سانحہ موٹروے پر پوراپاکستان تفتیشی افسر ، آخر کیوں ؟

اسلام آباد (ویب ڈیسک)اسلام آباد ہائی کورٹ نے سانحہ تیز گام ایکسپریس کی تحقیقات کیلئے دائر درخواست پر فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔ دوران سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے کہ استعفیٰ اخلاقی بنیادوں پر دیا جاتا ہے پاکستان میں ابھی اخلاقیات

اس سطح تک پہنچی نہیں، کیس پر وزارت داخلہ اپنی انکوائری کر رہی ہے، پولیس اپنی اور ریلوے اپنی انکوائری کر رہی ہے۔ جمعہ کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس محسن اختر کیانی نے سانحہ تیز گام ایکسپریس کی تحقیقات کیلئے دائر درخواست پر سماعت کی۔دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ وزیر ریلوے کا حادثے پر جو طرز عمل رہا اُس پر انہیں استعفیٰ دینا چاہیے تھا جس پر جسٹس محسن اختر نے کہا کہ اگر طرز عمل پر استعفیٰ دینا پڑا تو اس وقت سارے وزراء کو استعفیٰ دینا پڑیگا۔ انہو ں نے ریمارکس دیئے کہ استعفیٰ ہمیشہ اخلاقی بنیادوں پر دیا جاتا ہے، اور پاکستان میں ابھی اخلاقیات اس سطح تک نہیں پہنچیں۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ موٹر وے کی بھی ساری تحقیقات میڈیا میں ہی ہو رہی ہے، پورا پاکستان ہی اس معاملے پر تفتیشی افسر بنا ہوا ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.