سعودی عرب سے واپس آتے ہی عمران خان نے شہباز شریف کی مشکیں کیوں کسنے کا فیصلہ کیا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار حبیب اکرم اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔پی ڈی ایم کے زورپر شہباز شریف نے یہ طے کروا لیا ہے کہ نوازشریف خاموش رہیں گے توان کی جماعت کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی۔ ضمنی الیکشنوں میں یکے بعد دیگر مسلم لیگ ن کی جیت نے یہ ثابت کردیا

ہے کہ نوازشریف ملک سے باہر بھی رہیں توان کی جماعت الیکشن جیت سکتی ہے۔ اسمبلیوں کو توڑکر نئے الیکشن کروانے کی ضد بھی نوازشریف چھوڑ چکے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ تحریک انصاف اپنے انجام تک خود ہی پہنچے تاکہ اسے اگلے الیکشن میں ٹکٹ لینے والا ڈھونڈے نہ ملے۔ سربلند بھی سوچے بیٹھے ہیں کہ ملکی نظام نے نالائقوں کے اس تاریخی اجتماع کے راستے میں ایسے روڑے اٹکا دیے ہیں کہ اب اس سے زیادہ بربادی کوئی چاہے بھی تونہیں ہوسکتی، اس لیے اس حکومت کو اپنا وقت پورا کرنے دیا جائے تاکہ یہ باہر جاکر گلہ کرنے کے بھی قابل نہ رہے۔ ان حالات میں شہبازشریف کی ضمانت گویا دو ہزار تئیس کے انتخابات میں وزیراعظم کے ‘متفقہ‘ امیدوار کا اعلان ہی تھا یا یوں کہیے کہ خان صاحب نے اسے یوں سمجھا۔ اسی لیے سعودی عرب سے واپس آکر انہوں نے جو پہلا اجلاس کیا‘ اس میں شہبازشریف کی مشکیں کسنے کیلئے حدیبیہ پیپرزکے پرانے کیس کی نئی تفتیش کا فیصلہ کیا گیا۔خان صاحب کو اچھی طرح علم ہے کہ مسلم لیگ ن میں ان کے اصل حریف شہبازشریف ہیں۔ مریم نوازسے انہوں نے ایک دن بھی خطرہ محسوس نہیں کیا بلکہ اپنی جماعت کے ایک اجلاس میں تو وہ مسکراتے ہوئے یہاں تک کہہ گزرے کہ ‘مریم نواز مسلم لیگ ن میں تحریک انصاف کی طاقت ہیں‘۔ کسی درجے میں یہ بات ٹھیک بھی ہے کہ اپنی تمام تر تگ و دو کے باوجود وہ مسلم لیگ ن میں ایسی شخصیت نہیں بن پائیں جس کے ساتھ معاملہ کیا جاسکے۔

شہبازشریف نے قید میں جانے کے باوجود توازن ہاتھ سے نہیں جانے دیا جس کی وجہ سے ان کی مقبولیت و قبولیت دونوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اگلا الیکشن جیتنے کیلئے انہیں صرف یہ کرنا ہے کہ اس وقت تک مسلم لیگ ن خاموش رہے اور یہ تبھی ممکن ہوگا جب نوازشریف کو وہ سب کچھ لفظ بلفظ معلوم ہو جو طے ہوا ہے‘ مگر خان صاحب کو بھی سیاست ہی توکرنی ہے۔ انہوں نے شہبازشریف کے معاملے میں جو راستہ اختیار کیا ہے وہ بھی دلچسپ ہے۔ بالا طاقتوں کے مقابلے میں انہوں نے اپنی بساط بچھا لی ہے۔ اس پر پہلی چال الیکشن اصلاحات ہیں اور دوسری چال حدیبیہ۔ وہ الیکشن اصلاحات نہیں کرپائیں گے اس لیے آئندہ ان کے پاس دھاندلی دھاندلی پکارنے کا آپشن بھی رہے گا۔ حدیبیہ کے ذریعے وہ شہبازشریف کو پکڑنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ انہیں اچھی طرح علم ہے کہ اس معاملے میں اب انہیں وہ مدد نہیں مل سکتی جو ماضی میں ملتی رہی۔ شہباز شریف کے خلاف انہیں اپنا کوئی ماتحت ادارہ بھی استعمال کرنا پڑا تووہ مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کیلئے کرگزریں گے۔ شہباز شریف کے بارے میں ان کا ہدف ہے کہ آئندہ الیکشن تک انہیں اس طرح پھنسا دیا جائے کہ مسلم لیگ ن کوان کے بغیر ہی انتخابات کی لڑائی لڑنی پڑے‘ مگر اس بارکوئی ناگہانی ہوگئی تو الگ بات‘ ورنہ متبادل منصوبہ بھی مکمل تیار ہے۔متبادل منصوبہ ہے کہ پنجاب میں قومی اسمبلی کی چونتیس ایسی نشستیں ہیں جہاں سے پاکستان پیپلزپارٹی جیت سکتی ہے۔

اگر شہبازشریف ایسے پھنس جائیں کہ نکل نہ سکیں تو بلاول بھٹو زرداری ابھرآئیں گے۔ کراچی سے قومی اسمبلی کی ایک نشست پر جوکچھ ہوا اس میں آنے والے وقت کی متبادل جھلک دیکھی جاسکتی ہے ۔ اگر یہی صورت کراچی کی مزید چودہ نشستوں پرپیدا ہوگئی یعنی یہ تحریک انصاف کے ہاتھ سے نکل گئیں توخان صاحب واپس دوہزار تیرہ یا اس سے بھی کمتر کسی پوزیشن پرپہنچ جائیں گے۔ شاید یہی صورت ان کیلئے بھی قابل قبول ہو کیونکہ جوکچھ وہ کرچکے ہیں انہیں پیپلزپارٹی کے سوا کوئی محفوظ راستہ نہیں دے سکتا۔تحریک انصاف کی حکومت کو دوہزار اٹھارہ میں مختلف حوالوں سے حمایت کی صورت جو کچھ میسر تھا، وہ سب یہ اکتوبر دوہزار انیس تک کھو چکی تھی۔ اب اس کا سہارا کورونا ہے یا صرف یہ کہ اسے کوئی گرانا نہیں چاہتا۔ کوئی انہونی ہوجائے تو الگ بات ہے ورنہ میری نظر میں آسمان کی طرف منہ کرکے پڑی اس بے بس حکومت کی تکنیکی موت ہوچکی ہے۔ ہوش و حواس سے عاری اس بیچاری کو یہ بھی نہیں پتاکہ آسمانوں میں جب فیصلے ہوجاتے ہیں توکیا ہوتا ہے۔ یہ کسی قابل ہوتو چودھری شجاعت حسین سے ہی پوچھ لے کہ ان کا حال کیا ہوا تھا‘ جب انہیں بتایا گیا تھاکہ دوہزار آٹھ کا الیکشن اگر ق لیگ نے جیتا تواسے تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ حالات اب بھی اسی طرف جاتے محسوس ہوتے ہیں۔ تحریک انصاف کوکچھ ہی دنوں میں یہ پتا چل جائے گاکہ شہبازکو پرواز سے روکنے والے تو اب چڑیا بھی نہیں پکڑسکتے۔ شہباز کی اگر قسمت خراب نہ ہو توفی الحال اسے اڑنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

Comments are closed.