سب سے زیادہ ووٹ پی ٹی آئی کو ملے مگر پھر بھی شکست کیوں حصے میں آئی ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار سلمان عابد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔خیبر پختونخوا کے17اضلاع میں پہلے مرحلہ کے تحت ہونے والے مقامی حکومتوں کے انتخابات تحریک انصاف کے لیے بڑا سیاسی دھچکا ثابت ہوئے ہیں۔ خیبر پختونخوا کو تحریک انصاف کا گڑھ سمجھا جاتا تھا وہاں شکست نے اس بیانیے کو تقویت دی ہے

کہ حکمران جماعت اپنی مقبولیت کھورہی ہے۔تحریک انصاف کا خیال تھا کہ وہ 60فیصد انتخابی معرکہ اپنے نام کرلے گی جب کہ چالیس فیصد اس کے سیاسی مخالفین جیت سکتے ہیں۔لیکن ان انتخابات کے نتائج نے تحریک انصاف کی مقبولیت پر یقیناً سوالات پیدا کیے ہیں، بالخصوص مولانا فضل الرحمن کی واپسی خود بہت سے نئے سوالات کو جنم دیتی ہے ۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا 18جنوری کو دیگر 18اضلاع میں ہونے والے مقامی حکومتوں کے انتخابات کے دوسرے مرحلے کے نتائج بھی یہ ہی کچھ ہوںگے یا تحریک انصاف کچھ نیا کرسکے گی۔ اگر دوسرے مرحلے کے نتائج بھی پہلے مرحلے کی طرح ہی سامنے آتے ہیں تو تحریک انصاف کی سیاسی ساکھ اور زیاد ہ متاثر ہوگی۔ عام انتخابات 2023سے قبل خیبرپختونخوا میں مقامی حکومتوں کے انتخابات میں تحریک انصاف کی شکست کا اثر عام انتخابات کی سیاست پر بھی پڑ سکتا ہے۔اگرچہ عام انتخابات کا ماحول مقامی انتخابات سے مختلف ہوتا ہے مگر رائے عامہ میں مقامی انتخابات کے نتائج یقینی طور پر اپنا اثر پیدا کریں گے۔ اس لیے دوسرے مرحلے کے انتخابات میں ہمیں تحریک انصاف کے حامیوں ا ور مخالفین میں بڑی سیاسی جنگ دیکھنے کو ملے گی اور دیکھنا ہوگا کہ اس حتمی مقابلے میں کون سیاسی برتری حاصل کرتا ہے۔ تحریک انصاف اگر واقعی دوسرے مرحلے میں برتری دکھاتی ہے تو پہلے مرحلے کی شکست کا اثر کم ہوگا وگرنہ اس کے لیے اور زیادہ سیاسی مسائل پیدا ہوں گے ۔تحریک انصاف کی شکست کی کیا وجوہات ہیں۔ اول عمومی رائے مہنگائی ، معاشی بدحالی اور گورننس سے جڑی ہے اورلوگ واقعی حکومت سے نالاں ہیں۔

صحت کارڈ اور احساس پروگرام بھی اپنا اثر نہیں دکھا سکے۔ دوئم پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم میں واضح اختلافات اورکئی حلقوں میں تحریک انصاف کا مقابلہ تحریک انصاف کے درمیان ہوا،اس کا نتیجہ جے یو آئی یا دیگر جماعتوں کے حق میں ہوا۔پی ٹی آئی کے صوبائی وزیروں، مشیروں اور ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے میرٹ یا پارٹی کارکنوں کے مقابلے میں اپنے خونی رشتوں، رشتہ داروں کو ٹکٹ جاری کیے جس کا شدید ردعمل سامنے آیا۔کئی مقامات پر پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی نے مخالف امیدواروں کی حمایت کی۔ سوئم اقتدار میں آنے کے بعد سب سے زیادہ نظرانداز پارٹی کی تنظیم سازی کو کیا گیا۔ وزیر اعظم اور ان کے ساتھیوں کی پارٹی معاملات میں سنجیدگی اور دلچسپی نہ ہونے کے برابر ہیں۔چہارم ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کی عام ووٹروں اور پارٹی کے کارکنوں کے ساتھ کوئی موثر رابطہ کاری نہ تھی۔پنجم عمران خان نے خیبرپختونخوامیں کمزور وزیر اعلیٰ کا تقرر کیا، یہ انتخابی شکست کے چند بڑے عوامل ہیں ۔وزیر اعظم عمران خان نے شکست کو تسلیم بھی کیا اوراپنی غلطیوں کا اعتراف بھی جو اچھا پہلو ہے ۔لیکن کیا ہمیشہ وہ غلطیوں کا ہی اعتراف کرکے خود کو بچاسکیں گے؟ کیا وہ بروقت درست فیصلے ، غلطیوں کو نہ دہرانا اور پارٹی معاملات میں کڑی نگرانی و جوابدہی کا نظام قائم کرسکیں گے؟ حالیہ شکست کے جو لوگ بھی ذمے دارہیں، کیا ان کو جوابدہ بنایا جائے گا اور جو بھی پارٹی ارکان اسمبلی ٹکٹوں کی تقسیم میں خاندانی اقرباپروری میں ملوث ہیں، ان کا احتساب ہوسکے گا۔

کیا اگلے مراحل میں ٹکٹوں کی تقسیم اور ارکان اسمبلی کی حد سے زیادہ مداخلت کو بھی وزیر اعظم یا صوبائی وزیر اعلیٰ روک سکیں گے ۔مجموعی طور پر پی ٹی آئی کو ووٹ زیادہ پڑے ہیں البتہ جیت کی شرح کم ہے۔ اس کی بڑی وجہ پی ٹی آئی کے ایک سے زیادہ امیدوار تھے ،لیکن اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر دوسرے مرحلے کے نتائج بھی پہلے مرحلے سے مختلف نہیں ہوں گے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ تحریک انصاف نے مشکل حالات میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کا فیصلہ کیا وگرنہ سیاسی طور پر سازگار نہیں تھے۔ بالخصوص وزیر اعظم عمران خان کا خیبرپختونخوا ، اسلام آباد اورپنجاب میں میئر و ڈپٹی میئر کے براہ راست انتخابات کا فیصلہ پارٹی کی قیادت کی خواہش کے برعکس تھا ۔ عام انتخابات سے قبل خیبر پختونخوا، اسلام آباد اور پنجاب میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کا فیصلہ چیلنج ہی ہے۔کیونکہ اگر ان انتخابات میں جس میں پنجاب بھی شامل ہے نتائج پی ٹی آئی کے برعکس ہی نکلتے ہیں تو عام انتخابات سے قبل یہ پارٹی کے لیے بڑا سیاسی دھچکا ثابت ہوگا۔ اگرچہ ان انتخابات کی ایک وجہ الیکشن کمیشن اور اعلیٰ عدالتیں بھی ہیں جو بروقت انتخابات چاہتی ہیں۔یہ دباؤ محض پی ٹی آئی حکومت پر ہی نہیں بلکہ سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت پر بھی ہے جو مردم شماری کو بنیاد بنا کر انتخاب سے فرار چاہتی تھی ، مگر الیکشن کمیشن نے ان کے خلاف فیصلہ دیا ہے۔ پی ٹی آئی کا ایک بڑا چیلنج پنجاب میں بلدیاتی الیکشن کے انعقاد کا ہے۔

جہاں مسلم لیگ ن طاقت رکھتی ہے اور یہاں براہ راست میئر کے انتخابات میں جو بڑی سیاسی لڑائی دیکھنے کو ملے گی وہ بھی پی ٹی آئی کو نئی مشکل میں ڈال سکتی ہے ۔ہمارے حکمرانی کے نظام کا المیہ یہ ہے کہ جو بھی اقتدار میں آتا ہے وہ پارٹی معاملات سے خود کو لاتعلق کرلیتا ہے۔اس کی عدم دلچسپی ہی پارٹی کو کمزو رکرنے کا سبب بنتی ہے ۔ پی ٹی آئی کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے اردگرد زیادہ تر غیر سیاسی لوگوں کا ہی غلبہ ہے اوروہ وزیراعظم کو بہت سے معاملات میں اندھیرے میں رکھتے ہیں۔یہ قصور محض ان غیر سیاسی لوگوں کا ہی نہیں بلکہ خود وزیر اعظم بھی اس کے ذمے دارہیں جو غیر سیاسی لوگوں کو سیاسی لوگوں کے مقابلے میں اپنی طاقت سمجھتے ہیں ۔اب دیکھنا ہوگا کہ عام انتخابات سے قبل پی ٹی آئی اپنی داخلی سیاست میں کوئی بڑی سرجری کرسکے گی ؟ تحریک انصاف کو لوگوں کو ریلیف دے کر اپنی حکمرانی کی اچھی مثالیں قائم کرنا ہوںگی۔ دوسرا اسے فوری طور پر اپنی پارٹی کے داخلی اختلافات اورگروپ بندیوں کا کوئی حل تلاش کرنا ہوگا۔اس کے لیے فوری طور پر سیاسی افراد پر مشتمل کمیٹی کو قائم کرکے ہی تنظیمی اختلافا ت کو کم کیا جاسکتا ہے۔پی ٹی آئی کے پاس وقت کم ہے او رمقابلہ واقعی ان کے لیے سخت ہے۔ اسے ایک طرف چیلنج سیاسی مخالفین کے مقابلے میں اپنی سیاسی برتری کو قائم کرنا اور دوسری طرف پارٹی معاملات میں موجو د بے چینی، غیر یقینی اور پارٹی قیادت یا ارکان اسمبلی کی ووٹروں اورکارکنوں سے لاتعلقی کو ختم کرنا ہے۔ کیا واقعی تحریک انصاف اس چیلنج سے نمٹ کر آگے بڑھ سکے گی او رکیا جو حالیہ سیاسی دھچکا لگا ہے اس کی تلافی کرسکے گی ۔یہ ہی تحریک انصاف کا اصل امتحان ہے ۔