سپریم کورٹ آف پاکستان نے اہم ترین کیس کا فیصلہ سنا دیا

لاہور (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان نے معاونین خصوصی اور مشیروں کی تعیناتی کے خلاف دائر کی جانیوالی اپیل کو مسترد کر دیا ۔ تفصیلات کے مطابق معاونین خصوصی اور مشیروں کی تعیناتی کے حوالے سے دائر درخواست پر سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے اپیل مسترد کردی ۔

چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے سماعت کرتے ہوئے کہا کہ اپیل خارج کرنے کی وجوہات تفصیلی فیصلے میں جاری کی جائیں گی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ ذلفی بخاری کیس میں معاونینِ خصوصی کے حوالے سے اصول طے کر چکی ہے، ذلفی بخاری کیس میں سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ دہری شہریت والا معاونِ خصوصی بن سکتا ہے۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ وزیرِ اعظم اپنی معاونت کیلئے معاونین مقرر کر سکتے ہیں، وزیرِ اعظم کسی بھی ماہر کی معاونت حاصل کرسکتے ہیں۔ درخواست گزار نے کہا کہ معاونینِ خصوصی سروس آف پاکستان کے تحت نہیں آتے، کابینہ میں وزراء اور 5 مشیر رکھنے کی اجازت ہے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ہائی کورٹ میں آپ نے صرف دہری شہریت کا نکتہ اٹھایا تھا، دہری شہریت والوں کی ملک سے وفاداری پر شک نہیں کیا جا سکتا، آئین اور قانون معاونینِ خصوصی کی تعیناتی سے نہیں روکتا، آئین میں جس کام پر پابندی نہ ہو اس کے کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔ چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے یہ بھی کہا کہ معاونِ خصوصی کا ذکر آئین اور رولز دونوں میں موجود ہے۔

Comments are closed.