سلیم صافی نےسارا منصوبہ بے نقاب کردیا

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار سلیم صافی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔جینوا معاہدے کے تجربے کی روشنی میں ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ غیرملکی افواج کی موجودگی میں بین الافغان مذاکرات کئے جاتے۔ تب امریکہ اور اس کے اتحادی افغان حکومت کو مجبور کر سکتے تھے جبکہ تالبان پر پاکستان،

ایران، روس اور چین جیسے ممالک کا اثر زیادہ تھا لیکن امریکہ نے تالبان کے ساتھ ایسی ڈیل کی جس کی وجہ سے تالبان فاتح بن کر ابھرے اور اب جس تیزی کے ساتھ افغانستان کے اضلاع ان کی جھولی میں گررہے ہیں تو وہ کیوں کر کسی سیاسی نظام کا حصہ بننے پر تیار ہوں گے۔ ساری پیش رفت ایسے انداز میں ہو رہی ہے کہ جس سے شک جنم لے رہا ہے کہ خود امریکہ کی خواہش ہے کہ تالبان افغانستان پر قابض ہو جائیں یا پھر یہاں پر بدترین بدامنی ہو جائے۔ جنوب کی بجائے چین اور وسط ایشیائی ریاستوں سے متصل صوبوں میں کئی اضلاع پر بغیر مزاحمت کے تالبان کے کنٹرول نے اس تھیوری کو مزید تقویت بخشی۔ اب چین، روس، وسط ایشیائی ریاستوں کے ہاں دوبارہ وہ خدشات جنم لینے لگے کہ جو نائن الیون سے قبل تھے۔ دوسری طرف پاکستان بری طرح پھنس گیا۔ ایک تو تالبان پر اس کا وہ اثر نہیں رہا جو پہلے تھا۔ دوسری طرف امریکہ اور مغربی اتحادی اپنی ناکامی یا پھر بدامنی کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے جارہے ہیں۔ ادھر افغان حکومت امریکہ کی بےوفائی کے تذکرے کی ہمت یا اپنی ناکامیوں کے اعتراف کی بجائے سب الزام پاکستان کو دے رہی ہے۔ اسی طرح مزید مہاجرین کی آمد کا خدشہ ہے لیکن سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ پاکستان میں تالبان پاکستان دوبارہ قوت پکڑے گی اور یہاں تالبانائزیشن کو فروغ ملے گا۔ پاکستان، روس، ایران اور چین اس الجھن کا شکار ہوئے ہیں کہ وہ اس مرحلے پر تالبان کو ناراض کرنے کا رسک لیں یا پھر ان کی ضد کے آگے سرنڈر کر دیں۔ ایک اور چیلنج یہ ہے کہ سوویت یونین کی طرح امریکہ بکھر گیا ہے اور نہ اقتصادی لحاظ سے دیوالیہ ہو گیا ہے۔ اس کی فوج افغانستان سے نکل رہی ہے لیکن امریکہ نہیں نکل رہا۔ افغانستان کو چلانے کے لئے پیسہ اب بھی امریکہ ہی دے گا۔ سوویت یونین کی طرح وہ لاتعلق نہیں ہوگا بلکہ کچھ فاصلے پر خلیج میں اس کے بیس سے زائد فوجی اڈے موجود ہیں۔ وہ فوج نکال کر بھی خطے کی مینجمنٹ کو اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتا ہے۔ اب اس کا بنیادی ہدف چین ہے۔ وہ افغانستان سے فوج کو نکال کر اسے چین اور روس کے لئے درد سر بنانا چاہے گا۔ کچھ عرصہ بعد پاکستان کے آگے لکیر کھینچ دی جائے گی کہ وہ چین کے ساتھ جاتا ہے یا امریکہ کے۔ اگر پاکستان چین کا انتخاب کرتا ہے تو پھرپہلی فرصت میں پاکستان سے باقی محاذوں پر بھی حساب برابر کیا جائے گا اور افغانستان کو بھی اس کے لئے درد سر میں تبدیل کردیا جائے گا۔ تبھی تو میں کئی ماہ سے عرض کرتا رہا ہوں کہ پاکستان، روس، چین اور ایران کو مل کر افغان مسئلے کا حل نکالنا چاہئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *