سلیم صافی کے جاندار دلائل

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار سلیم صافی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔کسی بھی ایشو پر کسی بھی قیادت کی کامیابی اور ناکامی کا فیصلہ کرتے وقت اس بات کو مدنظر رکھا جاتا ہے کہ اسے حالات کیسے ملے تھے؟ یوں ان حالات کا جائزہ لینا ضروری ہے جن میں آصف زرداری اور نواز شریف کی

حکومتوں نے کشمیریوں کا مقدمہ لڑا اور اب عمران خان لڑرہے ہیں۔زرداری اور نواز شریف کی حکومتوں میں پاکستان کے اندر بدامنی زوروں پر تھی۔دنیا پاکستان کو بہت غلط سمجھ رہی تھی زرداری اور نواز شریف یاپھر جنرل پرویز مشرف کی حکومت میں بھی پاکستان پر بھارت میں دراندازی کا الزام لگ رہا تھا لیکن نواز شریف کی حکومت کے دور سے پاکستان سے حریت پسندوں کے مقبوضہ کشمیر میں جانے کا سلسلہ اس سختی کے ساتھ روک دیا گیا کہ اب بھارت پاکستان کو اس ایشو پر مجرم نہیں بناسکتا۔گزشتہ چند سالوں سے وہ دنیا کے سامنے پاکستان سے مداخلت کا کوئی ثبوت پیش نہ کرسکا۔ جب عمران خان نے اقتدار سنبھالا تو کشمیریوں کی جدوجہد خالص اندرونی اور مظلومانہ جدوجہد بن چکی تھی۔ یوں مظلوم کشمیریوں کے مقدمے کو دنیا میں لڑنا اور ان کی جدوجہد کو مارکیٹ کرنا نسبتا بہت آسان ہوچکا تھا۔5 اگست 2019کے مودی کے ظالمانہ اقدام کے بعد فاروق عبدﷲ، محبوبہ مفتی اور اسی نوع کے دیگر بھارت نواز کشمیری رہنما تاریخ میں پہلی مرتبہ ہندوستان مخالف کیمپ میں آگئے اور یوں تاریخ میں پہلی مرتبہ مقبوضہ کشمیر کی تقریباً تمام قیادت غاصب ہندوستانی سرکار کے خلاف یک زبان ہوگئی۔یوں تاریخ میں پہلی مرتبہ عمران خان کی حکومت کو مقبوضہ کشمیر کی ایسی صورت حال ملی کہ ہر طرح کی کشمیری قیادت، ہندوستان کے خلاف یک زبان تھی۔زرداری اور نواز شریف کی حکومتوں میں امریکہ پاکستان سے شدید ناراض تھا۔زرداری کے دور میں سی پیک کا منصوبہ بنا اور نواز شریف کی حکومت میں اس پر کام کا آغاز ہوا۔ یوں امریکہ کی برہمی عروج پر رہی اور چین کے تناظر میں

اس کی ہندوستان کے ساتھ قربت روز بروز بڑھ رہی تھی۔چونکہ ماضی کی امریکی حکومتوں کی پوزیشن واضح نہیں تھی کہ وہ افغانستان میں کیا چاہتے ہیں، اس لئے پاکستان کی افغان پالیسی بھی مبہم رہی، جس کی وجہ سے پاکستان ڈبل گیم کے الزام کی زد میں رہا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی بار پالیسی واضح کرکے افغانستان سے انخلا کا ارادہ ظاہر کیا اور اس معاملے میں پاکستان سے مدد چاہی۔ پاکستان نے ڈٹ کر مدد کی۔ یوں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے پاکستان کے خلاف الزام تراشی کا سلسلہ رک گیا تھا۔یوں جب عمران خان نے اقتدار سنبھالا تو پہلی مرتبہ یہ خوشگوار تبدیلی آئی تھی کہ talebanسے مصالحت کے معاملے پر امریکہ نہ صرف پاکستان کا محتاج بن گیا تھا بلکہ ٹرمپ سے لے کر زلمے خلیل زاد تک سب پاکستان کے کردار کی ستائش بھی کررہے تھے۔ یوں عمران خان کے پاس یہ موقع تھا کہ افغانستان میں تعاون کے بدلے امریکہ کے ذریعے ہندوستان پر دبائو بڑھاتے لیکن عملا معاملہ الٹ رہا۔اس کے برعکس عمران خان کو وزیراعظم بنانے سے لے کر آج تک سول ملٹری قیادت مکمل طور پر ایک پیج پر ہے۔ یوں زرداری اور نواز شریف چاہتے بھی تو کشمیر کے معاملے پر کوئی قدم نہیں اٹھا سکتے تھے لیکن ایک پیج پر ہونے کی وجہ سے موجودہ سیٹ اپ کے لئے ایسا کرنا آسان تھا اور ہے۔یہ شاندار مواقع خوش قسمت عمران خان کی حکومت کے ہی ہاتھ آئے لیکن بیشتر مواقع ضائع ہوئے اور باقی ماندہ ضائع ہونے جا رہے ہیں۔

Comments are closed.