سلیم صافی کے سوال کا چوہدری نثار نے کیا جواب دیا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نجی ٹی وی چینل کے پروگرام جرگہ میں میزبان سلیم صافی سے گفتگو کرتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا کہ میں اس وقت اتنا ہی کہوں گا کہ سب آپشنز اوپن ہیں جب الیکشن کا اعلان ہوگا تو میں فیصلہ کروں گا، اور آپ سے مشورے کے بعد فیصلہ کروں گا۔اللہ تعالیٰ کے کرم

سے ساری زندگی فیصلہ ازخود کیا ہے۔میرے خلاف کوئی اور بات نہیں ہوتی تو یہ چلادی جاتی ہے، مجھے یہ بتائیں میں تقریباً 27سال ن لیگ میں رہا، 1990ء میں جنرل اسلم بیگ نے اسٹریٹجک ڈیفائنس کے حوالے سے بیان دیا جو حکومت کی پالیسی کے خلاف تھا، اس میں صرف چوہدری نثار نے اس کی تردید کی اور کہاکہ آرمی چیف کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ اس کا پبلک اظہار کریں، میرے جنرل اسلم بیگ سے بہت اچھے تعلقات تھے جو اس سے خراب ہوئے۔جنرل آصف نواز سے دو پشتوں سے ہمارا خاندانی تعلق تھا مگر جب انہوں نے نواز شریف کی اجازت کے بغیر کراچی میں ایکشن کیا، انہیں سندھ میں جرائم کے خلاف ایکشن کی اجازت تھی انہوں نے ایکشن ایم کیو ایم کے خلاف کردیا، اس وقت صرف میں بولا ان کے اور انقلابی دوست کہاں تھے، کوئی بولا ہو تو مجھے بتائیں۔جنرل مشرف سے میری اس وقت سے واقفیت ہے جب وہ کرنل تھے، جب وہ آرمی چیف بنے تو میں آٹھ سال ضد لگا کر بیٹھا رہا، میں اپنے حلقے کے لوگوں کو کہتا تھا کہ یہ آٹھ سال کا روزہ ہے، جتنے بھی سال کیونکہ اس وقت تو نہیں پتا تھا کہ یہ آٹھ سال رہیں گے اور میں کہاں کہاں تک ا ن کی مخالفت میں نہیں گیا۔جنرل پاشا میری بے انتہا عزت کرتے تھے بڑے اچھے انسان اور جنرل تھے، صرف ایک اصول پر کہ میری پارٹی یہ سمجھتی تھی کہ یہ ہمارے مخالف ہیں میں کہاں تک نہیں پہنچا، میری گزارش ہے کہ

ان کے جوا نقلابی دوست ہے وہ تب بات کرتے ہیں جب موسم ٹھیک ہو، جب موسم خراب ہو تب تو کوئی بات نہیں کرتا، اگر میں اتنی اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر ، ابھی ہمارے دور حکومت میں ایک ٹوئٹ آیا۔جو موجودہ آرمی سیٹ اپ ہے ان کا ٹوئٹ تھا “Rejected” اس پر جواب نہ وزیراعظم کا آیا نہ ان کے کسی اور انقلابی وزیر کا آیا، میں نے اس پر جواب دیا اور کہا کہ یہ کوئی طریقہ نہیں ہے حکومت وقت سے کسی ادارے کا مخاطب ہونا، میں نے یہ بھی کہنا کہ یہ جمہوریت کیلئے خطرناک ہے، مجھے کسی کو صفائی دینے کی ضرورت نہیں ہے،مجھے اس بات پر اطمینان بھی ہے اور فخر بھی ہے کہ میں ایک فوجی خاندان کے بیک گراؤنڈ سے تعلق رکھتا ہوں، صرف میرے بھائی نہیں میرے دادا فوجی تھے، میرے والد فوجی تھے، میرے ایک بھائی فوجی تھے۔چار میں سے تین میرے بہنوئی فوجی تھے اور اب چوتھی جنریشن ہے، مجھے آج تک یاد ہے مشرف دور میں یہاں امریکا کے ایک ایمبیسٹڈر مسٹر کروکر تھے مجھے ملنے آئے ، جیسے ہی میں گاڑی میں جارہا ہوں تو مجھے کہتے ہیں میں اسٹڈی کررہا ہوں کہ کسی پاکستانی سیاستدان کا فوج کے حوالے سے اتنا اسٹرونگ بیک گراؤنڈ نہیں ہے جو آپ کا ہے۔میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اتنا قریبی تعلق ہونے کے باوجود میں نے میاں نواز شریف اور پی ایم ایل این کو جہاں بھی مسئلہ درپیش آیا میں نے آواز اٹھائی۔سلیم صافی کے اس سوال پر کہ ایک دور آپ نے skip کیا جنرل راحیل شریف کا، وہ مشکل دور تھاجب عمران خان اور طاہر القادری دھرنوں کیلئے آئے تھے،

خود عمران خان کہتے تھے کہ میں نے چوہدری نثار سے وعدہ کیا ہے کہ میں آبپارہ سے آگے نہیں جاؤں گا، آپ نے پھر ان کو آبپارہ سے آگے پارلیمنٹ تک کیوں جانے دیا؟ چوہدری نثارنے کہاکہ صافی صاحب میرے پاس بیہودگی کا کوئی علاج نہیں ہے، یہ چیز سچ اور جھوٹ میں تفریق ڈالنا کوئی مشکل نہیں ہے، اس وقت کی آپ ٹی وی کی کلپس نکال لیں، اخبارات نکال لیں، میں ایک قدم بھی پی ٹی آئی اور قادری صاحب کو ادھر سے آگے جانے کی اجازت دینے کے حق میں نہیں تھا جہاں میں نے دی، میں نے پرائم منسٹر ہاؤس سے اٹھ کر جاکر ایف سی، رینجرز اور پولیس کو کہا کہ آپ ایکشن شروع کریں، میں پنجاب ہاؤس پہنچا تو پیچھے پرائم منسٹر نے پی ٹی آئی اور طاہر القادری کو ریڈ زون میں داخلے کی اجازت دیدی، میں نے تواس پر استعفیٰ دیدیا تھا۔آپ فواد حسن فواد سے پوچھیں میرے پاس اب بھی اس استعفے کا ریکارڈ ہے، میں تو ان کوآگے آنے کی اجازت دینے کے حق میں نہیں تھا یہ تو وزیراعظم نے اجازت دی، ریکارڈ نکالیں کسی کی بات نہ سنیں نہ میری سنیں نہ یہ بیہودہ لوگ جو پراپیگنڈہ کرتے ہیں ان کی بات سنیں۔ سلیم صافی: وزیراعظم نے یہ کس کے ذریعہ کیا اپنے انٹریئر سیکرٹری کے ذریعہ؟ چوہدری نثار: مجھے نہیں پتا ایم ایس کے ذریعہ کیا یا اسٹاف کے ذریعہ کیا۔ انہوں نے پولیس اور ایف سی کو ایکشن سے روک دیا حالانکہ ایکشن شروع ہوچکا تھا۔ سلیم صافی: یعنی معاملہ الٹ تھا، آپ ان کو نہیں آنے دے رہے تھے وزیراعظم نے آنے دیا، اس پر آپ نے احتجاجاً استعفیٰ دیا؟

چوہدری نثار: استعفیٰ دیا جس کا ریکارڈ اب بھی میرے پاس ہے، میں نے فواد حسن فواد کو پنجاب ہاؤس بلا کر کہا کہ یہ میرا استعفیٰ ہے، میں کچھ اور وہاں فیصلہ کرا کے آیا ہوں میں ادھر پہنچا ہوں تو ایک اور فیصلہ ہوگیا ہے تو میں اس پر استعفیٰ دینا چاہتا ہوں۔ سلیم صافی: استعفے میں ریزن بھی یہی تھا کہ میں انہیں آنے نہیں دے رہا تھا اور وزیراعظم نے مجھے بائی پاس کیا؟ چوہدری نثار: استعفیٰ تو وہی تھا بالکل، اسی لیے تو میں نے استعفیٰ دیا تھا۔ سلیم صافی: ایک اور دورجو جنرل کیانی کا دور تھا، بار بار میڈیا میں بھی ذکر ہوتا ہے کہ آپ اس وقت جبکہ بظاہر اپوزیشن میں تھے تو آپ راتوں کو چپکے چپکے جاکر جنرل کیانی سے کیوں ملتے رہے؟ چوہدری نثار: یہ بھی ایک ہوائی باتیں ہیں جو بنالی جاتی ہیں اور بار بار دہرائی جاتی ہیں کہ چھپ چھپ کر ملتے تھے، میں اپوزیشن لیڈر تھا ، میاں شہبازشریف چیف منسٹر پنجاب تھے، بہت سارے ایشوز تھے جنرل مشرف کے بعد، ابھی جنرل مشرف صدر تھے۔پہلی ملاقات تب ہوئی اور صرف ہمارے سے نہیں ہوئی تمام سینئر لیڈرز سے ہوئی، میں نام کسی کا نہیں لینا چاہتا مجھے علم ہے جو تمام چھوٹی پارٹیوں کے بھی لیڈرز تھے ان کی بھی جنرل کیانی سے علیحدہ علیحدہ ملاقات ہوئی اور وہ ایشو تھا جنرل کیانی رول ادا کرنا چاہتے تھے، جنرل کیانی اب بھی حیات ہیں بڑے آنریبل آدمی ہیں ان سے اس بات کی تصدیق ہوسکتی ہے۔میٹنگ اس حوالے سے ہوئی کہ جنرل کیانی چاہتے تھے کہ ایک گڈ ول جیسچر کے طور پر کہ مواخذہ نہ ہو

اور جنرل مشرف خود استعفیٰ دیدیں اور اس کیلئے انہوں نے رول ادا کیا، اس میں تمام پولیٹیکل پارٹیوں سے ملے، میں ن لیگ کا اپوزیشن لیڈرتھا، شہباز شریف وزیراعلیٰ پنجاب بھی تھے اور نوا ز شریف کے بھائی بھی تھے اس حوالے سے ہم سے بھی ملاقات ہوئی۔ہمیں اس بات پر اتفاق تھا کہ اگر وہ استعفیٰ دیدیں تو ہم مواخذہ نہیں کریں گے، انہوں نے استعفیٰ دیدیا اور گھر چلے گئے۔ سلیم صافی: یہ جنرل کیانی نے تجویز دی تھی کہ آپ مواخذہ نہ کریں وہ استعفیٰ دیدیں گے؟ چوہدری نثار: ہاں، ان کا اپنا ایک طریقہ ہوتا ہے بات کرنے کا مگر اس ایشو پر تمام سیاسی جماعتوں کے ہیڈز سے جنرل کیانی نے بات کی، ایک رول ادا کیا اور یہ معاملہ افہام و تفہیم سے ہوگیا۔ظاہر ہے حکومت کے ساتھ بھی مل کر بات ہوئی ہوگی، اس کے علاوہ تین چار اور مواقع آئے، ایک جب ساؤتھ وزیرستان پر ایکشن ہونا تھا، انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے، کیونکہ جنرل کیانی ایسے آرمی چیف تھے جو consensus سے آگے بڑھتے تھے political اور military کے تو انہوں نے اعتماد میں لیا۔ نارتھ وزیرستان میں وہ ایکشن کرنا چاہتے تھے اس پرا نہوں نے اعتماد میں لیا، چوتھی مجھے یاد ہے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کا بل پیش ہوا، میں اپوزیشن لیڈر تھا میں نے اس کی مخالفت کی، میں نے کہا یہ قانونی طور پر صحیح نہیں ہے، اس پر انہوں نے مجھے اورچونکہ وہ بل پنجاب میں تھا تو شہباز شریف کو بلایا، اسی میٹنگ کے نتیجے میں ایک کمیٹی بنی، ہماری طرف سے زاہد حامد اس کمیٹی میں تھے ان کی طرف سے کوئی بریگیڈیئر صاحب تھے،پھر اس کو فائن ٹیون کر کے دونوں طرف سے ٹھیک کرکے وہ اسمبلی میں پیش کیا گیا۔جب میری پہلی یا دوسری ملاقات ہوئی تو یہ ایک انگریزی اخبار میں رپورٹ ہوا، میں نے دوسر ے دن صبح اسمبلی میں اٹھ کر کہا کہ ہاں، بالکل ملاقات ہوئی ہے مگر اس میں حکومت کے خلاف کوئی بات نہیں ہوئی نہ ہوگی، میں نے ساتھ یہ بھی کہا کہ اسٹیبلشمنٹ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ ہے خدانخواستہ کسی غیرملک کی تونہیں ہے، اسٹیبلشمنٹ ایک مثبت کردار ادا کررہی ہے، ہم اپوزیشن میں ہیں نہ کبھی ہم نے نہ کبھی انہوں نے حکومت وقت کو غیرمستحکم کرنے کے حوالے سے کوئی بات کی ہے۔

2 responses to “سلیم صافی کے سوال کا چوہدری نثار نے کیا جواب دیا ؟”

  1. S.K. Bandiyal says:

    جنرل آصف نواز سے دو پشتوں سے ہمارا خاندانی تعلق تھا مگر جب انہوں نے نواز شریف کی اجازت کے بغیر کراچی میں ایکشن کیا، انہیں سندھ میں جرائم کے خلاف ایکشن کی اجازت

    Issi liye tho Nawaz Sharif kehtha hay k Vote ko izzat Dow.