سلیم صافی کے ساتھ گفتگو میں چوہدری نثار نے سب کچھ کہہ ڈالا

کراچی (ویب ڈیسک) نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں میزبان سلیم صافی سے گفتگو کرتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا ہے کہ نواز شریف سے ملنے کی خواہش کبھی ظاہر نہیں کی،مجھے اس بات پر اطمینان بھی ہے اور فخر بھی ہے کہ میں ایک فوجی خاندان کے بیک گراؤنڈ سے تعلق رکھتا ہوں،

عمران خان نیتاً اچھے انسان اور اچھے لیڈر ہیں ، مگر جب ایک شخص حکومت میں آجائے تو صرف نیت کافی نہیں ہوتی اقدامات بھی ضروری ہیں،ہم قوم نہیں رہے ایک کراؤ ڈ بن گئے ہیں، جب تک ہم قوم نہیں بنیں گے ہم حالات کا مقابلہ نہیں کرسکیں گے۔ میرا ارادہ ہے کہ میں قومی سیاست میں ایک دفعہ پھر متحرک ہوں، اس کی ٹائمنگ کیا ہوگی یہ کہنا قبل از وقت ہے، میں اپنے حلقے میں پچھلے تین سالوں میں متحرک رہاہوں مگر قومی سیاست سے میں نے کنارہ کشی اختیار کی۔ اس کی دو بنیادی وجوہات تھیں، پہلی یہ کہ ایک جماعت جس کو میں نے اپنی ساری زندگی دی اس سے اختلاف ہوا جس کو انہوں نے ضرورت سے زیادہ سنجیدگی سے لیا تو میں نے علیحدگی اختیار کرلی۔جو دوسرا آپشن تھا باوجود اس کے کہ اس آپشن کو جو لیڈ کررہے تھے وہ میرے بچپن کے دوست تھے اور انہوں نے مجھے دعوت دینے میں کوئی کسر نہیں اٹھارکھی، اس آپشن میں پی ٹی آئی اور پی ایم ایل این میں سیاسی مخالفت نہیں تھی یہ تقریباً دشمنی میں تبدیل ہوگئی تھی، میری اقدار اور روایات نے مجھے اجازت نہیں دی کہ ایک جماعت سے اٹھ کر دوسری جماعت میں جاؤں اور اس میں ایک دوسرے کی دشمنی میں جو باتیں ہورہی ہیں اس کو اپنے کانوں سے سنوں ۔ ایک تو یہ وجہ تھی دوسری وجہ یہ تھی کہ اس وقت جو سیاست ہورہی ہے میں اس سے بالکل اتفاق نہیں کرتا، سیاست تو ہو ہی نہیں رہی ہے

سیاست تو نام ہے خدمت کا لیکن آج کل تو مغلطات اور بیہودگی ہورہی ہے، خواہ وہ اسمبلی ہو یا میڈیا میں جب سیاستدان آتے ہیں، میں اس سیاست کا حصہ نہیں بننا چاہتا تھا، میں کوشش کررہا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ نے پھر موقع دیا تو سیاست کی بہتری میں اپنا کردار ادا کرسکوں۔ جب آپ متحرک ہوں گے تو دوبارہ ن لیگ کے پلیٹ فارم سے متحرک ہوں گے؟ اس سوال پر چوہدری نثار نے کہا کہ یہ بھی کہنا ابھی قبل از وقت ہے، میں نے ابھی اس حوالے سے فیصلہ نہیں کیا، تمام آپشنز موجود ہیں جب میں قومی سیاست میں ایکٹو ہوں گا تو آپ کو علم ہوجائے گا۔کوشش تو دور کی بات ہے میں نے میاں نواز شریف سے ملنے کی خواہش کبھی ظاہر نہیں کی، اس کی بہت ساری وجوہات ہیں جن کا میں اس وقت ذکر نہیں کرنا چاہتا۔یہ جھوٹ کا ایک سلسلہ ہے جو چند پیادے گاہے بگاہے کہتے رہتے ہیں، میرا ہمیشہ موقف رہا ہے کہ میں اپنی وضاحت دیتا ہوں، میں نے اس حوالے سے بالکل وضاحت دی تھی ،میں نے نواز شریف کو ٹیلیفون بھی نہیں کیا۔ چوہدری نثار نے کہا کہ عمران خان ایک اپنی طرز کا آدمی ہے مطلب میرے ساتھ اس کا رویہ بہت ہی اچھا رہا ہے، صرف بطور سیاستدان نہیں جب وہ کرکٹر تھا اور دنیا میں اس کی شناسائی اور مقبولیت تھی اس نے اس وقت بھی مجھے بڑی عزت دی۔دوستی اور اکثر و بیشتر عمران خان یہ کہتے تھے کہ میرا اسکول کے زمانے سے ایک ہی دوست ہے اور وہ نثار ہے۔

میری اس کے بارے میں اچھی feelings ہے جو آج بھی موجود ہیں۔چوہدری نثار نے کہا کہ میں نے کوئی آپشن کلوز نہیں کیا ہے، آپ بار بار مجھ سے تصدیق کروانا چاہتے ہیں، اگر ملاقات ہوئی یا نہیں وہ ون ٹو ون تھی تو میں ان کی باتوں کی تصدیق یا تردید نہیں کروں گا، میں اتنا ہی کہوں گا کہ میں پاکستان کا واحد سیاستدان ہوں جس کا عمران خان نے بطور اپوزیشن لیڈر اسٹیج پر چڑھ کر خواہ وہ دھرنے کا اسٹیج تھا یا الیکشن سے پہلے تھی۔اسٹیج پر چڑھ کر مجھے دعوت دی کہ آپ ہماری جماعت میں آئیں، یہ ساری چیزیں میرے ذہن میں ہیں، اس میں بڑی رکاوٹ یہ تھی کہ ن لیگ کے بنانے اور ترقی میں میرا بہت کردار رہا ہے اس کی دشمن جماعت، ایک دشمنی کی صورت تھی مگر اب کافی عرصہ گزر چکا ہے اب میرا ذہن یہ ہے کہ میں کسی ایسی جماعت میں شامل نہ ہوں جو اقتدار میں ہو، اگر اقتدار ہی میرا مقصد ہوتا تو میں وزارت داخلہ کیوں چھوڑتا، اگر اقتدار ہی مقصد ہوتا تو میں ایم پی اے کا حلف کیوں نہ لیتا۔ اگر اقتدار ہی مقصد ہوتا تو میں ان تین سالوں میں پی ٹی آئی جوائن کرچکا ہوتا اور آج کسی اہم عہدے پر ہوتا، جب اقتدار مقصد نہیں ہے تو جب حکومت اپنی مدت پوری کرے گی اور الیکشن کا اعلان ہوگا تو وہ وقت ہوگا جب میں پی ٹی آئی کو consider کروں گا۔ میں کوئی ایسی خبر آپ کو نہیں دوں گا جو بریکنگ نیوز ہو یا جس سے سنسنی پھیلے، آج کل ویسے ہی بہت سنسنی پھیلی ہوئی ہے۔

Comments are closed.