ستمبر 1965 میں پیش آنے والا ایک دلچسپ واقعہ

لاہور (ویب ڈیسک) 1965ء کی لڑائی کے دوران لیفٹیننٹ کرنل نصیر اللہ بابر ایوی ایشن اسکواڈرن کی قیادت کر رہے تھے۔ﭘﺎک ﻓﻮﺝ ﮐﮯ ﻟﯿﻔﭩﯿﻨﻨﭧ ﮐﺮﻧﻞ ﻧﺼﯿﺮﺍﻟﻠﮧﺑ ﺎﺑﺮ ﻧﮯ ﻏﻠﻄﯽ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﮨﯿﻠﯽﮐﺎﭘﭩﺮ ﺑﮭﺎﺭﺗﯽ ﻣﻮﺭﭼﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﺗﺎﺭﻟﯿﺎ،ﺍﭘﻨﮯﺍﺭﺩﮔﺮﺩﺑﮭﺎﺭﺗﯽﻓﻮﺟﯿﻮﮞﮐﻮﺩﯾﮑﮫﮐﺮ نصیراللہ بابر ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﮔﮭﺒﺮﺍئے۔

بھارتی مورچوں کے پاس پہنچ کر انہوں نے ﺑﻠﻨﺪﺁﻭﺍﺯﻣﯿﮟﺧﺒﺮﺩﺍﺭﮐﯿﺎ ﮐﮧﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽﻓﻮﺝﻧﮯﺗﻢﻟﻮﮔﻮﮞﮐﻮﭼﺎﺭﻭﮞ ﻃﺮﻑﺳﮯﮔﮭﯿﺮﻟﯿﺎﮨﮯ،ﺍﻭﺭﻣﯿﮟﯾﮩﺎﮞ ﺍﺱلیےﺁﯾﺎﮨﻮﮞﮐﮧ ﮨﺘﮭﯿﺎﺭﮈﻟﻮﺍﮐﺮﺗﻢ ﻟﻮﮔﻮﮞﮐﯽﺟﺎﻥﺑﭽﺎ ﺳﮑﻮﮞ۔ﯾﺎﺩﺭﮨﮯﮐﮧﮐﺮﻧﻞﺻﺎﺣﺐﮐﮯﭘﺎﺱ صرف ایک چھوٹا سا ہتھیار تھا اس خطرناک صورتحال میں بھی انہوں نے اپنے اعصاب پر قابو رکھا اور 55 سکھ سپاہیوں کو گرفتار کیا۔اس شاندار کارنامے پر انہیں ستارۂ جرات سے نوازا گیا۔بعد ازاں ﻟﯿﻔﭩﯿﻨﻨﭧﮐﺮﻧﻞﻧﺼﯿﺮﺍﻟﻠﮧﺑﺎﺑﺮمیجرجنرلکیحیثیتسےریٹائرہوئے،بلاشبہوہایکبہادرافسرتھے۔نصیر اللہ بابر 1928ء میں اکوڑہ خٹک نوشہرہ کے قریب اسماعیل خیل کے گاﺅںپیرپیائیمیںپیداہوئے۔قیامپاکستانکےبعد 1948ءپاک فوج میں شمولیتاختیارکرلی۔1965ء اور 1971ء پاکستان کی بھارت سے لڑائی میں شاندار کارکردگی پر نصیر اللہ بابر کو ڈبل ستارہ جرات اور ہلال جرات کے اعزاز سے نوازا گیا۔انہوں نے فوج میں میجر جنرل اور آئی جی فرنٹیئر کور سمیت کئی اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں۔فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد نصیر اللہ بابر یکم مارچ 1976ءسے 6 جولائی 1977ء تک صوبہ خیبر پختونخوا کے گورنر رہے، ان کی وفات جنوری 2011 میں ہوئی۔

Comments are closed.