سردارنی نے احتجاج کیا تو بولے ۔۔۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک)نامور کالم نگار علی عمران جونیئر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگر آپ نے ویکسین لگوا لی ہے تو کوئی بات نہیں، نہیں لگوائی تو فوری لگوالیں۔۔ٹینشن میں آنے کی ضرورت نہیں۔ شوہرنے بیوی کی کال کاٹتے ہوئے کہا۔۔بیگم میں بزی ہوں فری ہو کر کال کروں گا۔شوہر نے فون بند کیا ہی تھا

کہ پڑوسن کی کال آ گئی،پڑوسن نے بڑے لگاوٹ سے پوچھا، آپ بزی تو نہیں؟ شوہر نے کہا، نہیں جی، آپ حکم کریں۔۔ پڑوسن جلدی سے بولی، جی وہ آپ کی بیگم بات کرنا چاہ رہی تھیں۔ اگلے ہی لمحہ بیگم کی دھاڑ کانوں میں گونجی، شام کو ذرا جلدی گھر آنا اور آتے ہوئے آئیو ڈیکس ضرور لیتے آنا۔۔ڈرائیورکی زندگی بھی جب کھیل ہے، موت سے بچ گیا تو قید ہے۔ ایک ڈرائیور صاحب نے انکشاف کیا کہ۔۔صبح صبح جب میں اپنی وین نکالتا ہوں تو گانا لگاتا ہوں۔۔ محبت بھی ضروری تھی، بچھڑنا بھی ضروری تھا۔۔ سب مسافر چلانے لگتے ہیں۔۔ خدا کا خوف کرو استاد صبح صبح کا ٹائم ہے۔۔ پھرمیں قوالی لگادیتا ہوں۔۔ یہ جو ہلکا ہلکا سرور ہے، تیری نظر کا قصور ہے کہ ۔۔۔۔ پینا سکھا دیا۔۔سب لوگ عقیدت سے جھومنے لگے۔۔ایک سردار جی کے گھر رات کے دو بجے بیٹا پیدا ہوا،پیدا ہوتے ہی سردار نے تھپڑ رسید کیا ،بیوی چیخ کر بولی۔۔کوئی بچے کے ساتھ ایسے کرتا ہے،سردار بولا۔۔ یہ پہلی رات ہی دو بجے گھر آیا کل جوان ہوگا تو نجانے کس وقت آئے گا۔۔اب باباجی کی کچھ باتیں اور یادیں تازہ کرلیتے ہیں۔ باباجی فرماتے ہیں۔۔قطع تعلقی، کتا تعلقی سے لاکھ درجہ بہتر ہے۔۔ان کا مزید کہنا ہے کہ۔۔کچھ لوگ اتنے سمجھدار ہوتے ہیں آپ انہیں سمجھدار کہیں تو وہ فوراً سمجھ جاتے ہیں کہ آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔۔قومی لباس سے متعلق باباجی کا فرمانا ہے۔۔شلوارقمیص اس لئے ہمارا قومی لباس ہے کہ اس میں جھولی اٹھا کر بددعا دینے کا آپشن موجود ہے۔۔باباجی نے ایک روز ہم سے ایک سوال بڑے معصومانہ انداز میں کیا، پوچھنے لگے، یہ پاکستانی فلموں اور ڈراموں میں لوگ آفس ہی کیوں جاتے ہیں؟ کیا ان کی دکانیں وغیرہ نہیں ہوتیں؟؟باباجی کا کہنا ہے کہ۔۔اُدھار دیں مگر سوچ سمجھ کر اپنے ہی پیسے بھکاری بن کر مانگنا پڑتے ہیں، اور ادھار لینے والا جج بن کر تاریخ پہ تاریخ دیتا رہتا ہے۔۔ پاکستانی قوم کے حوالے سے باباجی کا فرمان عالی شان ہے۔۔پاکستانی قوم زیادہ گرمی اور زیادہ سردی میں کام نہیں کرسکتی،اور جب موسم خوشگوار ہو تو ان کا ویسے ہی کام کرنے کا دل نہیں کرتا۔۔

Comments are closed.