سر : خود بھی موج کریں اور ہمیں بھی کرنے دیں ۔۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) ایک روز قبل مولانا ظفر علی خاں ٹرسٹ کی ہفتہ وار فکری نشست میں مہمان مقرر کے طور پر بلایا گیا ۔ انہوں نے کہا، قائد اعظم نے 14 اگست 1947ء کو جو پاکستان بنایا تھا ، آج تک اسی کو ڈھونڈ رہا ہوں، البتہ حاضرین نے جب فارن سروس کیریئر کے حوالے سے کچھ یادیں شیئر کیں

تو شمشاد احمد خان نے ایک ریٹائرمنٹ کے بعد پیش آنے والا نہایت دلچسپ واقعہ سنایا ۔نامور صحافی علیم عثمان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔شمشاد احمد خان نے کہا، ’ مجھے ایک فون آیا ۔ فون کرنے والے نے کہا، سر ، اسلام آباد میں آپ کا ایک پلاٹ ہے ، اسی سلسلے میں آپ کو فون کیا ہے۔ میں کئی بار آپ سے رابطے کی کوشش کر چکا ہوں مگر آپ سے بات نہیں ہو سکی۔ میں نے کہا، بھائی، میرا تو کوئی پلاٹ نہیں ہے، جس پر اس نے کہا، نہیں سر ، آپ کا ایک پلاٹ ہے۔ جب میں نے اسے دوٹوک کہا کہ بھائی، میرا اسلام آباد میں کوئی پلاٹ نہیں ہے تو اس نے اصرار کرتے ہوئے کہا، سر، آپ ایک بار مجھے ملاقات کا موقع دیں ، میں آپ کو تفصیل سے بتاؤں گا۔‘ شمشاد احمد خان کہتے ہیں،’ میں نے اسے ملاقات کا وقت دے دیا ۔ اس نے آکر مجھے ایک فارم تھماتے ہوئے کہا، ’ بس ، آپ اس پر دستخط کردیں۔‘ وہ میرے سابق ڈیپارٹمنٹ کا ایک افسر تھا۔ جب میں نے اسے کہا کہ بھائی، مجھے کسی پلاٹ کی ضرورت نہیں ، میرے پاس رہنے کے لیے پہلے ہی گھر موجود ہے تو اس نے کہا، سر ، اس کا بھی میں بندوبست کر کے آیا ہوں ۔ میں 10 لاکھ روپے ساتھ لے کر آیا ہوں ، یہ بیعانہ ہے۔ آپ سمجھیں آپ کا پلاٹ بک گیا۔‘ شمشاد احمد خان نے بتایا، ’ اس نے میرے اصرار پر تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ آپ کا پلاٹ 2 کروڑ کا ہے ، اس میں اتنا شیئر منسٹر کا ہے ، اتنا سیکرٹری صاحب کا ہے اور تھوڑا سا حصہ مجھے بھی مل جائے گا ، بس آپ اس فارم پر سائن کر دیں۔‘ شمشاد احمد خان کہتے ہیں، ’مجھ سے اپنے غصے پر قابو پانا مشکل ہو رہا تھا ۔ میں نے اسے کہا ، میں نے آپ کو ملاقات کی اجازت دے کر آپ کو بہت عزت دے لی ، بہتر یہی ہے کہ آپ اسی وقت یہاں سے چلے جائیں۔ میں نے سخت ناراضگی کے ساتھ اسے کہا ، بس ، آپ میرے گھر سے نکل جائیں۔‘ شمشاد احمد خان نے دکھ بھرے لہجے میں کہا، مجھے تو ریٹائر ہوئے بھی بارہ چودہ سال ہو چکے تھے مگر مال بنانے والے ابھی تک ریاست کی زمین میں سے میرے حصے کا کوئی پلاٹ ڈھونڈ لائے تھے۔ ’قائد اعظم نے 14 اگست 1947ء کو جو پاکستان بنایا تھا ، میں آج تک اسی کو ڈھونڈ رہا ہوں۔‘ مولانا ظفر علی خاں ٹرسٹ کے ایک ٹرسٹی اور سرگرم ترین شخصیت مجیب الرحمن شامی اتفاق سے اس روز موجود نہیں تھے ورنہ مہمان شخصیت کا یہ واقعہ سن کر بہت مایوس ہوتے۔