سلیم صافی نے مولانا کا گیم پلان سامنے رکھ دیا

لاہور (ویب ڈیسک) ویسے تو پورے پاکستان کے حالات اس وقت نازک ہیں لیکن گلگت بلتستان، قبائلی اضلاع اور بلوچستان کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ ہر جگہ نوعیت مختلف ہے لیکن وہاں ریاست کے خلاف جذبات کو بڑھاوا مل رہا ہے۔ مہاجروں اور سندھیوں کی قیادت کو قابو کر لیا گیا ہے

نامور کالم نگار سلیم صافی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔لیکن مہاجر اور سندھی نوجوان قابو میں یا خوش ہرگز نہیں ہیں۔ ایم کیو ایم کی طرف سے جس طرح کراچی صوبے کا مطالبہ شدت سے دہرایا جانے لگا اور پھر ایک جلوس میں مہاجروں کے خلاف نامناسب نعرے لگوائے گئے، اس سے پتا چلتا ہے کہ نفرتوں کو صرف دبایا گیا تھا، کسی وقت بھی یہ لاوا ابل سکتا ہے۔ ایک پنجاب باقی تھا لیکن اب پنجاب میں بھی مسلم لیگ(ن) کے جلسے جلوسوں میں پی ٹی ایم جیسے نعرے لگنے لگے ہیں۔ معیشت پہلے سے پی ٹی آئی کے بقراط تباہ کر چکے تھے اور رہی سہی کسر کورونا نے پوری کردی۔ یوں مہنگائی اور بےروزگاری نے عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے۔یہ ہیں اس ریاست کے اصل مسائل اور چیلنجز لیکن بدقسمتی سے ملک کو ایسے سیاسی بونوں کے سپرد کردیا گیا ہے کہ جنہیں ان مسائل کا احساس ہے اور نہ سمجھ۔ وہ صرف اپوزیشن کو ملک کا مسئلہ سمجھتے ہیں۔ وہ بھلے ہیں یا برے لیکن حقیقت یہ ہے کہ فرقہ واریت اور ٹی ٹی پی جیسے مسائل سے نمٹنے کیلئے سیفٹی والو کی حیثیت مولانا فضل الرحمٰن اور ان کی جماعت کو حاصل ہے۔ پی ٹی ایم جیسے ایشوز کے بارے میں سیفٹی والو کی حیثیت اسفند یار ولی خان اور محمود خان اچکزئی یا ان کی جماعتوں کو حاصل ہے۔ کراچی کے نوجوان کا ریموٹ آج بھی ایم کیو ایم جبکہ اندرون سندھ کا زرداری کے ہاتھ میں ہے اور یہی پوزیشن پنجاب میں میاں نواز شریف کو حاصل ہے۔ اب ان سب کو بھڑکانے اور بغاوت پر اُکسانے کی کوششیں خود حکومت کررہی ہے۔ بدقسمتی سے اِس معاملے کو نواز شریف، زرداری اور عمران خان کے حوالے سے دیکھا جارہا ہے لیکن اب جب مولانا فضل الرحمٰن بھرپور طریقے سے مذہبی کارڈ استعمال کرکے اپنے لوگوں کو میدان میں اُتاریں گے، ساتھ بلوچ اور پختون قوم پرست ہوں گے اور اوپر سے پی پی پی اور مسلم لیگ(ن) یا پھر صرف مسلم لیگ (ن) کی چھتری ہوگی، تو یہ لوگ کیا اس ریاست کو ہلا نہیں دیں گے۔ پھر اگر وہ اپنی توپوں کا رخ اسلام آباد کے بجائے پنڈی کی طرف رکھیں گے تو کیا فساد نہیں ہوگا؟ اوپر ذکر شدہ مسائل اور چیلنجز کے ہوتے ہوئے جب یہ میدان سجے گا تو خود اندازہ لگالیجئے کہ اس ملک کا کیا حشر ہوگا؟۔ مذکورہ چیلنجز کا تقاضا تو یہ تھا کہ اپوزیشن جماعتوں کے گلے شکوے دور کئے جاتے اور بصد احترام ریاست کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لئے اُن کو تعاون پر آمادہ کر لیا جاتا لیکن ہم ایسی بدقسمت قوم ہیں کہ جوں جوں خطرات بڑھتے جارہے ہیں، توں توں اپوزیشن کو دیوار سے لگا کر بغاوت پر اکسایا جارہا ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *