سلطان راہی مرحوم کی زندگی کا یادگار واقعہ

لاہور (ویب ڈیسک) ناصر ادیب نے بتایا کہ سلطان راہی مرحوم سے میری بہت سی یادیں وابستہ ہیں، وہ مجھ سے پیار بھی کرتے تھے اور کبھی کبھار غصہ بھی کر جاتے تھے۔ ان کی یادوں سے جڑے بہت سے واقعات ہیں مگر کچھ باتیں اور واقعات ایسے ہیں جو میں کبھی بھی بھول نہیں سکتا۔معروف ہدایتکار حسن عسکری لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔

ایک مرتبہ شباب اسٹوڈیو میں فلم کی عکاسی ہو رہی تھی، سلطان راہی اور آسیہ کا شاٹ تھا، وہاں پر کچھ نوجوان لڑکے فلم بنتی دیکھنے کے لئے آ گئے اور انہوں نے آسیہ پر کوئی فقرہ کس دیا۔ جس پر سلطان راہی کو غصہ آگیا۔ اس نے ان لڑکوں کو برا بھلا کہا اور پروڈیوسر کے بیٹے نے ایک لڑکے کے منہ پر تھپڑ بھی رسید کر دیا۔ اس کے بعد وہ لڑکے چلے گئے، ہم نے عکاسی جاری رکھی۔ کوئی دس یا پندرہ منٹ گزرے ہوں گے کہ ہم نے دیکھا کہ 15 سے 20 لڑکے ہاتھوں میں ڈنڈے لے کر بھاگتے چلے آرہے ہیں اور مغلطات سے نوازرہے ہیں۔ میں نے دیکھا کہ حسن عسکری کیمرہ مین پروڈیوسر سب بھاگ گئے ہیں۔ آسیہ نے بھی بھاگنا چاہا لیکن سلطان راہی نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا، میں خود بھی سلطان راہی کے پیچھے جا کر کھڑا ہوگیا۔ آسیہ کانپ رہی تھی اور سلطان راہی سے کہہ رہی تھی کہ آغا جی مجھے جانے دیں۔ سلطان راہی کے ہاتھ میں ’’ڈانگ‘‘ تھی۔ سلطان راہی نے اس وقت ایک حقیقی ہیرو کا کردار ادا کیا اور ان لڑکوں کو للکار کر کہا کہ ’’اوئے اگے ودھ کے وخائو تہاڈی ایسی دی تیسی‘‘ اکیلے سلطان راہی نے ان 15سے 20 لڑکوں سے بھڑنا شروع کر دیا۔ ان میں سے 6 یا 7 گر گئے اور باقی بھاگ گئے، وہ حقیقی زندگی میں ایک فلم کا سین لگ رہا تھا۔ اس نے ان بھاگتے لوگوں کو آواز دی اور کہا کہ ’’اس گند نوں وی نال لے کے جائو‘‘ پھر انہوں نے گرے ہوئے لڑکوں کو سہارا دے کر اٹھایا اور وہ چلے گئے۔ سلطان راہی نے ان سے کہا کہ لوگوں کی بیٹیوں کی عزت کرنا سیکھو۔ یہی تو میں فلموں میں سکھاتا ہوں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.