ساڑھی پہنے مریم نواز کی خوبصورت تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل

لاہور (ویب ڈیسک)خواتین کی عمر اور خوش لباسی کی بحث نے مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز شریف کی اپنے بیٹے جنید صفدر کی شادی کی تصاویر منظر عام پر آنے کے بعد ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔مریم نواز کی جانب سے اس تقریب کو نجی معاملہ قرار دینے کے باوجود سوشل میڈیا پر

پہلے ان کے گانے اور اب ان کے پہناوے زیر بحث ہیں۔مریم نواز کے بیٹے کی شادی کی تقریبات پر ان کی تصاویر سوشل میڈیا پر آئیں تو بھانت بھانت کے مشورے اور خیالات سامنے آئے۔بہت سے لوگوں کی جانب سے مریم نواز سے متعلق کہا گیا کہ پیسہ آنے سے پہناوے کا ڈھنگ نہیں آ جاتا تو کسی نے لکھا کہ ‘لو بھلا یہ عمر ہے مریم کی ایسے سجنے سنورنے کی۔’یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ تنقید کے ساتھ ساتھ مریم نواز کی خوش لباسی کی تحسین کے پیغامات کی بھی سوشل میڈیا پر بہتات تھی۔تنقید اور تحسین کے اس دائرے میں سیاسی وفاداریوں کا کتنا کردار تھا، اس پر بحث مقصود نہیں۔ بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستانی معاشرے میں خواتین سے ایک مخصوص طرز عمل کی توقعات کیوں ہیں؟ اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ انفرادی طرز عمل کو تنقید کا نشانہ بنانا کیوں ضروری ہوتا ہے؟ٹوئٹر کی ایک صارف، جو ڈریگانوو کے نام سے جانی جاتی ہیں، نے مریم نواز کی ایک تصویر پر لکھا کہ ‘دو قسم کی ساسیں ہوتی ہیں۔ ایک ہوتی ہیں نارمل جو دلہے کی گریس فل (پروقار) ادھیڑ عمر ماں کی طرح پیش آتی ہیں اور ایک وہ جو چاہتی ہیں کہ دلہن ان کے سامنے پھیکی نظر آّئے۔ ان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہی ساری تقریب کی نگاہ کا مرکز بنیں۔’ڈریگانوو نامی اس صارف نے اپنی پہلی ٹویٹ کچھ گھنٹوں بعد حذف کر دی اور اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انھیں کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑا،

پاکستانی معاشرے کی اس سوچ کی عکاسی کی جس کے مطابق ادھیڑ عمر خواتین کو ایک مخصوص طرز کا ہی لباس پہننا چاہیئے کیوں کہ یہ عمر اور رشتے کا تقاضا ہوتا ہے۔اس سوچ کا دوسرا رخ سوشل میڈیا پر ان پیغامات کی شکل میں سامنے آیا جن میں نا صرف مریم نواز کی تعریف کی گئی بلکہ اس سوچ کو بھی نشانہ بنایا گیا جو خواتین اور مرد حضرات کو مختلف پیمانوں سے ناپتا ہے۔اریبہ شاہد نے لکھا کہ اگر مریم نواز ان تصاویر میں جوان نظر آ رہی ہیں تو اس میں حرج ہی کیا ہے۔ انھوں نے دعوی کیا کہ وزیر اعظم عمران خان بھی تو بوٹوکس کا استعمال کرتے ہیں۔’سیاسی اختلافات ایک طرف لیکن ہم خواتین کے لیے مردوں کی نسبت مختلف پیمانہ کیوں رکھتے ہیں؟’کنول احمد کہتی ہیں کہ کسی کو خواتین کے اچھے دکھنے سے کیا مسئلہ ہو سکتا ہے؟ ‘یہ ضروری نہیں کہ ایک خوش لباس عورت کسی سے مقابلہ ہی کر رہی ہو جب وہ دراصل صرف اپنی پسندیدہ لال لپ سٹک لگانا چاہتی ہے۔’صارف مہرین کسانہ نے لکھا کہ مریم نواز نے کم عمری میں شادی کی، اپنا خیال رکھا اور اب وہ ان تصاویر میں لطف اندوز ہوتے نظر آ رہی ہیں تو اس میں برا کیا ہے۔جب کہ ایشا نے لکھا کہ جب ایک مرد کم عمر خوبصورت لڑکیوں میں توجہ لیتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ اس کی وجہ اس کی بیوی ہے جو اپنا خیال نہیں رکھتی اور جب ایک عورت اپنا خیال رکھے تب بھی اسے ہی نشانہ بنایا جاتا ہے۔

Comments are closed.