سقوط پاکستان کا ایک اہم ترین کردار جنرل نیازی ہتھیار ڈالنے سے کچھ روز قبل تک یہ دعوے کیوں کرتا پھر رہا تھا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) اپنے فرائض منصبی کے حوالے سے ساری صورت حال کا براہ راست مشاہدہ کرنے اور اہم اجلاسوں میں شریک رہنے والے صدیق سالک اپنی چشم کشا کتاب ”میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا“ میں لکھتے ہیں کہ جنرل نیازی ہر روز صبح 08:30بجے خصوصی کمرے میں چیدہ چیدہ افسروں کی کانفرنس بلاتے۔

نامور کالم نگار نوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔وہ ہر افسر سے خندہ پیشانی سے پیش آتے اور بول چال اور حرکات و سکنات سے بالکل نارمل لگتے،البتہ ایک بات ذرا عجیب سی لگتی کہ وہ مشرقی پاکستان میں لڑائی پر توجہ دینے کی بجائے شروع شروع میں مغربی پاکستان میں زیادہ دلچسپی لیتے رہے۔ انہوں نے کمرے کی مغربی دیوار پر مغربی پاکستان محاذ کا بہت بڑا نقشہ لگوا رکھا تھا، جس پر وہاں کی لڑائی کی صورتحال دکھانے کیلئے چھوٹے چھوٹے ”پن“ لگے تھے۔دن میں دو مرتبہ(اور بعد میں ایک مرتبہ) جی ایچ کیو سے مغربی محاذ کی صورت حال کا نچوڑ تار(سگنل)کے ذریعے ڈھاکہ پہنچتا تھا۔ ایک افسر کی ڈیوٹی یہ تھی کہ وہاں سے سگنل میں درج اطلاع کو نقشے پر سرخ اور سبز پن لگا کر واضح کردیا کرے سرخ پن دشمن کی پوزیشن ظاہر کرتے تھے اور سبز ہماری…… میں جنرل نیازی کی اس میٹنگ میں روزانہ حاضری دیتا۔ (حالانکہ میرے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا) میں نے دیکھا کہ مغربی پاکستان کی مشرقی سرحد سے چند سینٹی میٹر دور (بھارت کی جانب)تین سے چار سبز پن لگے تھے۔بڑی خوشی ہوئی کہ ہمارے قدم دشمن کی سرزمین پر ہیں۔4دسمبر کو دوپہر کے قریب میں ”کمرے “ میں داخل ہوا،تو سارا ماحول خوشی سے چہکتا ہواپایا۔حیران تھا کہ چند گھنٹوں میں کون سا میدان فتح کر لیا ہے؟ پتہ چلا: ”امرتسر فتح ہو چکا ہے اور فیروز پور فتح ہونے والا ہے۔ ہماری فوجیں اس کے قرب و جوار میں پہنچ چکی ہیں“۔ میں نے پوچھا:”اگر یہ خبر درست ہے،تو جی ایچ کیو سے

آنے والے سگنل میں اس کاذکر کیوں نہیں؟ ایک صاحب بولے:”اس کی وجہ یہ ہے کہ جب تک وہاں ہماری پوزیشن مستحکم نہیں ہو جاتی،جی ایچ کیو اس کا دعویٰ نہیں کر نا چاہتا“۔یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ میں جنرل نیازی کے کمرے میں داخل ہوا۔وہ مجھے دیکھتے ہی کرسی سے اٹھ کر پہلوانوں کی طرح ڈنڈ پیلنے لگے۔انہوں نے طعنے کے انداز میں کہا:”دیکھا تم نے؟ جب میں کہا کرتاتھا کہ اگر لڑائی شروع ہوئی تو میدان بھارت کی زمین بنے گی،تو تم مجھے غیر ضروری خوش فہمی نہ پیدا کرنے کا مشورہ دیا کرتے تھے، مگر اب دیکھ لو،اگر میں نہیں،تو میرا بڑا بھائی(مغربی پاکستان) تو لڑائی کو ہندوستان کے علاقے میں لے گیا ہے“۔اس کے فوراً بعد انہوں نے ٹیلیفون گھما کر گورنر مالک کو بھی یہ خوشخبری سنادی۔گورنر نے کہا:”جنرل صاحب! چوآڈانگا(گورنر کا آبائی گاوں جہاں بھارتی فوج پہنچ چکی تھی) کا کیا حال ہے؟“جنرل نیازی نے حکم دیا کہ امرتسر فتح ہونے کی خبر مشرقی پاکستان کے کو ن کونے میں تمام فوجیوں تک پہنچا دی جائے،کیونکہ ”اس سے ان کے مورال پرخوشگوار اثر پڑے گا“۔ایڈمرل شریف نے کہا:”بہترہوگا کہ پہلے اس خبر کی تصدیق کروالی جائے“ میں سب سے جونیئر تھا،مجھے ہی حکم ملا کہ پتہ کروخبر کہاں سے آئی؟ میں نے ساتھ والے کمرے سے پوچھا۔جواب ملا پی۔اے۔ ایف بیس ڈھاکہ سے اطلاع آئی ہے۔سنا ہے وہاں پشاور سے ایئر فورس کے کمانڈر انچیف نے ہاٹ لائن پر اطلاع دی ہے۔میں نے ڈھاکہ بیس ٹیلیفون کیا اور کہا:”کیا آپ نے امر تسر اور فیروز پور کے متعلق خبر سنی ہے؟“

”جی ہاں“۔ ”کہاں سے اطلاع آئی؟“”ایسٹرن کمانڈ ہیڈ کوارٹر سے“۔جب ڈھاکہ میں اس خوشخبری کا کوئی کھوج نہ مل سکا،راولپنڈی ٹیلیفون کھڑکائے گئے۔وہاں سے بھی اس کی تصدیق نہ ہو سکی،بالآ یہ خبر سرا سر بے بنیاد نکلی۔خوشی کی جو لہر اچانک اٹھی تھی،وہ فوراً یاس میں ڈوب گئی۔اگلی صبح8:30بجے کانفرنس ہوئی۔سبز پن وہیں تھے جہاں پہلے روز تھے۔ریڈیو پاکستان پر کان لگائے کہ شاید کوئی تازہ خبر سننے میں آئے۔وہاں بھی ہربلیٹن میں یہی جملہ سننے میں آتا: ”ہماری بہادر افواج اپنے دمدمے(مٹی کے تھیلوں کی دیواروں سے بنائی عارضی چار دیواری) مضبوط کر رہی ہیں۔“ ایک صاحب نے تنگ آ کر کہا:”انہیں اور بیلچے بھیجوتا کہ جلدی سے یہ کام نپٹا کر آگے بڑھ سکیں“۔6دسمبر کو جنرل نیازی مغربی محاذ سے مایوس ہو چکے تھے۔انہوں نے صبح کی کانفرنس میں جی ایچ کیو سے آمدہ تار کے اقتباسات پڑھوانے بند کر دیئے اور دیوار پر مغربی پاکستان کے نقشے ہٹوا دیئے۔وہ دوبارہ مشرقی پاکستان کے خول میں سمٹ آئے جہاں تاریکیاں ان کا انتظار کر رہی”۔ملک ٹوٹنے کا سانحہ اچھی اور مثبت اطلاعات اور خبروں سے روکنا ممکن نہ تھا پھر وہی ہوا جو حقیقت تھا – زندہ قومیں اپنی ناکامیوں کا جائزہ لے کر آگے کی حکمت عملی تیار کرتی ہیں تاکہ آئندہ کسی ناخوشگوار واقعہ کا سامنا نہ کرنا پڑا۔ غلطی کا جائزہ لینے سے پہلے یہ ماننا ضروری،بلکہ لازمی ہے کہ اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کیا جائے۔ رات کو دن یا دن کو رات کہہ کر ہم اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے سوا کچھ نہیں کررہے۔سانحہ مشرقی پاکستان ہمیں کئی سبق دے گیا جن سے ایک یہ بھی ہے کہ میڈیا آپکی کچھ بڑی کامیابی کو کچھ اور بڑی کرکے یا کم نقصان کو کچھ مزید کم کرکے تو پیش کرسکتا ہے – مگر زمینی حقائق کسی طور تبدیل نہیں کیے جاسکتے ہیں۔ اور جو فصل بوئی جائے وہی کاٹنا پڑتی ہے۔

Comments are closed.