سلیم صافی نے ببانگ دہل بڑی بات کہہ ڈالی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار سلیم صافی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔ایک نامور تجزیہ کار فرید زکریا نے امریکی حکومت کی ناکامی کی بڑی وجہ یہ بتائی ہے کہ مرکز، ریاستوں اور مقامی حکومتوں میں ہم آہنگی نہیں تھی اور طاقت کے کئی مراکز موجود تھے۔ اب ان

دنوں پاکستان میں طاقت کئی مراکز میں تقسیم ہے اور پتہ نہیں چل رہا کہ کس ناکامی کا ذمہ دار کون ہے؟ سلیم صافی لکھتے ہیں ۔۔۔۔وہاں تو ریاستوں، وفاق اور لوکل گورنمنٹ میں الگ الگ قوانین نے مسئلہ بنا دیا لیکن پاکستان میں تو سرے سے قانون پر عمل ہی نہیں ہورہا۔دوسری وجہ انہوں نے کانگریس کی طرف سے مائیکرو مینجمنٹ بتائی ہے لیکن ہمارے ہاں تو ان دنوں ہر صوبے میں ہر شعبے کی مرکزی اداروں کی طرف سے مائیکرو مینجمنٹ کا عمل زوروں پر ہے۔ تیسری وجہ انہوں نے سرخ فیتے کا کلچر بیان کی لیکن ہم جانتے ہیں کہ امریکہ کی نسبت پاکستان میں سرخ فیتے کا مسئلہ ہزار گنا زیادہ ہے۔چوتھی وجہ انہوں نے ویٹو کریسی بتائی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کچھ افراد یا کسی ادارے کے پاس اتنی طاقت ہو کہ وہ کسی بھی فیصلے یا اقدام کو ویٹو کرسکے۔یہ عمل ان دنوں پاکستان میں اپنے عروج پر ہے۔ بعض افراد اور اداروں کو یہ حیثیت حاصل ہوگئی ہے کہ وہ کسی بھی فیصلے یا اقدام کو اپنی خواہش یا ضرورت کے مطابق ویٹوکرسکتے ہیں۔ تیسرے سبق میں انہوں نے امریکہ کی ناکامی کی جو وجہ بتائی تھی وہ بھی پاکستان میں ان دنوں عروج پر ہے۔ یعنی یہ کہ امریکی حکومت اپنے عوام سے جو ٹیکس جمع کرتی ہے، وہ ڈنمارک کی حکومت کی طرح اسے واپس لوٹاتی نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ڈنمارک کی شرح سے نہیں لیکن پاکستان کے مقابلے میں امریکہ کے اندر ٹیکس عوام کو لوٹانے کی شرح بہت

زیادہ ہے۔اب اگر امریکہ جیسے ملک کے لئے وہ شرح مصیبت بن سکتی ہے تو پاکستان میں تو عوام سے ٹیکس بہت زیادہ لیاجاتا ہے لیکن اس کا چند فی صد بھی واپس ان کی فلاح پر خرچ نہیں کیا جاتا۔یہاں تو المیہ یہ ہے کہ امیر اور غریب سے یکساں ٹیکس لیا جاتا ہے۔ ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ ٹیکسوں کی شرح دیکھی جائے تو شاید ڈنمارک سے بھی زیادہ ہے۔ اسی طرح انہوں نے کامیاب ممالک کے نظام میں جو چار مشترکات(محدود اختیارات لیکن ہر ادارے کے اختیارات کا واضح تعین، بیوروکریسی کی خودمختاری، فیصلہ سازی مخلص اور باصلاحیت لوگوں کے ہاتھ میں ہونا اور غلطیوں سے سیکھنا) بتائی ہیں، وہ اس وقت پاکستان میں عنقا ہیں۔یہاں بعض اداروں اور افراد کے پاس غیرمعمولی اختیار اور طاقت ہے جبکہ اختیارات کا واضح تعین نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت پاکستان کا حکومتی نظام بالکل جام نظر آرہا ہے۔ حکومتی ترجمانوں کی زبانیں چل رہی ہیں لیکن حکومت چلتی ہوئی نظر نہیں آرہی۔اس حکومت کی گاڑی کو ہر طرف سے دھکے بھی لگائے گئے لیکن یہ پھر بھی چلنے کا نام نہیں لے رہی۔ حالانکہ دھکوں اور سہاروں کی بجائے اصل ضرورت مذکورہ بالا خامیوں پر قابوپانے کی ہے۔ مرضی ہے، مرضی کرنے والوں کی لیکن انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ ان خامیوں کے ساتھ اگر امریکہ جیسی سپر پاور ایک وبا کے سامنے ناکام ثابت ہوتی ہے تو پاکستان جو ہر طرف سے بحرانوں کی زد میں ہے، کے لئے ان خامیوں کے ساتھ زیادہ دیر چلنا ممکن نہیں رہے گا۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *