سعد رضوی جلد عمران اینڈ کمپنی کو کیا سرپرائز دینے والے ہیں ؟ تہلکہ خیز خبر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ 12 جنوری کو کابینہ کا اجلاس تھا‘ وزیراعظم اس دن پہلی بار پوری طرح وزیراعظم نظر آئے‘ یہ پھٹ پڑے اور انھوں نے وزراء کو تیر کی طرح سیدھا کر دیا‘ وزیراعظم سب سے پہلے اپنے ایک مشیر

اور ایک سینئر خاتون وزیر پر برسے‘ یہ دونوں سانحہ مچھ پر ٹویٹس کرتے رہے تھے۔وزیراعظم نے ان سے کہا ’’آپ کو اگر حکومت کے رویے پر اعتراض ہے تو پھر آپ کابینہ چھوڑ دیں‘‘ یہ دونوں چپ چاپ دائیں بائیں دیکھنے لگے‘ اس کے بعد توانائی کے وزیر عمر ایوب کی باری آ گئی‘ ان کے پاس بھی ’’بریک ڈاؤن‘‘ کی کوئی ٹھوس وجہ موجود نہیں تھی‘ یہ بھی وزیراعظم کے غصے کا مقابلہ نہ کر سکے‘ حماد اظہر سے مہنگائی کے بارے میں پوچھا گیا‘ چینی کی قیمتیں کیوں زیادہ ہو رہی ہیں‘ گندم کے اسٹاک کیوں پورے نہیں ہیں۔کوکنگ آئل کیوں مہنگا ہے اور سبزی‘ دالیں‘ انڈے اور مرغی کیوں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہے؟ یہ بتانے کی کوشش کرتے رہے لیکن یہ بھی وزیراعظم کو مطمئن نہ کر سکے‘ پٹرولیم کے معاون خصوصی ندیم بابر پچھلی دو تین کابینہ میٹنگز میں نشانہ بنتے چلے آرہے تھے‘ کابینہ کے پچھلے اجلاس میں انھیں شاہ محمود قریشی نے یہ تک کہہ دیا تھا ’’حکومت کے لیے اصل خطرہ پی ڈی ایم نہیں معاون خصوصی برائے پٹرولیم ہیں‘‘ یہ اس بار بھی بریک ڈاؤن کی وجہ سے ڈاؤن بیٹھے تھے۔کابینہ کے لیے سب سے بڑا ایشو تحریک لبیک پاکستان کے ساتھ 16 نومبر 2020ء کا حکومتی معاہدہ تھا‘ حکومت نے دھرنا ختم کرنے کے لیے علامہ خادم حسین رضوی کے ساتھ تحریری معاہدہ کیا تھا ہم دوسے تین ماہ کے اندر فرنچ سفیر کو ملک بدر کر دیں گے‘ یہ تاریخ اب زیادہ دور نہیں رہی‘علامہ مرحوم کے صاحبزادے سعد حسین رضوی حکومت کو وارننگ دے چکے ہیں‘ حکومت پریشان ہے کیوں کہ اس نے معاہدہ کرتے وقت یہ نہیں سوچا تھا فرانس کا سفیر اکیلا نہیں ہے‘ پوری یورپی یونین اس کے ساتھ کھڑی ہے۔ہم اگر اسے نکال دیتے ہیں تو پھر پوری یورپی یونین کے ساتھ پاکستان کے سفارتی تعلقات خراب ہو جائیں گے جس کے بعد یورپ درآمدی سودے منسوخ کر دے گا‘ پاکستان کی انڈسٹری تباہ ہو جائے گی اور کورونا کی شکار معیشت مزید زوال پذیر ہو جائے گی۔وزیر خارجہ اس معاہدے کو سفارتی موت قرار دے رہے ہیں‘ کابینہ نے مذہبی امور کے وفاقی وزیر نور الحق قادری کو درمیانی راستہ نکالنے کی ذمے داری سونپ دی ‘ یہ علامہ خادم حسین رضوی کے صاحبزادے سعد حسین رضوی کے ساتھ مذاکرات کریں گے لیکن میرا خیال ہے نورالحق قادری کام یاب نہیں ہو سکیں گے‘سعد حسین رضوی خود کو نیا قائد ثابت کرنے کا موقع ضایع نہیں کریں گے اور یوں بحرانوں کی شکار حکومت پر مزید دباؤ بڑھ جائے گا اور سینیٹ کے الیکشنز کے بعد یہ کابینہ نہیں چل سکے گی‘

Comments are closed.