سنجیاں ہوون گلیاں وچ مرزا یار پھرے ۔۔۔۔۔

کراچی (ویب ڈیسک)ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سیکریٹری جنرل ن لیگ احسن اقبال نے کہا ہے کہ عمران خان اپنے کچھ دوستوں کو سینیٹ میں لانا چاہتے ہیں،ماہر قانون رشید اے رضوی نے کہا کہ حکومت کو 2018 ءمیں ہارس ٹریڈنگ کے بعد اس پرکام شروع کردینا چاہئےتھا،

میزبان شاہزیب خانزادہ نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ سامنے آنے والی ویڈیو پر اب تک تنازع برقرار ہے۔ سیکریٹری جنرل ن لیگ احسن اقبال نے کہا کہ اوپن بیلٹ کیلئے آئینی ترمیم ریفارم نہیں فرینڈز آف عمران خان پیکیج ہے، اگر یہ واقعی ریفارمز ہوتیں تو ہم اس کی حمایت کردیتے، عمران خان اپنے کچھ دوستوں کو سینیٹ میں لانا چاہتے ہیں مگران کی اپنی پارٹی نہیں مان رہی، 2018ء سینیٹ الیکشن میں پیسے لینے کی ویڈیو خاص اس وقت جاری کی گئی جب سپریم کورٹ میں یہ مسئلہ اٹھایا ہوا ہے، عمران خان کے پاس ڈھائی سال سے ویڈیو تھی تو پہلے کیوں نہیں جاری کی، حکومت نے ویڈیو جاری کر کے سپریم کورٹ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ عمران خان کے بیانات میں تضادات واضح ہیں، 2018ء میں کہتے تھے میرے پاس ویڈیو ہے آج کہتے ہیں مجھے ویڈیو کا معلوم ہی نہیں تھا، وزیراعظم اپوزیشن کو اوپن بیلٹ کیلئے نہ ماننے کی صورت میں ہارس ٹریڈنگ کی وارننگ دے رہے ہیں، عمران خان شفاف ہیں تو اپوزیشن کے ان 14ارکان کے نام بتائیں جن سے چیئرمین سینیٹ کی تحریک عدم اعتماد میں ووٹ حاصل کیے تھے۔احسن اقبال نے کہا کہ سینیٹ الیکشن کیلئے آئینی ترمیم سپریم کورٹ کی رولنگ یا صدارتی آرڈیننس سے ممکن نہیں ہے، حکومت کا رویہ ہے میٹھا میٹھا ہپ ہپ کڑوا کڑوا تھو تھو، اپوزیشن جامع انتخابی اصلاحات چاہتی ہے لیکن حکومت اسے کارپٹ کے نیچے رکھ رہی ہے، عمران خان کے مفادات ہوں تو اصول کا جھنڈا بلند کردیتے ہیں جب مفادات نہیں ہوں تو اصول بغل میں ڈال لیتے ہیں، عمران خان اوپن بیلٹ کی بات اصول پر نہیں اپنے دوستوں کو سینیٹ میں لانے کیلئے کررہے ہیں۔ ماہر قانون رشید اے رضوی نے کہا کہ سینیٹ الیکشن میں اوپن بیلٹ کا معاملہ سیاسی تھا جسے حکومت سپریم کور ٹ لے آئی، حکومت کو 2018ء کے سینیٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کے بعد اس پر کام شروع کردینا چاہئے تھا، ترمیم میں تیسری شق بہت عجیب ہے جس میں الیکشن کمیشن کو پارٹی سربراہ کو بیلٹ پیپر دکھانے کا پابند بنایا گیا ہے، ایسا ہوگیا تو پاکستان دنیا کا پہلا ملک ہوگا جہاں بیلٹ پیپر پر نام بھی لکھا جائے گا۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *