سلیم صافی کی ایک خصوصی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) جس کے دل میں جو آتا ہے، وہ وڈیو کلپ بنا کر سوشل میڈیا پر چڑھا دیتا ہے جو دوسرے مسلک کے لوگوں کو بھڑکاتا دلاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں بھی چند شرپسندوں نے ایسی حرکتیں کیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ حکومت اپنی ذمہ داری پوری نہیں کررہی بلکہ اس کی صفوں میں بعض افراد

ان شرپسندوں کے پشتی بان پائے گئے۔نامور کالم نگار سلیم صافی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔دوسری طرف جو حکمران ہیں، ان کو ان ایشوز کی نزاکتوں کو علم ہے اور نہ ان کو اپوزیشن اور میڈیا کو لتاڑنے یا قابو کرنے سے فرصت۔ چنانچہ سوشل میڈیا پر ایک ایسی بحث چل نکلی ہے کہ جو فساد پھیلانے کے لئے کافی سے بھی زیادہ ہے۔ دوسری طرف ہمارے تین دوست ممالک بھی اس میدان میں کود پڑے ہیں اور ڈیجیٹل میڈیا میں سرمایہ کاری کے ذریعے وہ اپنے قومی مفادات کی لڑائی اور پراکسی وار کو پوری شدت کے ساتھ پاکستان منتقل کررہے ہیں جو یہاں خطرناک شکل اختیار کررہی ہے۔ انڈیا جیسے مخالفوں نے بلوچستان کے علاوہ اب زیادہ نظریں گلگت بلتستان، بلوچستان، کرم ایجنسی اور کراچی جیسی جگہوں پر جما رکھی ہیں لیکن بدقسمتی سے ان سب جگہوں کو ہمارا مقتدر اور حکمران طبقہ اِس آئینے میں نہیں، بلکہ وقتی سیاسی مفادات کے آئینے میں دیکھ رہا ہے۔ مثلاً گلگت بلتستان میں سابق وزیراعلیٰ حافظ حفیظ الرحمٰن نے بڑی حکمت کے ساتھ اس مسئلے کو قابو کررکھا تھا۔اب سیاسی بنیادوں پر ایک ضعیف بیوروکریٹ کو نگران وزیراعلیٰ بنا دیا گیا ہے جبکہ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ نگران کابینہ کے بعض وزیر پیسے لے کر لگائے گئے ہیں۔ گویا ایک طرف گلگت بلتستان مخالفوں کے نشانے پر ہے اور دوسری طرف ہم نے اس کو ایسے لوگوں کے سپرد کردیا ہے۔ حکومت کی وہاں ترجیح ان مسائل پر توجہ دینا نہیں بلکہ اگلے الیکشن میں سابقہ الیکشن کی تکنیک استعمال کرکے اپنی جیت نظر آتی ہے۔

متحدہ مجلس عمل اور ملی یکجہتی کونسل جیسی تنظیموں کا کردار کئی حوالوں سے قابلِ اعتراض بھی لیکن حقیقت یہ ہے کہ فرقہ واریت کے مسئلے کو کنٹرول کرنے میں ان تنظیموں نے اہم کردار بھی ادا کیا تھا۔اب المیہ یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن اور جماعت اسلامی جیسی تنظیمیں سیاسی عمل سے باہر کردی گئی ہیں جس کی وجہ سے وہ ماضی کی طرح قائدانہ کردار ادا کرنے کو تیار بھی نہیں جبکہ مسئلے کو سرکاری مولویوں یا پھر ان لوگوں کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جو خود فرقہ واریت کے فروغ میں ملوث رہے ہیں۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس وقت خفیہ ایجنسیاں بھی دن رات شر پھیلانے والے ان عناصر کا پیچھا کرتیں اور پولیس کی بھی اولین ڈیوٹی ان لوگوں کی سرکوبی ہوتی لیکن بدقسمتی سے خفیہ ایجنسیوں کا داخلی کام اتنا بڑھ گیا ہے کہ وہ ان ایشوز پر کماحقہ توجہ نہیں دے سکتیں جبکہ پولیس کو تومفلوج کردیا گیا ہے۔ہم بداخلاقی جیسے سنگین مسائل کا تو ذکرکررہے ہیں اور یقیناً فساد فی الارض کے قرآنی قانون کی رو سےبدفعلی و بداخلاقی جیسے جرائم کے لئے سنگین ترین سزائیں تجویز کی جانی چاہئیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اس وقت صحابہ کرامؓ یا پھر اہلِ بیت اطہار کے بارے میں زبان درازی کرتے ہیں، وہ فساد فی الارض کے بدترین شکل کے مرتکب ہورہے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں کہ انہیں اور ان کے سہولت کاروں کو عبرتناک سزائیں دینی چاہئیں۔ قرآن میں سخت ترین اور کسی کو زندگی سے محروم کرنے کی سزا فساد فی الارض پھیلانے والوں کی بیان کی گئی ہے اور جو لوگ اس وقت کسی بھی نیت سے شیعہ سنی فساد کروانا چاہتے ہیں، ان سے بڑا فسادی کوئی نہیں۔ یوں بداخلاقی کے مجرموں سے بھی زیادہ عبرتناک سزائیں ان لوگوں کو ملنی چاہئیں۔یہ اس ملک کے اصل چیلنجز اور مسائل ہیں لیکن نہ کبھی عمران خان کے منہ سے ان کا ذکر سننے کو ملتا ہے، نہ بلاول کے منہ سے اور نہ ہی نواز شریف کے منہ سے۔ بدقسمتی سے جن لوگوں نے، ان شرپسند عناصر سے نمٹنا تھا، وہ سیاستدانوں اور میڈیا کو سیدھا کرنے میں لگے ہیں جبکہ دوسری طرف یہ شرپسند اور ان کے سرپرست دندناتے پھر رہے ہیں۔ اب یہ تاتاریوں کے دھاوے کے وقت کے بغداد والی کیفیت ہے یا نہیں؟

Sharing is caring!

Comments are closed.