سعد حسین رضوی نے سب بتا دیا

لاہور (نیوز ڈیسک) تحریک لبیک پاکستان کے قائد علامہ خادم حسین رضوی کے انتقال کے بعد ان کے صاحبزادے حافظ سعد حسین رضوی کو تحریک لبیک پاکستان کا نیا امیر مقرر کیا گیا۔ سعد حسین رضوی نے نجی ویب سائٹ کو انٹر ویو دیتے ہوئے کہا کہ میں اپنے والد کے بغیر پارٹی کی قیادت

سنبھالنے سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ آپ لیڈر شپ کی بات کررہے ہیں، ہم نے تو اُن کے بغیر ایسے ماحول میں سانس لینے کا بھی تصور نہیں کیا تھا۔ہم تو دعائیں کرتے تھے کہ اگر اُن کو نقصان پہنچانے کے لیے کوئی بلٹ بنے تو وہ ہمارے جسم سے گزر جائے، اگر اُن کے لیے کوئی بم بنے تو وہ ہم پر برسے اور اگر اُن کے لیے کوئی خنجر بنےتو وہ ہمارا جگر چاک کرے۔ انہوں نے بتایا کہ خادم حسین رضوی کی 15 نومبر سے پہلے طبیعت خراب تھی ، جب وہ فیض آباد پہنچے تب بھی انہیں بخار تھا ، فیض آباد سے واپسی پر بھی بخار ہی کی کیفیت تھی لیکن بخار کم زیادہ ہوتا تھا۔جس دن اُن کا انتقال ہوا اُس دن انہوں نے خود تھرما میٹر پکڑا اور کہا کہ بخار اب نہیں تھا، حالانکہ پہلے اُن کا بخار 104 تک جا رہا تھا۔اُن کا نہ گلہ خراب تھا ، نہ انہیں زکام تھا لیکن پھر بھی وہ اچانک جا کر صدمہ دے گئے۔ سعد حسین رضوی نے بتایا کہ وہ مجھے ساجی اور منڈیا کہہ کر بلاتے تھے۔ جب جلال میں ہوتے تھے تو غصے سے ”منڈیا” کہتے تھے، انہوں نے سب کی تربیت بہت اچھی گی، گاڑی موڑنے سے لے کر سنگترہ چھیلنے تک ہمیں بہت کچھ سکھایا۔حافظ سعد نے کہا کہ میں اُن سے اکثر کہتا تھا کہ آپ جلسے میں جو کہتے ہیں تلخی سے ایسے نہ کہا کریں جس پر وہ کہتے تھے کہ حضور ﷺ کے نام پر ہمارے ساتھ کچھ ہو جائے اس

سے زیادہ اچھی بات اور کیا ہو سکتی ہے۔ آج تک ہمارے ساتھ جو بھی ہوا، اُن کی وجہ سے کبھی ہمارا دل بھی نہیں گھبرایا ، جب وہ خاموش ہوتے تھے تو میرے منہ سے کوئی بڑی بات سننا چاہتے تھے، وہ چاہتے تھے کہ میں آگے بڑھ کر کوئی بات کروں۔ حافظ سعد رضوی نے کہا کہ وہ جن کی جانب اشارہ کر رہے تھے اُن کے پاس وہ پہنچ چکے ہیں۔ شاید وہ راز مالک کھلوانا ہی نہیں چاہتے تھے، لوگ کہتے ہیں کہ یہ کوئی اور بات ہے لیکن ہم کہتے ہیں کہ وہ کہتے تھے کہ میں اپنا تعلق دنیا میں ظاہر نہ کروں۔ پارٹی کی قیادت سنبھالنے سے متعلق سوال پر حافظ سعد نے کہا کہ جب سے میں امیر بنا ہوں ، میرے تخیل میں کچھ بن نہیں پا رہا ، تمام جذبات اور احساسات ٹوٹے ہوئے ہیں کہیں بھی اجتماع نہیں ہو پا رہا۔تحریک لبیک کے حکومت کے ساتھ ہوئے معاہدے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے واضح کہا کہ اگر معاہدے پر عملدرآمد نہ ہوا تو ہماری مجلس شوریٰ بیٹھے گی اور اس ضمن میں فیصلہ کرے گی۔ ایک بات ہے کہ اگر کچھ نہ ہوا ، اور ہم زیادہ کچھ نہ کر سکے تو ناموس رسالت ﷺ کے لیے اپنی جان پیش کریں گے۔ خادم حسین رضوی کی وفات پر وزیراعظم اور آرمی چیف کی کال سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ کسی کی کال آ بھی جائے تو ہمارے لیے کوئی اعزاز کی بات نہیں ہے۔ کوئی حضورﷺ کا غلام ہے تو اور بات ہے،

ملک میں عہدے کے لحاظ سے اُن کا احترام ہے لیکن کسی کی ذاتی طور پر کال آنا باعث اعزاز نہیں ہے۔پارٹی سے متعلق بتاتے ہوئے حافظ سعد رضوی نے کہا کہ آزاد کشمیر سے ہماری پارٹی کے 17 افراد ہیں جو شوریٰ میں شامل ہیں اور جو فیصلہ سازی کرتے ہیں۔ اس میں تحریک لبیک یا رسول اللہ ﷺ اور تحریک لبیک پاکستان کے لوگ شامل ہیں۔میری قیادت کا فیصلہ بھی انہوں نے ہی کیا۔ میرے نام پر اختلاف کی بات مجھ تک نہیں پہنچی۔ انہوں نے کہا کہ خادم رضوی ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ میں یہ چاہتا ہوں کہ میرا بیٹا، میرے گھر والے ،میری اولاد، میرے دوست احباب وفادار ہو جائیں اور مجھ سے وفا کریں۔انہوں نے ہمیشہ کہا کہ اُن ﷺ سے وفا کرو ، تو سب تمہارے وفادار ہو جائیں گے۔ دھرنے کے لوگوں کو پیسے دینے کی ویڈیو وائرل ہونے پر حافظ سعد کا کہنا تھا کہ غالباً ڈی جی رینجرز نے اپنا اے ٹی ایم دیا تھا اور جو لوگ جیلوں سے باہر آئے تھے اور جن کی جیبیں خالی تھیں انہیں ایک ، ایک ہزار روپیہ دیا گیا، لوگوں نے منع بھی کیا لیکن انہوں نے کہا کہ کیا آپ ہمیں اپنے ساتھ نہیں سمجھتے؟ ملاقات کے لیے لوگوں کا رش اور بڑی جگہ پر سیٹ اپ بنانے کے بارے میں حافظ سعد نے کہا کہ میں نے ایک مرتبہ علامہ صاحب کو کہا تھا کہ کوئی سیٹ اپ بنائیں تو انہوں نے کہا کہ اگر سیٹ اپ بن گیا تو تمہارا خیال آگے نہیں پیچھے ہو گا۔انہوں نے کہا کہ تحریک لبیک کے کارکنان کو میرا پیغام ہے کہ جہاں آپ کا پسینہ گرے گا وہاں سعد حسین رضوی کا خون گرے گا انشا اللہ

Sharing is caring!

Comments are closed.