سالوں بعد تہلکہ خیز انکشاف

ممبئی (ویب ڈیسک) بولی وڈ کی’ٹریجڈی کوئین‘ نے مہ جبیں بانو کے نام سے کیرئیر کا آغاز کیا تھا اور پھر جب ’مینا کماری‘ بنیں تو ایک عالم ان پر فدا ہوا۔ مینا کماری نے ’بیجو باورا،‘ ’کوہ نور،‘ ’صاحب بی بی اور غلام،‘ ’آزاد،‘ ’دل اپنا اور پریت پرائی‘ اور ’پاکیزہ ‘

جیسی شہرہ آفاق فلموں کی مرکزی اداکارہ بن کر دلوں پر حکمرانی کی۔ وہ 12 بار بہترین اداکارہ کے لیے فلم فئیر ایوارڈز میں نامزد ہوئیں اور چار مرتبہ سرخرو ہو کر ہر اداکارہ کے لیے مثال بن گئیں۔ نرگسکا مینا کماری سے گہرا یارانہ تھا اور دونوں پکی سہلیاں تصور کی جاتی تھیں۔ مینا کماری نرگس کو ’ باجی‘ کہہ کر مخاطب کرتیں اور دونوں گھرانوں کے خاندانی مراسم تھے۔لیکن جب مینا کماری کا 38 برس کی عمر میں انتقال ہوا تھا تو جہاں ہر ایک آنکھ نم تھی وہیں نرگس نے رندھی ہوئی آواز سے صرف یہ کہہ کر ’مینا موت مبارک ہو‘ سب کو حیران کن کردیا۔اس وقت کے فلمی جرائد اور اخبارات نے بھی اس واقعے کو نمایاں انداز میں پیش کیا۔ یہ تنازع شدت اختیار کرتا جا رہا تھا اور پھر نرگس نے آخر کار خاموشی توڑ ہی ڈالی۔ اس واقعے کے تین مہینے بعد جون 1972میں نرگس کا خصوصی مضمون بھی شائع کیا گیا۔نرگس نے مضمون میں مینا کماری کی درد بھری بیماری اور المیہ زندگی کے بارے میں تفصیل سے تحریر کیا۔نرگس نے مضمون کا آغاز ہی ان الفاظ سے کیا کہ ’آپ کو موت مبارک ہو ۔ آپ کی بڑی بہن آپ کی موت پر مبارک باد پیش کرتی ہے۔ آپ سے کہتی ہوں کہ اس دنیا میں میں پھر کبھی نہیں آئیےگا۔ کیونکہ یہ آپ جیسے لوگوں کے لیے نہیں ہے۔نرگس کا کہنا تھا کہ کمال امروہوی کے ساتھ ناکام ازوداجی زندگی گزارتے گزارتے مینا کماری مختلف ذہنی بیماریوں کا شکار ہوچکی تھیں۔مینا کماری کی کثرت مے نوشی کی خبریں عام ہوئیں ، یہ وہ دور تھا جب مینا کماری، کمال امروہوی سے خفا ہو کر بہن کے پاس آکر رہنے لگی تھیں اور یہ فیصلہ کر چکی تھیں کہ اب دوبارہ لوٹ کر کمال امروہوی کے گھر نہیں جائیں گی۔

Comments are closed.