سب سے زیادہ تکلیف دنیا کو عورت کے حوالے سے کیوں ہے؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔افغانستان میں تالبان کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد سے یہ بحث ایک دفعہ پھر زندہ ہوگئی ہے کہ کیا عورت، مردوں سے معاشرتی سطح پر علیحدہ رہ کر ترقی کر سکتی ہے یا نہیں۔ یوں تو انسانی معاشرہ اپنی ہیتِ ترکیبی

کے اعتبار سے ایک مخلوط معاشرہ ہی ہے کیونکہ اس کے بغیر تو افزائش ِنسل کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا۔ نہ صرف انسانی معاشرہ بلکہ اس کے اردگر گرد آباد چرند و پرند اور حیوانات کی دنیا کی بنیاد بھی جسمانی اختلاط ، نسلوں کی پرورش، تربیت اور دیکھ بھال پر ہی رکھی گئی ہے۔ تمام جانداروں کی جبلّت میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے کچھ ایسے اوصاف لاشعوری سطح پر شخصیت کا حصہ بنادیئے ہیں جن کے گرد ان کی پوری حیات گھومتی ہے۔ ان میں تین بنیادی جبلّتیں ہیں (1) بھوک، (2)نیند، (3)جنس۔ یہ تینوں دراصل زندگی کی ڈور قائم رکھنے کیلئے ضروری ہوتی ہیں۔ ان کے علاوہ انسان و حیوان دونوں کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے اپنے ماحول ، کردار، وظائف اور کائنات میں اس کی اہمیت کے مطابق بے پناہ خصوصیات سے نوازا ہے اور وہ سب انکی جبلّت کا حصہ بنا دی گئی ہیں۔ ان میں محبت، خصوصاً ماں کی اولاد سے محبت، جذبۂ قربانی و ایثار، غصہ و انتقام، خوف اور ڈر، حزن و ملال اور سب سے اعلیٰ اورارفع مقام پر فائز ۔۔۔شرم و حیاء کی جبلّت۔ دنیا بھر میں انسان کے مطالعے کے دو غالب طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ اسے عام جانداروں کی طرح صرف ایک جسمانی وجود سمجھ کر اس پر تحقیق کرنا اور اسکی ضروریات کا جائزہ لینا، اور دوسرا اس کا بحیثیت انسان ایک معاشرتی زندگی کے بنیادی رکن(Social Animal) کے طور پر اس کا مطالعہ کرنا۔ تین بنیادی جبلّتوں کے حصول کا طریقہ ہی انسان کو دیگر تمام جانداروں سے ممیز ، ممتاز اور منفرد کرناہے۔

عام حالات میں ایک جانور کو اگر بھوک لگتی ہے تو اسے اس بات کی بہت کم پرواہ ہوتی ہے کہ کھانا کیسا ہے، اسے کہاں ، کس جگہ اور کیسے بیٹھ کر کھایا جائے۔ اسے بھوک لگتی ہے ،جیسا بھی کھانا میسر آتا ہے اور جہاں سے بھی میسر آتا ہے اور وہ اسے کھا لیتا ہے۔ جبکہ پسماندہ ترین انسانی معاشرے میں بھی کھانے کے اپنے آداب اور لوازمات ہوتے ہیں، جو ذائقے کی حس سے لے کر دستر خوان کی زیب و زینت تک پھیلے ہوئے ہیں۔ اسی طرح نیند کے عالم میں بھی انسان اپنے اردگردبسنے والے جانوروں سے بالکل مختلف ہے۔ ہرانسان کو ایک آرام دہ جگہ، نرم و نازک بچھونا اور شور سے دور ایک ٹھکانہ چاہیے ہوتا ہے تاکہ وہ پرسکون نیند کر سکے۔ درختوں کی کھوؤں اور پہاڑوں کی غاروں میں مسکن بنانا اسی بنیادی ضرورت کی تکمیل تھی۔ بعض ماہرین اسے صرف درندوں کے چیر پھاڑ سے بچنے کی تدبیر بھی کہتے ہیں،لیکن یہ بہت کمزور دلیل ہے، کیونکہ درندوں کی دسترس تو ان ابتدائی پناہ گاہوں تک بہت آسان تھی۔ تیسرا اور بہت اہم جذبہ ’’جنس‘‘ یا ’’ نفسی تسکین‘‘ کا ہے۔ انسان کے علاوہ دیگر حیوانات، چرند پرند وغیرہ صرف ایک خاص موسم، وقت یا ضرورت کے تحت یہ بھوک مٹاتے ہیں اور اس میں بھی بنیادی مقصد صرف افزائش نسل ہی ہوتا ہے۔ جبکہ حضرتِ انسان نے تو اس معاملے میں کمال کی ترجیحات و ترغیبات و توجیہات سے ایک جہان آباد کیا ہواہے۔ اس بنیادی جبلّت کی تکمیل کے راستوں کو سجانے، سنوارنے اور خوبصورت بنانے میں اس نے صدیاں صرف کی ہیں۔

جدید دور کے آتے آتے اس نے اس سارے کھیل کو افزائش نسل کے بنیادی تصور سے ہی بالکل علیحدہ کر کے رکھ دیا ہے۔ اس کاخطرناک نتیجہ جدید ترین معاشرے میں یہ نکلا ہے کہ افزائش نسل، بچوں کی پرورش، ان کی تعلیم و تربیت اور ان سے ایک گونا محبت، یہ سب کچھ اب نفس کی لطف اندوزی کے خوبصورت ماحول کیلئے ایک رکاوٹ تصور کیے جانے لگے ہیں۔ انسان کسقدر آزاد، روشن خیال، ترقی یافتہ اور ’’بے باک‘‘ بھی ہوجائے، اپنے نفسی مشاغل کیلئے آج بھی خلوت و تنہائی کوترجیح دیتا ہے۔ انسان کیلئے ساتھی یعنی ’ خاص پارٹنر‘‘ کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔ وہ ہر جگہ یا ہر کسی سے اپنی خواہشات کی تسکین نہیں کرتا، بلکہ اپنی شدید ترین طلب اور خواہش کو بھی بہتر وقت، بہتر ماحول اور بہتر ساتھی کے آنے تک مؤخر کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نفسیاتی، معاشرتی اور تہذیبی علوم کے ماہرین جو انسان کا مطالعہ معاشرتی زندگی کے بنیادی رکن یعنی ایک ’’معاشرتی حیوان‘‘ (Social Animal) کے طور پر کرتے ہیں وہ انسان کی شخصیت کو دوانتہاؤں میں تقسیم کرتے ہیں۔ پہلی انتہا یعنی باقاعدہ (Normal) اور دوسری بے قاعدہ (Abnormal)۔ آدمی اپنی زندگی میں جتنا زیادہ باقاعدہ ہوتا ہے اور معاشرتی روّیوں ، اخلاقی اصولوں اور کامیابی کی منزلوں کو طے کرتا چلا جاتا ہے اتنا ہی ’’نارمل‘‘ کہلاتا ہے جبکہ جتنا وہ ان تمام سے دور ہوتا ہے اتنا ہی ’’ابنارمل‘‘ کہلاتا ہے اور ابنارمل ہونے کا آخری مقام انشقاقِ ذہنی، شیزو فرینیا یعنی پاگل پن ہے۔ نارمل انسان یعنی ذہنی طورپر صحت مند ہونے کی چند اہم خصوصیات میں

ایک زرین اصول یہ ہے “Postponement of desire is the manifestation of normality”یعنی ـ’’خواہشاتکابہتروقتوںتکالتوادراصلانسان کےنارملہونےکیسبسےاہمعلامتہے‘‘۔یہیوہبنیادیفرقہےجسنےانسانکواپنے لیے ایک عظیم معاشرہ اور طرزِ زندگی تخلیق کرنے پر مجبور کیا ہے۔ اس معاشرے اور طرزِ زندگی کا سب سے اہم ادارہ صرف اور صرف خاندا ن ہے جو دراصل پوری انسانی زندگی کی ایک چھوٹی سے شبیہہ (Miniature)ہے، جس میں انسان کو وہ سب کچھ میسر آتا ہے جو پورے معاشرے میں بڑے پیمانے پر موجود ہوتا ہے۔ انسان معاشرے سے کٹ بھی جائے تو اپنے تمام جذبوں اور خواہشات کی تکمیل اسی خاندان میں رہ کر پوری کر سکتا ہے۔ بنیادی جبلّتوں سے لے کر اعلیٰ اور ارفع انسانی جذبے اسی ایک ’’خاندان میں میسر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی معاشرے کو دراصل خاندانوں کی چھوٹی چھوٹی اینٹوں سے ترتیب دی ہوئی ایک خوبصورت عمارت تصور کیا جاتا ہے۔ خاندان کے ادارے میں انسانی تہذیب کے چند اہم فرائض ادا ہوتے ہیںاور یوں تمام بنیادی وظائف پورے ہو رہے ہوتے ہیں جن کے نتیجے میں پوری انسانیت کوکامیاب اور کارآمد افراد میسر آتے ہیں۔ ازل سے لے کر آج تک تمام انسانی معاشروں نے خود بھی اور انسانوں پر نازل کردہ مذاہب کی تعلیم نے بھی خاندانی ادارے کو مکمل طور پر مخلوط ہی رکھا اور اس پر بہت کم پابندیاں لگائیں۔مذہب نے خاندان میں صرف رشتوں کی تمیز اور ان کے احترام کیلئے تھوڑی سی پابندیاںخاندانی سطح پر بھی لگائیں۔ لیکن سب سے اہم بات یہ کہ آسٹریلیا کے مقامی قدیم قبیلے “Aborigines”سے لے کر ایمزون کے قبیلوں تک خاندان سے باہر معاشرتی زندگی کیلئے ہر قبیلے، قوم اور معاشرے نے شرم و حیا کے اصول ضرور بنائے اور یہ اصول بہت حد تک ایک مخلوط معاشرے کوحد سے بڑھنے سے روکنے کیلئے تھے۔ معاشرتی پابندیاں لگا کر عورت اور مرد کی عملداریوں (Domains)کو بالکل علیحدہ کردیاگیا۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کا ہر معاشرہ خواہ وہ سادہ یا دیہاتی ہی کیوں نہ ہو، وہاں پر بھی عورت کو معاشی مجبوری یا تہذیبی ضرورت کیلئے ہی باہر نکالا گیا۔ صدیوں عورت کا دھیان صرف اولاد کی تربیت اور نشونما سے باہر ہی نہیں نکلنے دیا گیا۔