سلیم صافی نے زبردست تجاویز پیش کردیں

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار سلیم صافی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔کورونا کا ایک سال گزر گیا ۔ اب دنیا ویکسی نیشن کے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ چین کے اندر ویکسین دسمبر میں لگنا شروع ہوئی جبکہ یہی چینی ویکسین متحدہ عرب امارات ابھی تک لاکھوں شہریوں کو لگا چکا ۔

ہمارے ہاں بے حسی کا یہ عالم ہے کہ آج تک حکومت پاکستان نے کورونا ویکسین خریدنے کے لئے کوئی آرڈرہی نہیں دیا۔جو پانچ لاکھ خوراکیں چین سے پہنچ گئیں اور جس کا اسد عمر ایک طرف تو شاہ محمودقریشی دوسری طرف ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں، چین کی حکومت نے تحفتاً یا بطور خیرات دی ہیں لیکن قیمت ادا کرکے ہم نے چینی کمپنی کو مزید کوئی آرڈر نہیں دیا۔ دوسری خوشخبری آکسفورڈ کی آسٹرازینیکا ویکسین کے ایک کروڑ ستر لاکھ ڈوزز کی سنائی گئی لیکن یہ بھی خیرات ہے جو کوویکس (COVAX) کی طرف سے ملے گی لیکن ابھی یہ معلوم نہیں کہ وہ کب ملے گی؟ جبکہ ہماری حکومت ویکسین خریدنے کی بجائے ممبران پارلیمنٹ کو پچاس پچاس کروڑ روپے سیاسی رشو ت کے طور پر دے رہی ہے ۔اب صورت حال یہ ہے کہ چین کی خیراتی ویکسین کے ساتھ اگر کوویکس کی ویکسین بھی پہنچ جائے تو یہ ٹوٹل ایک کروڑ 75 لاکھ ڈوززبن جائیں گی اور چونکہ ایک بندے کو دو مرتبہ لینی ہو گی اسلئے عملاً یہ 87لاکھ پاکستانیوں کیلئے کافی ہوگی۔ اب سوال یہ ہے کہ باقی اکیس کروڑ پاکستانیوں کا کیا ہوگا؟ کیونکہ ماہرین کہتے ہیں کہ ستر فی صد آبادی کو ویکسین لگ جانے سے قبل کورونا پر قابو نہیں پایا جاسکتا۔ایک تجویز :موجودہ حکومت کبھی بھی اپنے وسائل سے تمام شہریوں کو ویکسین مہیا نہیں کرسکتی ۔ یہ پاکستان کیلئے افسوس کا مقام ہوگا کہ اردگرد کے ممالک ویکسی نیشن کے ذریعے کورونا سے پاک ہوجائیں اور پاکستان میں لوگ اس سے لڑتے اور انتقال کرتے رہیں ۔اس لئےگزارش ہے کہ پاکستان کے صاحبِ ثروت افراد آگے بڑھیں ۔ جاوید آفریدی کی تجویز کے مطابق وہ، ملک ریاض ، میاں منشا، عقیل کریم ڈیڈھی اور اسی طرح کے ارب پتیوں کو ایک خصوصی ویکسین فنڈ قائم کرنا چاہئے ۔اس فنڈز سے ویکسین خرید کر ہر پاکستانی تک اس کی رسائی کو یقینی بنانا چاہئے ۔اگر بل گیٹس پوری دنیا میں یہ نیک کام کرسکتا ہے تو پاکستانی مخیر حضرات اپنے ملک کے شہریوں کی زندگیاں بچانے اور کاروبار بحال کرنے کیلئے ایسا کیوں نہیں کرسکتے؟

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *