سلیم صافی نے ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی والے ایشو پر ایک اور کہانی بیان کردی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار سلیم صافی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے دست راست اور عمران خان کے ٹربل شوٹر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ چنانچہ دونوں کی یہ مشترکہ خواہش تھی کہ وہ اگلے سال

آرمی چیف کے لئے کوالیفائی کرنے والے چار سینئر لیفٹیننٹ جنرلز کی فہرست میں شامل ہوں۔ آرمی کی روایات اور اب نئے آرمی رولز کے مطابق یہ ضروری ہے کہ انہوں نے کم ازکم ایک سال کور کمانڈ کیا ہو۔چنانچہ آرمی چیف نے اس معاملے پر عمران خان سے مشاورت جولائی میں شروع کی تھی۔ عمران خان نے پہلے یہ تجویز دی کہ آئی ایس آئی کو کور بنادیا جائے لیکن انہیں بتایا گیا کہ ایسا ممکن نہیں۔ اب وزیراعظم کی حیثیت سے عمران خان اپنا حق جتاتے ہیں لیکن آئی ایس آئی کا کور بن جانے کی صورت میں وہ صرف اور صرف آرمی چیف کے زیرکمانڈ رہتا اور اس سے وزیراعظم کا تعلق یکسر ختم ہوجاتا۔ پھر انہوں نے یہ خواہش ظاہر کی کہ دسمبر تک انہیں رکھاجائے لیکن آرمی چیف نے ان پر دوبارہ واضح کیا اور خود جنرل فیض حمید نے بھی انہیں سمجھایا کہ اگر وہ دسمبر میں جائیں گے تو اگلے سال نومبر میں ان کے کورکمانڈ کرنے کی ایک سال کی مدت پوری نہیں ہوئی ہوگی۔ ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ جنرل فیض حمید کی جگہ ان کے ذہن میں اگر کوئی متبادل نام ہے تو وہ بتائیں لیکن ان کا جواب تھا کہ وہ آرمی چیف اور جنرل فیض حمید کے سوا آرمی کی صفوں میں کسی اور جنرل کو نہیں جانتے۔ چنانچہ اس کے بعد اپنے نظام کے مطابق آرمی چیف نے تقرریوں اور تبادلوں کا آغاز کیا اور ستمبر کے اواخر میں یہ فائنل ہوگیا کہ کون کہاں جائے گا؟ خود جنرل فیض حمید نہ صرف مکمل آن بورڈ تھے بلکہ پشاور جانے کے فیصلے پر خوش بھی تھے۔

اعلان سے قبل وہ پشاور کا ایک دورہ بھی کرچکے تھے۔اعلان سے قبل وزیراعظم تو کیا ہم جیسے صحافیوں کو بھی علم تھا کہ جنرل فیض حمید پشاور جارہے ہیں اور ان کی جگہ جنرل ندیم انجم ڈی جی آئی ایس آئی بن رہے ہیں۔ وزیراعظم کو یہ بھی بتایا گیا تھا کہ اکتوبر کے پہلے ہفتے میں یہ کام ہونے جارہا ہے اور بعض صحافی یہ خبر بھی دے چکے تھے کہ فلاں تاریخ کو کورکمانڈر میٹنگ ہوگی اور اس کے اگلے دن آرمی چیف اور وزیراعظم کی ملاقات کے بعد نئی تقرریوں کا اعلان ہوگا۔ٹیلی فونک رابطوں کے علاوہ آئی ایس آئی ہیڈکوارٹر میں بریفنگ کے دوران بھی عمران خان اور جنرل باجوہ اکٹھے شریک رہے لیکن کسی بھی موقع پر عمران خان نے کوئی سوال نہیں اٹھایا۔ چنانچہ 6اکتوبر کو جب آرمی چیف عمران خان سے ملنے کے لئے جارہے تھے تو ان کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ ان کی طرف سے کوئی اعتراض اٹھایاجاسکتا ہے۔ڈی جی آئی ایس آئی کے علاوہ باقی پوسٹنگز سے چونکہ وزیراعظم کا کوئی تعلق نہیں بنتا تھا ، اس لئے ان کی پریس ریلیز آئی ایس پی آر نے پہلے جاری کردی جبکہ ڈی جی آئی ایس آئی کے اعلان کے لئے دو بڑوں کی ملاقات کا انتظار ہونے لگا۔ لیکن پراسرار طور پر خان کا ذہن رات کو یوٹرن کھاچکا تھا تاہم بجائے اس کے کہ وہ آرمی چیف سے صاف کہتے کہ فلاں جگہ اور فلاں وجہ سے ان کی سوچ بدلی ہے ، وہ الٹا بچوں کی طرح ناراض ہوئے۔

دوسری طرف آرمی چیف چونکہ مطمئن تھے کہ سب تقرریوں پر عمران خان کو کوئی اعتراض نہیں اور یہ کہ سب معاملات میں وہ آن بورڈ ہیں، اس لئے ڈی جی آئی ایس آئی کی پریس ریلیز کو بھی پائپ لائن میں رکھا گیا تھا اور ملاقات ہوتے ہی آئی ایس پی آر نے ان کی تعیناتی کی پریس ریلیز بھی جاری کردی۔ادھر عمران خان نے اپنی میڈیا ٹیم کے ذریعے تنازعے اور اپنی ناراضی کی خبر لیک کرادی اور ساتھ ہی کورکمیٹی اور کابینہ کی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا اجلاس طلب کرکے یہ خبر پھیلادی کہ وہ ان فورمز پر اس ایشو کو ڈسکس کریں گے۔ آرمی چیف اور عمران خان کی ملاقات میں تلخی کی خبر سن کر خود جنرل فیض حمید ثانی الذکرکے پاس پہنچےاور سمجھا بجھا کر انہیں بتایا کہ وہ کورکمیٹی اور قومی سلامتی کمیٹی میں لے جاکر اس تنازعے کو طول نہ دیں۔ دونوں فورمزپر ڈسکس نہ کرنے کی حد تک تو انہوں نے جنرل فیض حمید کا مشورہ مان لیا لیکن نوٹیفکیشن کے لئے تیار نہ ہوئے۔ ان کا خیال تھا کہ ماضی کی طرح تنازعہ بنا کر وہ عسکری اداروں کو دبائو میں لے آئیں گے اور آخرمیں مان لیا جائے گا کہ چلو ٹھیک ہے آپ جو چاہتے ہیں کر لیں لیکن انہوں نے یہ نہیں سوچاکہ ماضی کی طرح یہ سیاست کا نہیں بلکہ فوج کے ادارے کے ڈسپلن، روایات اور وقار کا مسئلہ ہے۔ اسی طرح ایک طرف اگر ان کی خواہش تھی تو دوسری طرف پورے ادارے کا وقار تھا۔ جنرل فیض حمید نے دو تین دن تک شٹل ڈپلومیسی کی لیکن جب عمران خان بات نہ مانے تو انہوں نے یہ پیغام دیا کہ وہ مقررہ تاریخ پر پشاور کے

کورکمانڈر کے طور پر چارج لینے جائیں گے اور اگر انہیں روکا گیا تو وہ مستعفی ہوجانے کو ترجیح دیں گے۔ چنانچہ عمران خان کے پاس کوئی راستہ نہیں رہا ، سوائے اس کے کہ جو فیصلے ہوئے ہیں، انہی پرہاں کردیں۔خود عمران خان کے دور میں پہلے لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر اور پھر لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا جب بطور ڈی جی آئی ایس آئی تقرر ہوا تو اس سلسلے میں وزیراعظم کے پاس نہ تو تین ناموں کی سمری آئی اور نہ انٹرویوز ہوئے۔ دونوں مرتبہ آرمی چیف نے فیصلہ کرکے آئی ایس پی آر سے اعلان کروایا۔ چنانچہ اب عمران خان بند گلی میں پھنس گئے ہیں۔ اپنے لئے فیس سیونگ کا راستہ ڈھونڈ رہے ہیں لیکن دوسری طرف فوج اور آئی ایس آئی کو بھی بند گلی میں لے گئے ہیں کیونکہ ایک ایک دن کیا، ایک ایک گھنٹہ فوج کے امیج اور وقار کے لئے بھاری ثابت ہورہا ہے۔ وزیراعظم نے آرمی چیف سے بھی وعدہ کیا ہے اور ثالثی کرنے والے اپنے وزرا سے بھی کہ وہ جنرل ندیم انجم کے نام ہی کی منظوری دیں گے لیکن جب ان سے دستخط کا تقاضا کیا جاتا ہے تو عمران خان چند روز صبر کا کہتے ہیں لیکن اس صبر کی منطق نہ وہ اپنے وزرا کے سامنے پیش کرسکتے ہیں اور نہ ان کے وزرا قوم کو سمجھا سکتے ہیں۔ان حالات میں جب میڈیا والے قیاس کرتے ہیں یا پھر خود ان کے اردگرد لوگوں اور وزرا کی فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق کسی اور دنیا کی طرف اشارہ کرتے ہیں تو ان کے وزرا اور سوشل میڈیا بریگیڈ مغلطات اور دشنام طرازی پر اتر آتے ہیں

Comments are closed.