سردار اکبر بگٹی اور پنجاب کے مشہور دشمن دار چراغ بالی کی انوکھی دوستی کے حوالے سے چند واقعات

لاہور (ویب ڈیسک) نامور صحافی محمد وسیم شاہد اپنے ایک آرٹیکل میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔کئی دہائیوں قبل سیاسی رنجشوں کی بنیاد پر صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں نواب اکبر خان بگٹی کے وارنٹ گرفتاری جاری ہو گئے تھے۔ وزیر داخلہ سے لے کر آئی جی تک کسی کی ہمت نہ تھی کہ نواب صاحب کے گھر

واقع فاطمہ جناح روڈ پر انھیں گرفتار کرنے کا حکم دے سکے۔ ہر افسر اپنی جان چھڑاتا رہا اور سرکاری آرڈر اپنے طریقہ سے ایک دفتر سے دوسرے دفتر کو مارک ہوتے ہوتے علاقہ ایس ایچ او تک آپہنچا، امید تھی کہ وہاں اس وارنٹ پر ”مٹی پاؤ“ والی پالیسی اپنائی جائے گی۔ مگر ایس ایچ او اخلاص خان نیازی نے وارنٹ گرفتاری دیکھے۔ کچھ دیر سوچا اور اکیلے ہی نواب صاحب کے گھر روانہ ہوگیا۔گھر کے سامنے والی گلی اور دیگر علاقہ جانثار بگٹی قبائلیوں نے باوجہ سیاسی رنجش، اٹیک یا کسی ناخوش گوار واقعہ سے بچنے کو گھیر رکھا تھا۔ ایس ایچ او خلاص خان نیازی کو اُن جانثاروں نے روک کر آنے کی وجہ پوچھی۔ خلاص خان نے بتایا کہ میرے پاس نواب صاحب کو گرفتار کرنے کا سرکاری حکم ہے اس کی تقمیل میرا فرض ہے اور میں اپنے فرض کی انجام دہی کے لئے آیا ہوں۔ ہتھیاروں سے لیس جانثار اِس دلیر انسان کا یوں اکیلا بگٹی صاحب کو گرفتار کرنے آ جانا دیکھ کر حیران تھے اور آرام سے سمجھا رہے تھے کہ کیوں اپنی جان کے دشمن ہوئے ہو خاموشی سے واپس چلے جاؤ۔ ورنہ۔۔۔ اِس اثنا میں اندر بھی اُس کے خبر ہو گئی کیونکہ نواب صاحب کا یہ گھر کوئی محل نہیں، بلکہ ایک عام سا سنگل اسٹوری گھر تھا۔نواب صاحب نے اُسے بیٹھگ میں بلوانے کا حکم دیا اور اُس کے آجانے کے بعد خود تشریف لائے۔ خلاص خان نیازی نے اُٹھ کر ادب سے سلام کیا۔ نواب صاحب خود نیچے قالین پر بیٹھ گئے اور اسے بھی بیٹھ کر آنے کا مقصد بیان کرنے کو کہا۔

اُس نے بتایا کہ آپ کے وارنٹ گرفتاری نکلے ہیں۔ اور علاقہ تھانہ دار ہونے کی وجہ سے مجھ تک آن پہنچے ہیں تو میرا یہ فرض بنتا ہے کہ اس حکم کی تعمیل کروں۔ کہتے ہیں کہ نواب صاحب نے پوچھا کہ تمہیں یہاں آتے ہوئے ڈر نہ لگا؟ تو اُس دلیر انسان نے جواب دیا کہ حکومت کا حکم ہے جس کی تقمیل کرنا میرا فرض اور اگر اس فرض میں میری جان چکی جائے تو بھی کامیابی ہی سمجھوں گا۔ نواب صاحب نے اُس کا رسم ورواج کے مطابق اکرام کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ تم آج چلے جاؤ انشاءاللہ یہ وارنٹ کل تک کینسل ہو جائیں گے۔ اور ہوا بھی ایسا ہی۔وقت کا پہیہ گھومتا رہا۔ چند سال بعد ہی نواب اکبر خان بگٹی وزیر اعلی بلوچستان بن گئے۔ نواب صاحب نے حلف اٹھاتے ہی اُسے اپنے دفتر خاصر ہونے کا حکم دیا۔ تو پولیس محکمے میں اخلاص خان نیازی کی ملازمت اور تبادلے کو لے کر چہ میگوئیاں ہونے لگیں۔ نواب صاحب نے بلوا کر اس کی دلیری کی اب تعریف کی اور اسے اپنا حفاظتی انچارج بنانے اور ترقی دیتے کی سفارش کی۔ اس واقعہ کے بعد خلاص خان نیازی نواب اکبر بگٹی کا بھائی مشہور ہو گیا کیونکہ نواب صاحب دلیر انسان کو عزیز رکھتے تھے۔ اخلاص خان ایس ایس پی کوہٹہ ریٹائر ہوئے تو نواب صاحب نے اُس کے بیٹے رحمت اللہ نیازی کو پولیس میں افسر بھرتی کیا۔ جو ایس ایس پی کے عہدے تک پہنچا۔اس دلیر نیازی کا ایک بیٹا میجر جنرل نثا اللہ نیازی تھا جو فاٹا میں وطن عزیز پر قربان ہوا۔

ضلع خوشاب کے مشہور جرائم پیشہ چراغ بالی کو کون نہیں جانتا؟ چھ فٹ سے نکلتا چھوٹے شانوں والا دلیر نوجوان جو کوئین آف برطانیہ کے حفاطتی سکواڈ کا حصہ تھا، نے اپنے گاؤں بالی میں جاگیرداروں کی جانب سے اپنے خاندان پر ہوئے مظالم اور اپنے بھائی کو زندگی سے محروم کر دیے جانے کے بعد انگزیر فوج سے راہ فرار اختیار کی اور خوشباب میانوالی۔ کالا باغ اور سکیسر تک حکومت اور جاگیرداروں کے لیے خوف کی علامت بن گیا۔ ایک بار گرفتار ہو کر میانوالی قید خانے میں نواب اکبر خان بگٹی کے ساتھ چند ماہ قید رہا۔ نواب صاحب نے اُس کی دلیری اور غیرت کے قصے سن رکھے تھے تو ملاقات ہوئی اور پھر دونوں اچھے دوست بن گے۔چراغ بالی نے نواب اکبر خان سے درخواست کی تھی کہ اُس کا ایک ہی بیٹا زندہ بچاہے مہربانی کر کے آپ اسے پناہ دیں اور اپنے ساتھ ڈیرہ بگٹی لے جائیں۔ قصہ مختصر۔ وہ لڑکا ظفر بالی نواب اکبر خان کے گھر اُن کے بیٹوں کی طرح پلا بڑھا اور تعلیم حاصل کی۔ چراغ بالی کی پولیس مقابلے میں موت کی خبر بھی نواب صاحب نے اُسے جوان ہونے کے بعد سنائی۔ دوسری طرف نواب اکبر خان نے اپنے بیٹے طلال بگٹی کو عین نوجوانی میں ڈیرہ بگٹی کی ایک ہندو عورت کو گھورنے پر گھر سے نکال دیا تھا۔اب بھی اس ملک کو ایسے ہی دلیر اور جرآت مند جوہری کی ضرورت ہے جو اچھے اور برے کی تمیز کر سکے۔ ایسا دلیر حکمران چاہیے جو انصاف کرتے وقت رشتہ داری قرابت داری یا سیاسی وابستگی، غریب امیر کا فرق کیے بنا۔ ہر مصلحت کو پسِ پشت ڈال کر اور انجام کو ذہن میں لانے بنا انصاف کر گزرے۔ کیونکہ نوشیروان عادل سے نواب اکبر خان تک بادشاہ، نواب اور حکمران صرف عدل کی بنیاد پر یاد رکھے جاتے ہیں۔

Comments are closed.