سلیم صافی نے نام لے کر تہلکہ خیز انکشاف کردیا

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار سلیم صافی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔ شاہ محمود قریشی ہوں،شیخ رشید ہوں، یا ہمارے دفاعی تجزیہ کار ، ایک طرف خوشی کے شادیانے بجارہے ہیں اور دوسری طرف پھر جب پاکستان پر مداخلت یا جانبداری کا الزام لگایا جاتا ہے تو یہ لوگ سیخ پا ہوجاتے ہیں۔

سچ تو یہ ہے کہ ان لوگوں کے ہوتے ہوئے تالبان اور پاکستان کوکسی دشمن کی ضرورت نہیں ۔ جب یہ لوگ اس طرح کے بیانات دیتے ہیں تو ایک طرف تالبان مخالف افغان ناراض ہوجاتے ہیں اور ان کے اس الزام میں وزن دکھائی دینے لگتا ہے کہ پاکستان تالبان کو سپورٹ کررہا ہے اور دوسری طرف خود تالبان ناراض ہوتے ہیں۔ تالبان اس وقت اپنی افغانیت اور خودمختاری کا تاثر دے کر ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ان پر پاکستان کا کوئی اثر نہیں لیکن جب یہ صاحبان اس طرح کے بیانات دیتے ہیں تو وہ اپنے آپ کو پاکستان کے اثر سے آزاد ثابت کرنے کے لئے کوئی بیان دینے یا کوئی قدم اٹھانے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ پاکستان کی طاقتور شخصیات گزشتہ چھ سات ماہ سے ہر حربہ استعمال کرکے تالبان کو سیاسی حل کے لئے آمادہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن تالبان نہیں مان رہے اورادھر ہمارے وزرا اور مذہبی تنظیموں کے رہنما ایسا جشن منارہے ہیں کہ جیسے بیس سالہ لڑائی تالبان نے نہیں بلکہ شاہ محمود قریشی اور عمران خان نے لڑی ہو ۔سب سے عجیب رویہ پاکستان کے مذہبی رہنمائوں، بعض ٹی وی اینکرز اور دفاعی تجزیہ کاروں کا ہے جو پاکستان میں تو جمہوریت چاہتے ہیں لیکن افغانستان میں تالبان کے نظام کے حامی ہیں حالانکہ نبی کریمﷺ نے ایک مومن کی صفت یہ بیان کی ہے کہ وہ اپنے بھائی کے لئے بھی وہی کچھ پسند کرتا ہے جو خوداپنے لئے پسند کرتا ہے ۔اب ان لوگوں کو اپنے ملک میں تو فنون لطیفہ بھی چاہئے اور ہر طرح کی معاشرتی آزادی بھی لیکن وہ افغان بھائیوں کے لئے ایک ایسی حکومت کے متمنی ہیں جس میں ان چیزوں کی کوئی گنجائش نہیں۔ تاہم وہ وقت دور نہیں جب ان سب کی عقل ٹھکانے آجائےگی کیونکہ تالبان ہم پاکستانیوں کی طرح دوغلے پن کا شکار نہیں ۔ ان کے ہاں منافقت نہیں۔ وہ جو نظام اپنے لئے پسند کرتے ہیں، وہی پاکستانی بھائیوں کے لئے بھی چاہتے ہیں اور وہ اپنے اس نظام کا سلسلہ پاکستان تک دراز کرنے میں دیر نہیں لگائیں گے ۔

Comments are closed.