ساڑھے تین سال بعد پرویز خٹک کی وزیراعظم عمران خان سے ناراضگی اور تلخ جملوں کا اصل مقصد کیا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور صحافی عزیز اللہ خان بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔’کسی سیاستدان کو اپنی قدرو قیمت کا اندازہ ہوتا ہے تو وہ اس بنیاد پر بات کرتا ہے چاہے آگے عمران خان جیسا وزیر اعظم ہی کیوں نہ ہو، اور پرویز خٹک کو اپنی حیثیت کا علم ہے،

وہ سیاسی چالوں کے ماہر بھی جانے جاتے ہیں۔‘یہ مؤقف بیشتر تجزیہ کار اور سیاستدان پیش کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وزیر دفاع پرویز خٹک سیاسی حوالے سے نا صرف ’مضبوط ہیں بلکہ وہ وقت پر مناسب فیصلے کرنے کے بھی ماہر ہیں‘۔تجزیہ کاروں کے بقول جمعرات کو تحریک انصاف کے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں وزیر دفاع پرویز خٹک نے جو مؤقف اختیار کیا وہ انتہائی اہم تھا اور اس سے پہلے بھی وہ مضبوط مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں لیکن وہ اس کا کھلے عام اظہار کم ہی کرتے ہیں۔جمعرات کو وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں وزیر دفاع پرویز خٹک سمیت تحریک انصاف کے سینیئر رہنماؤں اور وزیراعظم عمران خان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا تھا۔اس اجلاس میں پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی نور عالم خان نے بھی پرویز خٹک کی طرح کا مؤقف اختیار کیا تھا لیکن پرویز خٹک کی طرح ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے سامنے اس کا کھل کر اظہار نہیں کیا اور کہا کہ وہ باہر چلے گئے تھے۔بقول پرویز خٹک کے انھوں نے اجلاس میں صوبے میں گیس کی مسائل پر بات کی تھی اور یہ کہ جماعت میں وہ اپنے مؤقف کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔مبصرین کے مطابق اس مؤقف نے وزیر اعظم عمران خان کو کم از کم سوچنے پر مجبور ضرور کر دیا ہوگا۔یہاں ہم پرویز خٹک کی طرز سیاست پر نظر دوڑاتے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ لگ بھگ ساڑھے تین سال کی

حکومت کے بعد اب پرویز خٹک کا ایسا رویہ اختیار کرنے کا کیا مقصد ہو سکتا ہے۔پرویز خٹک کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ کے گاؤں مانکی شریف سے ہے۔ ان کے والد حستم خان خٹک اپنے زمانے میں مشہور سرکاری ٹھیکیدار سمجھے جاتے تھے۔پرویز خٹک 1950 میں پیدا ہوئے اور انھوں نے عملی سیاست کا آغاز سنہ 1983 میں نوشہرہ سے ضلع کونسل کے انتخاب میں حصہ لے کر کیا اور ممبر منتخب ہوئے۔ وہ سنہ 1988 میں پہلی مرتبہ پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے نوشہرہ سے صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔تاہم بعد میں اختلافات کے باعث انھوں نے پیپلز پارٹی چھوڑ کر اس وقت کی پیپلز پارٹی شیرپاؤ میں شمولیت اختیار کرلی لیکن وہاں بھی وہ زیادہ دیر نہیں رہ سکے اور سنہ 2012 میں انھوں نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کر دیا۔پرویز خٹک تقریباً چالیس برس کی سیاسی زندگی میں اب تک پانچ مرتبہ صوبائی اور ایک مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب چکے ہیں۔ وہ تین مرتبہ صوبائی وزیر کے عہدوں پر بھی رہ چکے ہیں اور ایک مرتبہ وزیر اعلیٰ کے عہدے پر بھی فائز رہے ہیں۔ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں پرویز خٹک 2002 کے بلدیاتی انتخابات کے نتیجے میں ضلع نوشہرہ کے ناظم بھی منتخب ہوئے۔پاکستان تحریک انصاف سنہ 2018 کے انتخابات کے نتیجے میں اقتدار میں آئی اور اس انتخاب میں پرویز خٹک نے صوبائی اسمبلی اور قومی اسمبلی کی دونوں نشستیں جیتی تھیں اور ان کی خواہش تھی کہ وہ ایک مرتبہ پھر خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ بنیں۔

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار عقیل یوسفزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ جماعت کے اندر پرویز خٹک انتخابات کے بعد سے خوش نہیں تھے اور عمران خان کے ساتھ ان کے یہ اختلافات اس وقت سے جاری تھے۔ان کا کہنا تھا کہ پرویز خٹک ایک مرتبہ پھر چاہتے تھے کہ انھیں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نامزد کیا جائے جبکہ عمران خان انھیں مرکز میں لانا چاہتے تھے۔عام انتخابات کے بعد وزارت اعلیٰ کے امیداروں میں اسد قیصر، عاطف خان اور مشتاق غنی شامل تھے۔تجزیہ کار علی اکبر کے مطابق جب محمود خان کو وزیر اعلیٰ نامزد کیا گیا تو پرویز خٹک نے وفاقی وزارت داخلہ کا عہدہ حاصل کرنا چاہا لیکن ان کی خواہش پوری نہ ہو سکی اور ان کے حصے میں وزارت دفاع آئی۔قومی سطح پر حکومت سازی کے لیے 2018 میں تحریک انصاف کو کم نشستیں ملی تھیں اس لیے پرویز خٹک کو بھی مرکز میں لایا گیا تھا۔ عقیل یوسفزئی کے مطابق صوبے میں محمود خان کو وزارت اعلیٰ کے منصب پر بٹھانے میں پرویز خٹک کا ہاتھ تھا لیکن پرویز خٹک یہ عہدہ حاصل نہ کرنے کی وجہ سے خوش نہیں تھے۔اگر 2018 کے بعد سے پرویز خٹک کی جماعت کے لیے کوششیں اور ان کا کردار دیکھیں تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ وہ ایک وقت میں جماعت کے گول کیپر کا کردار بھی ادا کرتے ہیں اور جماعت پر گول کی کوششیں روکنے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر وہ سینٹر فارورڈ بھی ہوتے ہیں، جہاں انھوں نے دوسری جماعت پر گول کرنا ہوتا ہے۔

عقیل یوسفزیی کے مطابق جماعت جب بھی مشکل میں ہوتی ہے تو وہ وہاں پرویز خٹک اپنا کردار ادا کرتے ہیں اس لیے پرویز خٹک اس وقت عمران خان کی ’مجبوری‘ بھی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں جماعت کی شکست کے بعد حالات بہتر بنانے کا کردار بھی عمران خان نے پرویز خٹک کو دیا ہے۔ماہرین کے مطابق اس سے پہلے اگر اپوزیشن کے ساتھ کسی بھی مسئلے پر بات چیت کرنا مقصود ہوتی تھی تو پی ٹی آئی میں پرویز خٹک ان چند ایسی شخصیت میں سے ہیں جو اپوزیشن سے بات چیت اور ان سے مذاکرات کرنے کا کردار ادا کر سکتے ہیں اور انھوں نے ایسا کیا بھی ہے۔اسی طرح اتحادی جماعتوں سے جہاں بات چیت مقصود تھی، جیسے ایم کیو ایم کے قائدین کو راضی کرنے کے لیے پرویز خٹک مذاکرات کے لیے گئے تھے۔ اس کے علاوہ بلوچستان نینشل پارٹی کے رہنماؤں سے بات چیت کے لیے بھی پرویز خٹک کا انتخاب کیا گیا تھا۔عقیل یوسفزئی کے مطابق جماعت میں پرویز خٹک اور شاہ محمود قریشی دو سینیئر سیاستدان ہیں، ’جن کی اپنی حیثیت ہے اور ان کی بات میں وزن ہوتا ہے‘۔انھوں نے بتایا کہ ان کی اطلاع کے مطابق عمران خان اور پرویز خٹک کے درمیان اختلاف ختم کرانے کے لیے رابطے بھی ہوئے ہیں۔سینیئر صحافی حامد میر نے عاصمہ شیرازی کے پروگرام میں کہا کہ پرویز خٹک ’جہاں دیدہ اور دور اندیش سیاستدان ہیں اور ایسے سیاستدان اپنے اشاروں سے اہم پیغامات دے دیتے ہیں‘۔ان کا کہنا تھا کہ اس اجلاس سے پہلے بھی

پرویز خٹک کی وزیر اعظم سے ملاقات ہوئی تھی۔ان کا دعویٰ ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید سیاستدان بھی پرویز خٹک کی طرح کا رویہ یا مؤقف اختیار کر سکتے ہیں۔سینیئر تجزیہ کار اور ڈان ٹی وی کے بیورو چیف علی اکبر نے بی بی سی کو بتایا کہ پرویز خٹک کوئی عام سیاستدان نہیں ہیں بلکہ ان کی ایک سیاسی تاریخ ہے اور وہ پیپلز پارٹی اور اس کے بعد آفتاب شیرپاؤ گروپ میں رہے ہیں۔اس وقت بھی ان کے خاندان کے آٹھ سے دس افراد مختلف اسمبلیوں میں موجود ہیں۔علی اکبر کے مطابق پرویز خٹک ’سیاسی سطح پر انتہائی متحرک رہتے ہیں اور انھیں یہ علم ہوتا ہے کہ کس وقت کیا چال چلنی ہے اور کس طرح اپنی اہمیت کو برقرار رکھنا ہے‘۔پرویز خٹک بھی ان دنوں میں ایچیسن کالج میں تعلیم حاصل کر رہے تھے جب عمران خان بھی اس کالج کے طالبعلم تھے اور علی اکبر کے مطابق خان اور خٹک کے درمیان تعلقات انتہائی عزت اور احترام کے رہے ہیں۔ان کے مطابق اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جب پرویز خٹک وزیر اعلیٰ تھے اور اس وقت صوبے میں ان کی چیف سیکریٹریز کے ساتھ اختلافات یا اراکین اسمبلی ان کے خلاف کوئی بات عمران خان سے کرتے تو عمران خان پرویز خٹک کے مؤقف کے مخالفت نہیں کر پاتے تھے۔علی اکبر کے مطابق پرویز خٹک ان گنے چنے سیاستدانوں میں شامل ہیں، جو ہواؤں کا رخ سمجھتے ہیں اور جو ڈوبتی ہوئی کشتوں سے چھلانگ لگانے اور بعض اوقات

ڈوبتی کشتیوں کو منجھدار تک لے جانے کے بھی ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پرویز خٹک ایسی سیاسی جماعتوں میں شامل ہو جاتے ہیں جنھوں نے اقتدار میں آنا ہوتا ہے اور ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ وہ مختلف سیاسی جماعتوں میں رہے ہیں۔سینیئر صحافی ایم ریاض نے بتایا کہ جنرل پرویز مشرف دور کے بلدیاتی الیکشن میں پرویز خٹک خود ضلع نوشہرہ کے ضلعی ناظم بنے، اس کے بعد 2008 کے الیکشن میں آفتاب شیرپاؤ کی قومی وطن پارٹی کے ٹکٹ پر ایم پی اے بن کر اے این پی اور پیپلزپارٹی کی مخلوط حکومت میں صوبائی وزیر آبپاشی بنے حالانکہ صوبائی اسمبلی میں آفتاب شیرپاؤ کی پارٹی اپوزیشن میں تھی۔ایم ریاض کا دعویٰ ہے کہ پرویز خٹک 2012 کے آخر میں عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئے حالانکہ اس وقت نوشہرہ میں پی ٹی آئی کی مقامی تنظیم پارٹی ان کی پارٹی میں شمولیت کے خلاف تھی اور اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹریٹ میں ہنگامہ آرائی اور ہاتھا پائی بھی ہوئی لیکن پرویز خٹک اپنے مصمم ارادے کے ساتھ اسلام آباد پریس کلب جا کر پارٹی میں شامل ہوئے تھے۔سینیئر صحافی اور تجزیہ کار عقیل یوسفزئی نے کہا کہ عمران خان کی کامیابی میں پرویز خٹک کی سیاسی مینیجمنٹ کا بڑا کردار رہا ہے اور حالیہ مؤقف کوئی نئی بات نہیں ہے۔خیبر پختونخوا میں جب سنہ 2013 میں پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہوئی تھی تو مخلوط حکومت کو صرف ایک یا دو ووٹوں کی اکثریت حاصل تھی

لیکن اس کے باوجود پرویز خٹک نے پانچ سال پورے کیے بلکہ اپنی اکثریت میں اضافہ کیا اور پارٹی پالیسی کے مطابق متعدد ایسے اراکین کو پارٹی سے نکالا تھا جو پارٹی پالیسی پر عمل درآمد نہیں کر رہے تھے۔صحافی ایم ریاض کے مطابق پرویز خٹک کو ایک ایسے مرحلے پر وزارت اعلیٰ کے لیے نامزد کیا گیا جب جمعیت علما اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی بھرپور کوشش تھی کہ مسلم لیگ ن اور دیگر جماعتیں مل کر خیبر پختونخوا میں حکومت قائم کریں کیونکہ اس وقت پی ایم ایل این وفاق میں حکومت قائم کر چکی تھی۔انھوں نے کہا اس وقت صوبے کی اسمبلی میں واضح اکثریت نہ رکھنے والی جماعت ہونے کے باوجود پرویز خٹک نے ایک جانب آزاد ارکان کو پاکستان تحریک انصاف میں شامل کرایا تو دوسری جانب آفتاب شیرپاؤ کی قومی وطن پارٹی اور جماعت اسلامی کو ساتھ ملا کر ایک مستحکم صوبائی حکومت کی تشکیل کی۔صرف یہی نہیں پاکستان تحریک انصاف کے طویل دھرنوں اور لانگ مارچ میں پرویز خٹک بطور وزیر اعلیٰ بھی سر گرم رہے۔وہ صرف احتجاج یا نعرے ہی نہیں بلکہ وہ سٹیج پر جماعت کے کارکنوں کے ساتھ رقص بھی کرتے رہے اور ان کی یہ ویڈیوز وائرل بھی ہوئی تھیں۔پرویز خٹک نے ہی پشاور سے اسلام آباد کے لیے لانگ مارچ کی قیادت کی تھی۔ یاد رہے کہ اس وقت کی مسلم لیگ ن کی حکومت نے سارے راستے بند کر دیے تھے اور جب عمران خان اسلام آباد میں ہوتے ہوئے باہر نہیں نکل سکے تھے تو پرویز خٹک ہی جلوس لے کر اسلام آباد پہنچے تھے۔(بشکریہ: بی بی سی )

Comments are closed.