سردار ذوالفقار علی کھوسہ کا جماعت کے اندر رعب اور دبدبہ :

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نجم ولی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔پرویز مشرف کے مارشل لا میں کہا جاتا تھا کہ اب میرٹ قربانیاں ہوں گی اور یہ بیانات نواز شریف کے ہوتے تھے مگر جیسے ہی نواز لیگ اقتدار میں آئی سب بھول بھال گئے۔ سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ اس وقت نواز لیگ

پنجاب کے صدر ہوا کرتے تھے، ایک باوقار سردار، ایک رکھ رکھاو والے سیاستدان۔ لیگی کارکن چیختے چلاتے تھے کہ منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے۔ میرا پروگرام ’چوپال‘ کے نام سے ہوا کرتا تھا۔ میں نے پنجاب اسمبلی کے احاطے میں چارپائیاں بچھوائیں، سردار صاحب اور کارکنوں کو آمنے سامنے بٹھا دیا۔ وہ کارکن جو میرے سامنے شور مچاتے تھے سردار صاحب کے سامنے سہم گئے اور کسی نے ایک شکایت تک نہ کی۔ سردار صاحب ہنسنے لگے اور مجھے کہا، نجم ولی خان، کارکنوں کو کوئی شکوہ نہیں تمہیں ہی شکایت ہے کہ یہ اکاموڈیٹ نہیں ہوئے اور میں تمہاری شکایت دور کردوں گا اور پھر واقعی انہوں نے کارکنوں کے لئے کام کیا۔مجھے یادآیا کہ کارکن ماڈل ٹاون بھی جایا کرتے تھے اور ایک مرتبہ وہاں ایک کارکن مسائل حل نہ ہونے پر کھمبے پر چڑھ گیا۔ میں نے وہاں پروگرام کیا تو محترمہ مریم نواز کی فون کال آئی اور کہا کہ آپ کی نشاندہی کا شکریہ، ہمیں علم ہے کہ ہمارے کارکن اور عوام یہاں آتے ہیں، ہم اس مسئلے کو حل کریں گے اور پھر اگلے روز علم ہوا کہ انہوں نے وہ کھمبا ہی وہ وہاں سے اکھڑوا دیا اور بلکہ غیر ضروری درخت بھی کٹوا دئیے تاکہ کارکن اور عوام اس پر نہ چڑھ سکیں یوں وہ مسئلہ حل ہو گیا (ہاہا ہا)۔ابھی پی ٹی آئی کے ایک دوست تھے جن کی حکومت قائم ہوئے ایک سال ہو رہا تھا مگر انہیں کوئی منہ نہیں لگا رہا تھا حالانکہ وہ برے وقتوں میں وہ پارٹی کے شہر کے صدر بھی رہ چکے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کی بات سنی جائے،

انہیں کوئی عہدہ ملے۔ میں نے کہا کہ عمران خان یا عثمان بزدار میرے کہنے پر عہدہ تو نہیں دیں گے مگر میں آپ کو نظروں میں ضرور لاسکتا ہوں۔ انہوں نے میرے ساتھ دو پروگرام سٹوڈیو میں کئے اور ایک پروگرام پارٹی سیکرٹریٹ میں۔ انہوں نے ہی وہاں وہ تمام کارکن اکٹھے کر کے دئیے جو اکاموڈیٹ نہ ہونے پر غصے میں تھے۔اس پروگرام میں غالبا صرف سعدیہ سہیل رانا نے اپنی پارٹی کا دفاع کیا۔ ہمارا منصوبہ کامیاب رہا اور موصوف صوبائی سطح پر پارٹی کے علاوہ سرکاری عہدہ بھی لے گئے اورپھر ایک پروگرام میں مجھ پر چڑھ دوڑے کہ تم ایک جانبدار اینکر ہو۔ میں واقعی ان کے حق میں جانبدار تھا جب وہ یوسف بے کارواں ہوئے پھرتے تھے۔ وہ مجھے اس وقت یاد آ ئے جب ایک خاتون رہنما کے سوشل میڈیا پر حامیوں نے دوسری مرتبہ مجھے ٹکا کے مغلطات دیں کیونکہ میں نے ان کی حکمت عملی کے خلاف نکات اٹھائے تھے۔ دلچسپ بات یہ رہی کہ ان خاتون رہنما کے شوہر سے شادی کی ایک تقریب میں ملاقات ہوئی تو فرمانے لگے کہ ہمیں علم ہے کہ آپ کا ’کمپیوٹر‘کہاں سے چلتا ہے۔ مجھے ہنسی آ گئی کہ پیپلزپارٹی، پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کے دوستوں کو شکوہ تھا کہ میرا ’کمپیوٹر‘ان کے گھر سے چلتا تھا۔قدرت نے میرے لئے لکھ دیا ہے کہ میں نے ہر مجبور،بے بس اور لاچارکی بات کرنی ہے سو اس سے طاقتور ناراض ہوتے ہیں تو ہوتے رہیں۔ ایک دوست سمجھے جانے والے رہنما گرفتار ہوئے، میں نے ان کے حق میں پروگراموں میں بھی بات کی اورکالم بھی لکھا مگر جب انہیں پروگرام میں بلایا تو وہ نہیں آئے، وہ ان کی مرضی تھی اور یہ میری خوشی ہے کہ مجھے اپنے شہر کے سیاسی کارکنوں کو اہمیت دینی ہے۔ ایک مبارکباد،پیپلزپارٹی نے لاہور کے سیاسی میدان میں ایک حقیقی نظریاتی کارکن اسلم گل کو ٹکٹ دی ہے اور یوں پانچ دسمبر کو تین جینوئن کارکنوں جمشید اقبال چیمہ، شائستہ پرویز ملک اور اسلم گل میں بڑا مقابلہ ہوگا۔

Comments are closed.