سلیم صافی کے پروگرام جرگہ میں افغان وزیرتعلیم نے اصل کہانی بیان کردی

کراچی (ویب ڈیسک) افغانستان کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مولوی عبدالباقی حقانی نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں میزبان سلیم صافی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارا نظام خواتین کی تعلیم کیخلاف نہیں ہے ہم صرف غیرشرعی طریقوں کیخلاف ہیں،افغانستان کے تعلیمی اداروں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے ،

افغانستان میں تعلیمی اداروں کی بحالی کیلئے پاکستانی سفارتکاروں سے ملاقاتیں کی ہیں، اس حوالے سے عنقریب مفاہمتی یادداشت بھی سامنے آئیں گی، پاکستان اور افغانستان تعلیمی میدان میں ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کریں گے،پاکستان کے اساتذہ افغانستان جبکہ افغانستان کے اساتذہ پاکستان آئیں گے ،افغانستان کے تعلیمی اداروں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے تاکہ ہم دنیا کے برابر آسکیں، اعلیٰ تعلیمی میدان میں مدد حاصل کرنے کیلئے پاکستان سے تعاون چاہتے ہیں۔ مولوی عبدالباقی حقانی کا کہنا تھا کہ کثیر تعداد میں افغان طلباء پاکستانی تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں، میرے دورہ پاکستان کا مقصد ان کو درپیش مشکلات کا حل بھی تلاش کرنا ہے، افغان طلباء کو وظیفہ مل جاتا ہے مگر موقع پر ویزہ نہیں ملتا ہے اور جب ویزہ مل جائے تو سرحد پر مشکلات پیش آتی ہیں، عالمی وبا کی وجہ سے تمام افغان طلباء کو قرنطینہ کیا جاتا حالانکہ بیمار کوئی ایک طالب علم ہوتا ہے، ہماری گزارش ہے کہ جو طلباء صحت مند ہیں انہیں اپنے ادارے میں جاکر تعلیم جاری رکھنے کا موقع دیا جائے، افغان طلباء کو یہ بھی شکایت ہے کہ چار سمسٹر گزرنے کے بعد بھی انہیں وظیفے جاری نہیں کئے گئے، ایک اہم بات یہ ہے کہ افغان طالب علم کو معمولی بات پر پولیس تنگ کرتی ہے، کسی افغان طالبعلم سے کوئی جرم سرزدہوجائے تو افغان سفارتخانے اور قونصل خانوں کے ذریعہ معاملہ حل کیا جائے۔ مولوی عبدالباقی حقانی نے کہا کہ پاکستان میں اعلیٰ تعلیمی حکام سے افغان طلباء کے اسکالرشپ کے مسائل پر بھی بات ہوئی ہے،

پہلے سالانہ ایک ہزار اسکالر شپس دی جاتی تھیں جس میں ہم نے 500کا اضافہ کروایا ہے اسے مزید بڑھانے کی ضرورت ہے، افغانستان کی یونیورسٹیوں میں مخلوط نظام تعلیم اور بے حجابی رائج ہوگئی تھی جو اسلامی اقدار سے متصادم ہے، شرعی حدود برقرار رکھنے کی شرط پر نجی اسکولوں اور یونیورسٹیوں کو کھولنے کی اجازت دیدی ہے، اس وقت 150نجی درس گاہیں کھلی ہوئی ہیں جن میں خواتین اور مرد الگ الگ تعلیم حاصل کررہے ہیں،تالبان کو خواتین کی تعلیم سے کوئی مسئلہ نہیں البتہ ضروری ہے وہ اسلامی اصولوں سے متصادم نہ ہو اورافغان روایات کے مطابق ہوں۔مولوی عبدالباقی حقانی کا کہنا تھا کہ افغانستان میں سرکاری درس گاہیں بند ہونے کی وجہ معاشی مشکلات ہیں، سرکاری یونیورسٹیوں پر سالانہ دس ملین خرچ ہوتا ہے، موجودہ مالی بحران میں حکومت یہ بوجھ برداشت نہیں کرسکتی، سرکاری درسگاہوں میں اسلامی اور افغان روایات کے مطابق تعلیمی عمل شروع کرنے کیلئے علماء کی کمیٹی تشکیل دے رہے ہیں، ہمارا نظام خواتین کی تعلیم کیخلاف نہیں ہے ہم صرف غیرشرعی طریقوں کیخلاف ہیں، ہم جدید تعلیم کے مخالف نہیں ہیں موجودہ یونیورسٹیوں میں زیادہ تر حصہ جدید تعلیم کا ہے،ملک کی ترقی اور اسلامی نظام کی بقا بھی جدید تعلیم کے حصول میں ہے، میں نے اپنے بیان میں صرف دینی تعلیم کے حصول کی اہمیت پر زور دیا تھا، نوجوانوں کو پیغام دینا چاہتا تھا کہ عصری تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم بھی حاصل کریں۔ مولوی عبدالباقی حقانی کا کہنا تھا کہ علمی شخصیات اور سابق وزراء کو اطمینان دلایا ہے کہ تعلیمی اداروں میں کوئی تبدیلی نہیں لارہے ہیں، ہم نے اقتدار میں آکر دیگر اداروں میں بہت تبدیلیاں کیں مگر یونیورسٹیوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی، تکنیکی اداروں میں ان کے اپنے ہی شعبے کے سربراہان مقرر کئے گئے ہیں، ہمارے جو بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ باہر ہیں ان کیلئے افغانستان میں بندوبست کررہے ہیں کہ وہ افغانستان آکر اپنے لوگوں کی خدمت کریں، او آئی سی کے تحت جلال آباد میں عالمی یونیورسٹی کا کام سست روی کا شکار ہے۔

Comments are closed.