سلیم صافی نے تہلکہ خیز خبر دے دی

لاہور (ویب ڈیسک) مڈل ایسٹ یا مشرق وسطیٰ کی تبدیلیاں بھی ہمارے لئے نیا چیلنج بن گئی ہیں۔ سعودی عرب اور یو اے ای اب ایران سے زیادہ ترکی کو خطرہ سمجھنے لگے ہیں۔ اِسی تناظرمیں اسرائیل کو تسلیم کیا جارہا ہے بلکہ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ یو اے ای، اسرائیل اور انڈیا اسٹرٹیجک الائنس کرنے جارہے ہیں۔

نامور کالم نگار سلیم صافی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اِسی طرح پاکستان پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لئے دبائو بڑھے گا۔ اِن ملکوں کے ساتھ تعلقات میں توازن پل صراط پر سفر ہے۔ اور اگر عمران خان کی حکومت پر چھوڑا جائے گا تو وہ روایتی افراط و تفریط سے کام لے کر معاملات کو مزید تباہ کردے گی۔یہ وہ چیلنجز ہیں جن کا اِس وقت ملک کو سامنا ہے اور اگر اِن کے مقابلے کے لئے قوم کی اجتماعی ذہانت کو بروئے کار نہ لایا گیا تو اِس ملک کو اندرون خانہ حالات خراب ہونے سے صرف اللہ کا کرم ہی بچا سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اِس وقت ملک میں بدترین غربت اور بےروزگاری کے ساتھ ساتھ بدترین گھٹن بھی جنم لے چکی ہے جو کسی وقت بھی ایک لاوے کی شکل میں پھٹ سکتی ہے اور اِس تباہی کا راستہ روکنے کا اِس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ہنگامی بنیادوں پر گرینڈ قومی ڈائیلاگ کا آغاز کیا جائے جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز شریک ہوں۔سوال یہ ہے کہ اس ڈائیلاگ کا اہتمام کون کرے؟ کیا حکومت کرے؟ نہیں، حکومت نہیں کر سکتی کیونکہ یہ تاریخ کی متنازعہ ترین حکومت ہے۔ تو پھر کیا فوج کرے لیکن فوج کے لئے بھی مناسب نہیں ہوگا کیونکہ وہ نہ صرف ایک ادارہ ہے بلکہ اہم فریق بھی سمجھا جاتا ہے۔ تو پھر کیا عدلیہ کرے؟ میرے نزدیک عدلیہ بھی چونکہ ریاستی ادارہ ہے اور ڈائیلاگ میں فریق بھی، اس لئے شاید عدلیہ کے لئے بھی مناسب نہیں۔میرے نزدیک مناسب ترین فورم سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن ہو سکتا ہے یا پھر ایک کونسل آف ایلڈرز (Elders) تشکیل دی جانی چاہئے جس میں جنرل وحید کاکڑ جیسے ریٹائرڈ فوجی، ایل ایف او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججز، اچھے کردار کے حامل چند بزرگ سیاستدان اور اعلیٰ پائے کے پروفیسر وغیرہ شامل ہوں۔ سوال یہ ہے کہ ڈائیلاگ میں کون شریک ہوں؟ ظاہر ہے اِس ڈائیلاگ میں حکومت، اپوزیشن، فوج اور عدلیہ کو شریک ہونا چاہئے ۔ یہ ڈائیلاگ آئین کے بنیادی ڈھانچے کے دائرے کے اندر ہونا چاہئے ۔ اس کے چار اہداف ہونے چاہئیں::1وجودہ سیاسی بحران کا فوری حل ، انتخابی اصلاحات اور نئے انتخابات کے لئے وقت کا تعین۔ :2ہر ادارے کے کردار کو آئین میں متعین کردہ کردار تک محدود کرنے کے رولزم آف گیم بنانا۔ :3احتساب کا ایسا نظام تشکیل دینا جو سب کا بلاامتیاز محاسبہ کرے۔:4ٹروتھ اینڈ ری کنسیلیشن کمیشن کا قیام، اِس کے طریق کار اور مینڈیٹ کا تعین۔ظاہر ہے یہ تجویز حتمی ہے، نہ اس کا اہتمام کرنے والا فورم اور نہ اس کا مینڈیٹ۔ یہ مجھ جیسے سیاست کے ایک ادنیٰ طالب علم کی خام سی رائے ہے۔ ان میں ہر حوالے سے کمی بیشی ہوسکتی ہے لیکن اب وقت آگیا ہے کہ اس ریاست کو بدتر حالات سے بچانے کے لئے اس ڈائیلاگ کا اہتمام ہو۔

Sharing is caring!

Comments are closed.