سرکاری افسر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار محمد نواز رضا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔نوابزادہ نصراللہ نے کبھی کسی حکمران کے سامنے ہاتھ پھیلایا اور نہ ہی کبھی کوئی سفارش کی۔ ممتاز کشمیری رہنما سید یوسف نسیم نے بتایا کہ نوابزادہ نصراللہ خان نے کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے کشمیر کاز

کے لئے بڑا کام کیا ۔ نواب زادہ نصراللہ خان کو شاید اپنی گرتی ہوئی صحت کا اندازہ تھا کہ وہ پرویز مشرف حکومت کو تحریک کے ذریعےگرانے کے لئے بے تاب نظر آتے تھے۔ ان کی شخصیت کا یہ کمال ہے کہ پرویز مشرف کی حکومت کے خلاف نواز شریف اور بے نظیر کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر دیا۔ وہ نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کو پاکستان واپس لانے کی ترغیب دینے کے لئےبرطانیہ اور سعودی عرب تک پہنچ گئے۔ ڈاکٹروں نے پیرانہ سالی اورخرابیٔ صحت کے باعث ہوائی سفرسے منع کر رکھا تھا اس کے باوجود انہوں نے بیرونِ ملک سفر کیا۔ شاید اس طویل سفر کی تھکن دل کے دورے کا باعث بن گئی۔ دل کا دورہ پڑنے کے بعد ڈاکٹروں نے ان سے ملاقاتوں پر پابندی لگا دی تو ان کے چاہنے والوں کے گلدستوں سے ان کا کمرہ بھر گیا۔ جاوید ہاشمی، میں اور امین فہیم کو چند لمحوں کے لئے ملاقات کی اجازت ملی تو انہوں نے بستر مرگ پر بھی اے آر ڈی کے اجلاس بارے ہی دریافت کیا۔ پچھلے دنوں ایک ریٹائرڈ افسر جن کا اب انتقال ہو گیا ہے اور جواہم عہدوں پر فائز رہے، نے مجھے بتایا کہ ایوب حکومت نے صدارتی انتخاب کے دوران نواب زادہ نصر اللہ خان سے جان چھڑانے کے لئے خطرناک چیز کھلا کر موت کے منہ میں دھکیلنے کی کوشش کی تو اس افسر نے آلہ کار بننے سے انکار کر دیا۔ میں نے یہ بات نوابزادہ نصر اللہ خان کو ان کی وفات سے قبل یہ بات بتا دی تھی تو انہوں نے مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے کہا ’’ زندگی اور موت خداوند کریم کے ہاتھ ہوتی ہے کوئی انسان کسی کی کس طرح جان لے سکتا ہے ‘‘۔ نواب صاحب خان گڑھ روانگی سے قبل رازداری سے کہا کرتے ’’ خبر لگا دیںکہ اگلے ہفتے پھر اسلام آباد آ رہا ہوں کم از کم ان(پرویز مشرف) کو پریشانی تو لگی رہے گی‘‘۔ نوابزادہ نصراللہ خان مذاکرات کی میز پر مطالبات منوانے کا ملکہ رکھتے تھے۔ خوبصورت پیرائے میں گفتگو کرتے تھے اور اشعار سے اپنی گفتگو کو موثر بنا دیتے تھے۔ پیرانہ سالی کے باوجود گھنٹوں تقریر کر سکتے تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو سے مذاکرات کے دوران ضیا الحق نے بلوچستان سے فوج کی واپسی بارے بریفنگ دینے کی کوشش کی تو انہوں نے یہ کہہ کر کہ ہم سیاست دان ہیں، سیاست دان ہی ہم سے بات کر سکتے ہیں، مذاکراتی ٹیم کو بریفنگ دینے سے روک دیا۔

Comments are closed.