سلیم صافی کا عمران خان کو بڑا چیلنج

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار سلیم صافی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔آپ گزشتہ برسوں میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہر پاکستانی حکمران کے خطاب کا ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیں تو اس کا بنیادی نکتہ یہی رہا ہے کہ پاکستان نے دنیا کے امن کی خاطر یہ لڑائی لڑ کر قربانی دی

لیکن اسے صلہ نہیں مل رہا۔امریکہ ہر لحاظ سے بھارت کے قریب ہے لیکن صرف اس بنیاد پر پاکستان کی حکومت اس سے کشمیر کے معاملے میں مدد کا تقاضا کرتی رہی اور خود عمران خان صاحب جب پہلی مرتبہ ڈونلڈ ٹرمپ سے ملے تو ان کی ثالثی کی نام نہادپیشکش کو تاریخی کامیابی سے تعبیر کیا اور جب واپس آئے تو ان کا ایسا استقبال کیا کہ جیسے کشمیر فتح کرکے آرہے ہوں۔طالبان کے ساتھ امریکہ کے مذاکرات میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی مدد کے بعد امریکہ کی طرف سے ڈبل گیم کے الزامات میں کمی آئی تھی جبکہ آرمی چیف اور ان کی ٹیم کے حالیہ دورۂ کابل کے بعد افغان حکومت کا الزامات کا سلسلہ تھم گیا تھا لیکن اب ہمارے وزیراعظم نے نہ صرف یہ کہ اسامہ بن لادن کو shaheed کہہ دیا بلکہ پارلیمنٹ کے فلور پر کھڑ ے ہوکر، ملک کے وزیراعظم کے طور پر یہ بھی تاثر دیا کہ وہ تو اس لڑائی کے شروع دن سے مخالف تھے۔اب دنیا کہے گی کہ جس ملک کے وزیراعظم اسامہ کو shaheedسمجھتے ہوں اور اس جنگ کے خلاف ہوں تو کیوں کر اس ملک نے اس جنگ میں صحیح ساتھ دیا ہو گا؟ کل افغان میڈیا میں پاکستان پر ڈبل گیم کے الزام کے لئے ملابرادر کے پاکستانی پاسپورٹ کاتذکرہ زوروں پر تھا اور ایک دن بعد وزیراعظم صاحب نے ایسا مواد فراہم کیا کہ آج پورے امریکہ، مغربی اور انڈین میڈیامیں اسامہ بن لادن کو shaheed کہنے کے وزیراعظم کے بیان سے غلغلہ ہے۔ یقیناً ایبٹ آباد کے واقعے سے پاکستان کی بڑی سبکی ہوئی لیکن اس وقت جو لوگ مختار تھے، ان کا وزیراعظم نے کوئی تذکرہ نہیں کیا۔اس واقعے کی تحقیقات کے لئے کمیشن کے سربراہ ان کے محبوب موجودہ چیئرمین نیب تھے، ان کے اس تحقیقاتی کمیشن کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ پاکستان کے لئے سبکی کا یہ انتظام کرنے کی بجائے یہ اعلان کرلیتے کہ کل میں ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ کو پبلک کررہا ہوں۔وزیراعظم کے بقول ان کو اس واقعے سے شدید تکلیف ہوئی اور یقیناً ہر پاکستانی کو ہوئی تھی تو پھر ہمت کرکے وہ رپورٹ تو سامنے لے آئیںکہ قوم کو پتا چلے کہ کون ذمہ دار تھے اور یہ بھی معلوم ہو کہ موجودہ چیئرمین نیب نے کتنی جرأت اور ہمت کا مظاہرہ کیا ہے؟

Sharing is caring!

Comments are closed.