیں۔‘’میں کراچی آیا ہی تھا کہ دوبارہ لاہور پہنچنے کے لیے کہا گیا، میں جب لاہور پہنچا تو عمران خان نے مجھے دیکھتے ہی کہا آپ کو کس نے گھر بھیج دیا تھا آپ کا لاہور ٹیسٹ کھیلنے کا چانس ہے۔ میں نے اپنے اولین ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں تین اور دوسری اننگز میں دو وکٹیں حاصل کیں۔ مجھے یاد ہے کہ عمران خان نے مجھ سے کہا تھا کہ آپ اپنی فیلڈنگ بہتر کر لیں میں آپ کو 1983 کے عالمی کپ میں بھی موقع دوں گا۔ عمران خان کی سب سے اچھی بات یہ تھی کہ وہ اگر کسی کھلاڑی کو کھلاتے تھے تو پورا پورا موقع دیتے تھے۔‘

Comments are closed.