سلیم صافی نے تشویشناک حقائق سامنے رکھ دیے

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار سلیم صافی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔برطانیہ میں نئی شکل اختیار کرنے والا وائرس بھی پاکستان میں گھس آیا ہے لیکن بدقسمتی سے اب کی بار حکومت نے عوام کو مکمل طور پر کورونا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے اور چونکہ حکومت نےاِس

معاملے کو سنجیدہ نہیں لیا اور سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا تو اپوزیشن بھی جواب میں اپنے جلسے جاری رکھے ہوئے ہے۔پچھلی لہر گرمی کے موسم میں آئی تھی اور وائرس کم خطرناک تھا تو حکومت نے لاک ڈائون بھی کیا، کسی حد تک میڈیا بھی آگاہی مہم میں حصہ لے رہا تھا لیکن اب کی بار جب سردی بھی شدید ہے اور وائرس بھی زیادہ خطرناک ہے تو یہ معاملہ حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں۔پچھلی مرتبہ مساجد تک کو تالے لگ گئے تھے لیکن اب کی بار جلسوں کے پنڈال بھرے ہیں۔ حکومت کی غفلت اور نااہلی کا مظاہرہ نہ صرف خیبر ٹیچنگ اسپتال میں آکسیجن نہ ہونے کی وجہ سے نصف درجن افراد کی وفات اور ملک میں نمونیا اور فلو کی ویکسین کی عدم موجودگی سے لگایا جا سکتا ہے۔یہ ویکسین کورونا کا علاج نہیں ہے لیکن چونکہ کورونا سے زیادہ نمونیا کا خطرہ ہوتا ہے یا پھر بخار کی شدید قسمیں جنم لے سکتی ہیں، تو یہ ویکسین کسی حد تک معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔ ہر سال حکومتیں اگست ستمبر کے مہینے میں اِس کی منظوری دے کر مختلف امپورٹرز کے ذریعے آرڈر دیتی تھیں لیکن اب کی بار تبدیلی سرکار ایسا کرنا بھول گئی جس کی وجہ سے اِس وقت ملک میں اِس ویکسین اور بالخصوص فلو ویکسین کا ملنا ناممکن ہے۔ یہی معاملہ دیگر ویکسینز اور جان بچانے والی ادویات کا ہے جبکہ عام ادویات کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔اِسی طرح دنیا کی کم و بیش ہر حکومت نے کورونا کی ویکسین کے آرڈر دے رکھے ہیں لیکن سونامی سرکار آج تک یہ فیصلہ نہیں کرپائی کہ ہم نے کس ملک سے کونسی ویکسین منگوانی ہے؟ اِس تناظر میں عوام سے گزارش ہے کہ وہ حکومتی رویے کو دیکھ کر کورونا کو غیرسنجیدہ نہ لیں۔ حکومت سے کوئی توقع نہ رکھیں، رہنمائی کی، مناسب فیصلوں اور نہ علاج کی۔ خود احتیاط کریں۔شادیاں اگر موخر نہیں ہو سکتیں تو انہیں صرف خاندان کے خاص افراد تک محدود رکھیں۔ ماسک پہننے میں رتی بھر کوتاہی نہ کریں۔ ایک دوسرے سے فاصلہ رکھیں ہاتھ ملانے، گلے ملنے سے گریز کریں۔مریضوں اور عمر رسیدہ افراد کا خاص خیال رکھیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ سب اللہ کے حضور سر بسجود ہوں کہ وہ ہماری قوم اور پوری دنیا کو اس وبا سے نجات دلادے اور جو بیمار ہیں ان کو شفا نصیب کرے۔ آمین!

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *